چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس کل جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی

چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس کل جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی

اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس (کل)بدھ کو جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوگی جس میں پاکستان اور عالمِ اسلام سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما، دانشور اور نمائندگان شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا مقصد امتِ مسلمہ کو درپیش اہم چیلنجز پر غور و خوض، اتحاد، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایاکہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب مسلم دنیا کو پیچیدہ عالمی حالات اور چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ پاکستان بھی معاشی اور سفارتی محاذ پر اہم اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان کے وسیع تر تناظر میں ہونے والی اس کانفرنس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ پیش کیا جائے گا اور بقائے باہمی، رواداری اور عالمی امن کے پیغام کو اجاگر کیا جائے گا۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ اس سال کانفرنس کا موضوع ’’عالمِ اسلام کے معاصر مسائل: پاکستان، خلیجی تعاون اور مسئلہ فلسطین و کشمیر پر مشترکہ مؤقف‘‘ہے جس کے تحت علاقائی و عالمی صورتحال پر خصوصی توجہ دی جائے گی خصوصاً مسلم دنیا میں استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ میں پاکستان اور سعودی عرب کے کردار پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان کی حالیہ کامیابیوں، بالخصوص معرکہ حق اور بنیان مرصوص کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا جنہوں نے قومی عزم کو مزید مضبوط کیا اور پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم ریاست کے طور پر پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ شرکا ء فلسطین اور کشمیر سمیت عالمی و علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور اہم امور پر امتِ مسلمہ کے متفقہ اور مربوط مؤقف کی ضرورت پر زور دیں گے۔پاکستان کے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک روابط کا ذکر کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کو بھی نمایاں کیا جائے گا جو باہمی اعتماد اور خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ اہداف کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، دیگر اسلامی ممالک اور یورپ سے تعلق رکھنے والے علما اور ماہرین کانفرنس میں شرکت کریں گے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمی سطح پر مثبت و تعمیری کردار کے فروغ کے لئے سفارشات پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ مؤقف کا اعادہ کیا جائے گا اور پیغامِ پاکستان کے تحت اسلام کے امن، اعتدال اور ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل مکالمے، تعاون اور امن کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کو عالمی سطح پر امن و استحکام کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کے فروغ اور امت میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے کردار ادا کر رہا ہے جبکہ حالیہ سفارتی روابط سے اہم علاقائی امور پر ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان دونوں خطوں کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور مسلم دنیا میں امن و استحکام کے لئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کانفرنس عالمی سطح پر اتحاد، امن اور یکجہتی کا مضبوط پیغام دے گی، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرے گی اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو گی۔

مزید خبریں