’’معرکہ حق‘‘ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ جو قوم موت سے نہیں ڈرتی اسے شکست نہیں دی جا سکتی، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال
’’معرکہ حق‘‘ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ جو قوم موت سے نہیں ڈرتی اسے شکست نہیں دی جا سکتی، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ’’معرکہ حق‘‘ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ جو قوم موت سے نہیں ڈرتی اسے شکست نہیں دی جا سکتی، قومی اتحاد ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے اور اگر یہی فضا مستقل بنیادوں پر قائم رہی تو ترقی اور کامیابی ملک کا مقدر بن سکتی ہے۔ وہ جمعرات کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے فیصل مسجد کیمپس میں اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے زیر اہتمام ’’معرکہ حق‘‘ کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار کا آغاز پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بھارتی یلغار کے جواب میں پوری قوم متحد ہو کر سامنے آئی اور مذہبی، فرقہ وارانہ اور علاقائی تقسیم پس منظر میں چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قومی مقاصد ایسے ہوتے ہیں جن پر اختلافات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، اس لیے قوم کو اتحاد و یکجہتی کی اسی فضا کو برقرار رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ اندرونی عدم اتحاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں احترام رائے کو فروغ دینا ہوگا اور وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان کے ہر سپاہی کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ جامعہ کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’معرکہ حق‘‘ قومی عزم، شجاعت اور اتحاد کی روشن علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، تمام دفاعی اداروں اور پاکستان ایئر فورس کو ملکی خودمختاری کے تحفظ میں کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات مشترکہ ایمان، باہمی اعتماد اور اخوت کی بنیاد پر استوار ہیں جو امت مسلمہ کے اتحاد اور امن و ترقی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔معروف قانون دان بیرسٹر ظفر اللہ خان نے اپنے خطاب میں محمد بن قاسم کی آمد اور دو قومی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے طاقت کے غرور میں ایسی غلطی کی جس کا جواب تاریخ میں مثال بن گیا۔
انہوں نے خلفائے راشدین اور علامہ محمد اقبالؒ کی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ مسلمان کے لیے موت خوف نہیں بلکہ عزت و وقار کی علامت ہے اور یہی جذبہ دشمن کی شکست کا سبب بنا۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر دیئے گئے عاجزی کے درس کو بھی یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقاء اور ترقی کا دارومدار درسگاہوں پر ہے۔اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مریم فاطمہ نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کا فلسفہ خودی، توحید اور اتحاد ’’معرکہ حق‘‘ میں نمایاں طور پر نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے عزم و استقلال کی نئی تاریخ رقم کی اور دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان ایک غیر معمولی ایٹمی طاقت ہے۔ انہوں نے ہائبرڈ خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آج بھی اسی قومی اتحاد کی ضرورت ہے جو ایک سال قبل دیکھنے میں آیا تھا۔ انہوں نے اہلِ قلم، محققین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ تحقیق اور تعلیم کے ذریعے قومی شعور کو فروغ دیں جبکہ میڈیا کے کردار کو بھی سراہا۔
ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر منظور آفریدی نے کہا کہ ’’معرکہ حق‘‘ نے پاکستان کی مستقبل کی سمت کا تعین کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت دراصل پاکستان کی ترقی سے خوفزدگی کا اظہار تھی جس کا جواب قوم نے جذبے، حکمت عملی اور ٹیکنالوجی سمیت ہر محاذ پر دیا۔سیمینار کے منتظم اور اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے انچارج برائے تحقیق و مطبوعات محمد یونس نے تقریب کی نظامت کی اور پروگرام کے انعقاد میں تعاون پر جامعہ کی قیادت اور وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔








