اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین اور کثیر الجہتی خطرہ ہے جو خوراک کے تحفظ، آبی وسائل، زراعت، معاشی استحکام اور انسانی بقا کو متاثر کر رہا ہے، انہوں نے زور دیا کہ مؤثر ماحولیاتی اقدامات کے لئے امن، استحکام اور عالمی تعاون ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ڈان میڈیا گروپ کے …
موسمی تغیرات عالمی امن، معیشت اور انسانی بقا ء کا مشترکہ چیلنج بن چکے ہیں، چیئرمین سینیٹ کا بریتھ پاکستان کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین اور کثیر الجہتی خطرہ ہے جو خوراک کے تحفظ، آبی وسائل، زراعت، معاشی استحکام اور انسانی بقا کو متاثر کر رہا ہے، انہوں نے زور دیا کہ مؤثر ماحولیاتی اقدامات کے لئے امن، استحکام اور عالمی تعاون ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ بریتھ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں اراکین پارلیمنٹ، سفارتکار، بین الاقوامی اداروں کے نمائندے، ماہرین ماحولیات و تعلیم، میڈیا، سول سوسائٹی اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی واضح ہیں جن میں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کے ذخائر میں کمی، زراعت پر دباؤ اور شدید موسمی واقعات، خصوصاً سیلاب، کی بڑھتی ہوئی شرح شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کا تعلق براہِ راست امن اور استحکام سے ہے اور پاکستان توانائی، زراعت، خوراک اور پانی کے شعبوں میں استعداد بڑھانے، ماحولیاتی فنڈنگ کے حصول اور عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
علاقائی امن میں پاکستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں ہمیشہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی خودمختاری کا بھرپور تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشنز”معرکہ حق“اور’’بنیانٌ مرصوص‘‘قومی اتحاد، نظم و ضبط اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ عالمی بحرانوں میں کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کے موسمیاتی لحاظ سے انتہائی متاثرہ ممالک میں شامل ہونے کے باوجود پاکستان کو گزشتہ تین دہائیوں میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم ماحولیاتی فنڈنگ ملی ہے۔ انہوں نے COP29 سمیت عالمی وعدوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی فنڈنگ منصفانہ، قابلِ پیشگوئی اور بروقت ہونی چاہئے۔
پاکستان کے ماحولیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کلائمیٹ چینج ایکٹ، شجرکاری مہمات، لیونگ انڈس انیشی ایٹو، گرین پاکستان پروگرام اور پارلیمنٹ کی شمسی توانائی پر منتقلی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے COP27 اور COP29 سمیت عالمی فورمز پر ماحولیاتی انصاف کے لئے پاکستان کے مضبوط مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ 2035 تک سالانہ 300 ارب ڈالر کی یقین دہانی بھی متاثرہ ممالک کی ضروریات سے کم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ“لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ”ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے اور کاربن اخراج کرنے والے ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔انہوں نے پارلیمنٹ، سرکاری اداروں، تعلیمی حلقوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط، بہتر ڈیٹا، مؤثر منصوبہ بندی اور ماحولیاتی موافقت میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ کانفرنس میں ہونے والی گفتگو کو ٹھوس قانون سازی، پالیسی اصلاحات اور قابلِ عمل حکمت عملیوں میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے ماحولیاتی حکمرانی اور نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ مستقبل اُنہی کا ہے جو جرأت، اتحاد اور دور اندیشی کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان مثال قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت اور ذمہ داری رکھتا ہے۔








