اے ڈی بی 2035 تک نئی توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر انیشی ایٹو میں 70 ارب ڈالر کی معاونت کرے گا
اے ڈی بی 2035 تک نئی توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر انیشی ایٹو میں 70 ارب ڈالر کی معاونت کرے گا
اسلام آباد۔3مئی (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) 2035 تک نئی توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر انیشی ایٹو میں 70 ارب ڈالر کی معاونت کرے گا۔ اس کا مقصد ایشیا اور پیسیفک میں پاور گرڈز کو جوڑنا، سرحد پار بجلی کی تجارت کو وسعت دینا اور براڈ بینڈ رسائی کو بہتر بنانا ہے۔اے ڈی بی کے صدر ماسوتا کانڈا نے کہا کہ توانائی اور ڈیجیٹل رسائی اس خطے کے مستقبل کا تعین کریں گی۔
یہ دونوں اقدامات ان نظاموں کی تعمیر کر رہے ہیں جن کی ایشیا اور پیسیفک کو ترقی، مقابلہ اور رابطے کے لیے ضرورت ہے۔ پاور گرڈز اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو سرحدوں کے پار جوڑ کر ہم لاگت کم کر سکتے ہیں، مواقع بڑھا سکتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو قابلِ اعتماد بجلی اور ڈیجیٹل رسائی فراہم کر سکتے ہیں۔
پین ایشیا پاور گرڈ انیشی ایٹو قومی اور ذیلی علاقائی پاور سسٹمز کو جوڑے گا تاکہ قابلِ تجدید توانائی سرحدوں کے پار پہنچ سکے، جبکہ ایشیا پیسیفک ڈیجیٹل ہائی وے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی خلا کو کم کرے گا اور خطے کو اے آئی کی محرک ترقی سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے گا۔پین ایشیا پاور گرڈ انیشیٹو کے تحت اے ڈی بی حکومتوں، یوٹیلیٹیز، نجی شعبے اور ڈیولپمنٹ پارٹنرز کے ساتھ مل کر 2035 تک 50 ارب ڈالر جمع کرے گا تاکہ سرحد پار پاور انفراسٹرکچر بنایا جا سکے جو بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کو کھول سکے۔یہ انیشیٹو ٹرانسمیشن اور گرڈ انٹیگریشن پر توجہ دے گا، جس میں سرحد پار لائنز، سب سٹیشنز، سٹوریج اور گرڈ ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔
یہ بجلی کی تجارت سے منسلک پاور جنریشن، قابلِ تجدید توانائی برآمدگی کے پروجیکٹس، علاقائی قابلِ تجدید ہبز اور ہائبرڈ جنریشن سٹوریج سہولیات کی بھی حمایت کرے گا۔2035 تک اے ڈی بی کا ہدف سرحدوں کے پار تقریباً 20 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کو یکجا کرنا، 22,000 سرکٹ کلومیٹر ٹرانسمیشن لائنز جوڑنا، 20 کروڑ لوگوں کی توانائی رسائی بہتر کرنا، 840,000 نوکریاں پیدا کرنا اور علاقائی پاور سیکٹر کے اخراج میں 15 فیصد کمی لانا ہے۔
اے ڈی بی اس 50 ارب ڈالر کے انیشیٹو کا تقریباً آدھا حصہ اپنے وسائل سے فنانس کرے گا اور باقی کو مشترکہ فنانسنگ کے ذریعے بشمول نجی شعبے سے اکٹھا کرے گا۔ 1 کروڑ ڈالر تک کی تکنیکی معاونت ریگولیشنز کو ہم آہنگ کرنے، مشترکہ تکنیکی معیار اپنانے، فزیبلٹی سٹڈی تیار کرنے اور بڑے پروجیکٹس کے لیے درکار دیگر کاموں میں مدد دے گی۔پین ایشیا پاور گرڈ انیشیٹو ملک سے ملک کے توانائی روابط سے ہٹ کر علاقائی سطح پر پاور ٹریڈ کے نقطہ نظر کی طرف منتقلی کی نشان دہی کرتا ہے۔
یہ موجودہ ذیلی علاقائی تعاون انیشیٹوز پر مبنی ہے، جن میں ساؤتھ ایشیا سب ریجنل اکنامک کوآپریشن پروگرام، بے آف بنگال انیشیٹو،آسیان پاور گرڈ اور سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن انرجی اسٹریٹیجی 2030 شامل ہیں۔ایشیا پیسیفک ڈیجیٹل ہائی وے 2035 تک 20 ارب ڈالر جمع کرے گا تاکہ ڈیجیٹل کوریڈورز، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی معیشتوں کو فنانس کیا جا سکے۔
سرمایہ کاری کنیکٹڈ انفراسٹرکچر پر ہو گی، جس میں زمینی اور سب سی فائبر نیٹ ورکس، سیٹلائٹ لنکس اور علاقائی ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ اے ڈی بی سائبرسیکیورٹی رسک مینجمنٹ سمیت پالیسی اور ریگولیٹری سپورٹ بھی دے گا اور ڈیجیٹل اور اے آئی تیاری کو مضبوط کرنے کے لیے ہنر مندی پروگراموں میں سرمایہ کاری کرے گا۔2035 تک یہ انیشیٹو 20 کروڑ لوگوں کو پہلی بار براڈ بینڈ رسائی فراہم کرے گا اور خطے میں مزید 45 کروڑ لوگوں کو تیز اور زیادہ قابلِ اعتماد ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی دے گا۔
توقع ہے کہ دور دراز اور لینڈ لاکڈ علاقوں میں کنیکٹیویٹی لاگت تقریباً 40 فیصد کم ہو جائے گی اور 40 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی۔اے ڈی بی اس 20 ارب ڈالر کے انیشیٹو میں سے 15 ارب ڈالر اپنے وسائل سے فنانس کرے گا اور 5 ارب ڈالر مشترکہ فنانسنگ کے ذریعے اکٹھا کرے گا۔سینٹر فار اے آئی انوویشن اینڈ ڈویلپمٹ سیئول میں قائم کیا جائے گا جو اس انیشیٹو کی معاونت کرے گا۔ جمہوریہ کوریا کی حکومت کی 2 کروڑ ڈالر کی شراکت سے قائم ہونے والا یہ مرکز ذمہ دارانہ اور جامع اے آئی اپنانے کو فروغ دے گا اور 2035 تک تقریباً 30 لاکھ لوگوں کو ڈیجیٹل اور اے آئی سے متعلق ہنر مندی کی تربیت دے گا۔









