مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی شناخت اور معاشی نمو کے لیے نہایت ضروری ہے،شزا فاطمہ خواجہ
مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی شناخت اور معاشی نمو کے لیے نہایت ضروری ہے،شزا فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں زبان کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی شناخت اور معاشی نمو کے لیے نہایت ضروری ہے۔ منگل کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اگرچہ اس وقت ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور مصنوعی ذہانت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے لیکن زبان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی بنیادی اکائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے لسانی ماڈلز اور قدرتی زبان کی پروسیسنگ جیسے نظام کارپس لسانیات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے زبان مشین لرننگ اور اے آئی کی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لسانی ڈیٹا سیٹس کی مضبوطی براہِ راست اے آئی نظاموں کے معیار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غیر ملکی زبان مقامی ثقافت، مذہب اور سماجی اقدار کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہو سکتی اور خبردار کیا کہ اگر مقامی زبانوں کے ڈیٹا سیٹس تیار نہ کیے گئے تو یہ زبانیں بالآخر ختم ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی لسانی تنوع کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے سندھی، پشتو، پنجابی، بلوچی، سرائیکی اور ہندکو سمیت علاقائی زبانوں کی فوری ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیا۔ انہوں نے ان “کم وسائل والی زبانوں” کو ایک ایسا موقع قرار دیا جہاں ڈیٹا سیٹس میں بہتری سے اے آئی کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اردو کے ڈیٹا سیٹس کو مضبوط بنانے اور مشین لرننگ ماڈلز میں مقامی نقطہ نظر شامل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ماہرینِ لسانیات اور اے آئی ماہرین پر مشتمل ایک کنسورشیم قائم کیا جائے گا جو جدید ٹیکنالوجی کے تصورات کے لیے اردو اصطلاحات تیار کرے گا تاکہ غیر انگریزی بولنے والوں کے لیے رسائی آسان بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زبان میں الفاظ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے بچے جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کا تصور بھی نہیں کر پاتے اور نہ ہی ان کی خواہش کر سکتے ہیں۔
روزگار کے رجحانات پر بات کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اے آئی اور ٹیکنالوجی تیزی سے جاب مارکیٹ کو تبدیل کر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کو ہر شعبے میں شامل کیا جائے، نہ کہ صرف آئی ٹی تک محدود رکھا جائے۔ انہوں نے انڈس اے آئی ویک کے دوران اعلان کردہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان میں ایک ارب ڈالر کا سرمایہ کاری پیکج، دس لاکھ افراد کے لیے اے آئی تربیت کے مواقع اور دس ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس شامل ہیں، جن کا مقصد مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں فی کس پیداوار ایک بڑا چیلنج ہے اور اے آئی کے موثر استعمال سے معاشی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد مہارتوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں مزید موثر بنانا ہے۔ پالیسی اقدامات کے حوالے سے وفاقی وزیرنے پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی کا ذکر کیا جس میں اخلاقی اے آئی کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے اور صنف، نسل اور ثقافت سے متعلق تعصبات کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔







