معرکہ حق کی کامیابی پر مسلح افواج اور سپہ سالار کو خراج تحسین ، شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں،مولانا عبد الخبیر آزاد کا استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب
معرکہ حق کی کامیابی پر مسلح افواج اور سپہ سالار کو خراج تحسین ، شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں،مولانا عبد الخبیر آزاد کا استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب
راولپنڈی ۔4مئی (اے پی پی):مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں جنہیں قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،معرکہ حق کی کامیابی پر اپنی بہادر مسلح افواج اور سپہ سالار کو خراج تحسین اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ استحکام پاکستان کانفرنس”معرکہ حق ،بنیان مرصوص” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر کمشنر راولپنڈی ڈویژن انجینئر عامر خٹک،ریجنل پولیس آفیسر بابر سرفراز الپا ،پیر قاضی عبد الغفار قادری،مفتی فتح محمد راشدی،پیر سعادت علی شاہ،پیر سید چراغ الدین شاہ،علامہ زبیر احمد ظہیر،اسفن یار بھنڈارا،بشپ جوزف ارشد،سردار سنٹوک سنگھ امن کمیٹی کے ممبران ،پولیس و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ،تاجر راہنماؤں سمیت سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس میں ملکی امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی، قومی یکجہتی کے فروغ اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔مہمانِ خصوصی چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی، ناانصافی اور ریاست مخالف سرگرمیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آئینی اور قانونی ریاست ہے جہاں انصاف، قانون کی بالادستی اور شہری حقوق کا تحفظ بنیادی اصول ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم اس ناسور کے خلاف متحد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ظلم، فساد اور انتشار کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ معاشرے میں امن، رواداری اور انصاف کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر کوئی ملک کے اندر نفاق اور انتشار پھیلانے کی کوشش کرے تو پوری قوم، علما اور تمام طبقات متحد ہو کر اس کا راستہ روکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ محرم الحرام سمیت تمام مذاہب و مسالک کی مقدسات اور روایات کا احترام ہماری قومی اور دینی ذمہ داری ہے، اور اسی احترام کی بنیاد پر ہم ہر قسم کی فرقہ وارانہ یا تخریبی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔مولانا عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام راولپنڈی سے پورے پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قوم متحد ہے اور کسی کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس خوشی کے موقع پر دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان ایک باوقار، خوددار اور مضبوط قوم ہے۔
انہوں نے مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بہادر افواج نے بے مثال قربانیاں دے کر ملک کا دفاع کیا ہے۔
مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذہبی رہنماؤں اور عالمی شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جنگ و جدل کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ دنیا کے تمام خطوں میں امن، مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کیے جانے چاہئیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا خطے سے ہو۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں امن کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور امن کے راستے سے ہی ممکن ہے۔
مولانا عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ آج کا دن ایک عظیم دن ہے جس میں ہم اپنی بہادر مسلح افواج، سپہ سالار، شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام علاقے جہاں دشمن نے جارحیت کی کوشش کی، چاہے وہ بہاولپور ہو، کشمیر ہو، لاہور ہو یا دیگر علاقے، وہاں افواجِ پاکستان نے بھرپور اور مؤثر جواب دے کر ملک کا دفاع کیا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اگر کسی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی گئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کا اسی طرح بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا برادر اسلامی ملک ایران ہماری نظر میں قابلِ احترام ہے اور ہم اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے دعاگو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی امت مسلمہ اور حرمین شریفین ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں اور ہمیں اس بات پر بھی ناز ہے کہ ہم حرمین شریفین کے خادم اور محافظ ہونے کے رشتے کو قلبی و ایمانی طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور حرمین شریفین کے درمیان ایک مضبوط روحانی اور ایمانی تعلق موجود ہے، جسے ہم نہایت عقیدت کے ساتھ آگے لے کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی رہا ہے اور اس نے دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
مولانا عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ آج کی اس کانفرنس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات، علمااور مختلف طبقات کے نمائندگان کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم معرکۂ حق “بنیانِ مرصوص” کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں یہ اعزاز عطا کیا اور ہمیں قومی سطح پر اتحاد و اتفاق کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔
مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ آج ملک کو مضبوط بنانے، قوم کو روزگار دینے اور معاشرے میں یکجہتی پیدا کرنے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ قومی یکجہتی اور استحکام نہ ہوتا تو شاید ہم موجودہ حالات میں اتنا مؤثر جواب دینے کے قابل نہ ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج کے پیچھے 25 کروڑ عوام کی دعائیں، علماکی دعائیں اور تمام طبقات کی حمایت شامل تھی، جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے معرکۂ حق میں پاکستان کو کامیابی عطا فرمائی۔
مولانا عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ آج ہمیں علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر پاکستان کی صورت میں نظر آ رہی ہے،جہاں پوری دنیا امن کے اس مرکز کی طرف متوجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کے نظریے پر قائم ہوا اور یہی اس کی اصل پہچان ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عالمی سطح پر پاکستان کی طرف نظریں مرکوز ہیں کیونکہ یہ امن کا مرکز ہے۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ بعض عالمی حالات اور بیانات سے تکلیف بھی ہوتی ہے، تاہم پاکستان اپنی اصولی اور مضبوط پالیسی پر قائم ہے۔مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دشمن کے غرور کو افواجِ پاکستان نے خاک میں ملا دیا اور اسے دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنی بہادر مسلح افواج، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی قیادت کو خراج تحسین اور ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے معرکۂ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ غازیوں کو بھی سلامِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ثابت قدمی دکھائی اور اللہ تعالیٰ نے وطنِ عزیز کو عزت و سربلندی عطا فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ بھی کسی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت یا جاہلانہ اقدام کیا گیا تو اس کا اس سے بھی سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
مولانا عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ وطنِ عزیز کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں یہ وطن عظیم قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیا گیا، جس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے پوری قوم متحد ہے اور ہر سطح پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔
کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ راولپنڈی ڈویژن میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام ادارے مربوط اور ٹیم ورک کے انداز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیس کمیٹیاں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے پروگرام ملک دشمن عناصر کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ قوم متحد اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا نے کہا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کے قیام کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور ہم عوام کے تعاون سے خطے میں امن کو ہر صورت برقرار رکھیں گے۔کانفرنس کے شرکاء نے پاکستان کے استحکام، امن اور ترقی کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔









