10 مئی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا سنہری باب ہےجوقومی عزم، عسکری پیشہ ورانہ مہارت اور جارحیت کے مقابلے میں اسٹریٹجک گہرائی کا مظہر ہے، بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد
10 مئی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا سنہری باب ہےجوقومی عزم، عسکری پیشہ ورانہ مہارت اور جارحیت کے مقابلے میں اسٹریٹجک گہرائی کا مظہر ہے، بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد
اسلام آباد۔3مئی (اے پی پی):پاکستان جہاں "معرکہ حق” کی سالگرہ منانے کی تیاری کر رہا ہے وہیں دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد نے کہا ہے کہ اس آپریشن نے نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت کو بنیادی طور پر تبدیل کیا بلکہ جنوبی ایشیا کی سکیورٹی حرکیات کو بھی ازسرنو تشکیل دیا ہے۔اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد نے 10 مئی کو محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا سنہری باب قرار دیاجوقومی عزم، عسکری پیشہ ورانہ مہارت اور جارحیت کے مقابلے میں اسٹریٹجک گہرائی کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی دشمن نے پاکستان کو آزمانے کی کوشش کی، تاریخ گواہ ہے کہ اسے فیصلہ کن جواب ملا۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی مسلح افواج نے جو کامیابی حاصل کی وہ گزشتہ 78 برسوں میں بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کا سب سے دیرپا اثر پاکستان کا مغربی ایشیا میں ایک نیٹ سکیورٹی فراہم کرنے والے ملک اور عالمی سطح پر ایک معتبر جغرافیائی و سیاسی کھلاڑی کے طور پر ابھرنا ہے۔ "پاکستان اب بھارت کا ہم پلہ حریف بن چکا ہے اور جنوبی ایشیا کی حرکیات مکمل طور پر بدل چکی ہیں۔بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد نے کہا کہ پاکستان کو ایران-امریکہ کشیدگی سمیت مختلف عالمی معاملات میں ثالثی کے کردار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور عالمی رہنما پاکستان کی قیادت اور عسکری کارکردگی کا اعتراف کر رہے ہیں۔پاک فضائیہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا کہ کسی جنگ میں رافیل طیارے مار گرائے گئے اور پاکستانی پائلٹس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔
انہوں نے جے ایف-17 تھنڈر طیارے کی کارکردگی کو بھی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کےبعد اس کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ آذربائیجان اور نائجیریا کے ساتھ دفاعی معاہدے بھی طے پا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "صرف ٹیکنالوجی جنگ نہیں جتاتی بلکہ پیشہ ورانہ مہارت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے اور پاک فضائیہ نے یہ بات ثابت کر دی ہے۔بھارت کے طرزِ عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کو توقع تھی کہ پاکستان خاموش رہے گامگر پاکستان نے بھرپور جواب دے کر ایک نیا توازن قائم کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی آئندہ جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن سے پاکستان کی مقامی دفاعی صنعت کو بھی نمایاں فروغ ملا ہے۔ دبئی میں ہونے والی ایک حالیہ دفاعی نمائش میں پاکستانی دفاعی مصنوعات، جن میں طیارے، ڈرونز، ٹینک اور توپخانہ شامل ہیں، کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔ "جنگ میں آزمودہ ہتھیار ہی فروخت ہوتے ہیں، دنیا جانتی ہے کہ یہ نظام مؤثر ہیں۔میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی میڈیا کو ذمہ دار اور محتاط قرار دیا، جبکہ بھارتی میڈیا کو غیر مصدقہ خبروں کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر پریس بریفنگ میں تینوں افواج کے نمائندے موجود ہوتے تھے اور معلومات شواہد پر مبنی ہوتی تھیں۔ بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد نے کہا کہ پاکستان اب ایک مڈل پاور کے تمام اوصاف رکھتا ہے جن میں اسٹریٹجک محل وقوع، جوہری صلاحیت، روایتی عسکری قوت اور فعال سفارتکاری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "معرکۂ حق صرف عسکری فتح نہیں بلکہ قومی عزم اور شناخت کی جیت بھی ہے۔ جب آپ مضبوط ہوتے ہیں اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں تو دنیا خود نوٹس لیتی ہے۔









