جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان مکمل قوت اور تمام دستیاب وسائل کے ساتھ جواب دے گا، ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ
جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان مکمل قوت اور تمام دستیاب وسائل کے ساتھ جواب دے گا، ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):پاکستان نے مذاکرات اور سفارتکاری کے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ایک سال قبل کی طرح کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنی مکمل قوت اور تمام دستیاب وسائل کے ساتھ جواب دے گا۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا ہر معاملے پر موقف بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ یا تصادم کی بات نہیں کرتے، ہم مذاکرات اور سفارتکاری کی بات کرتے ہیں تاہم اگر ہم پر جارحیت مسلط کی گئی جیسا کہ ایک سال قبل ہوا تھا تو پاکستان مکمل قوت اور تمام دستیاب وسائل کے ساتھ جواب دے گا۔
معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کو قومی سفر کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن صرف ماضی کو یاد کرنے کا نہیں بلکہ مستقبل کی سمت طے کرنے کا بھی ہے، معرکہ حق کا جذبہ صرف ہماری تاریخ میں نہیں بلکہ ہم سب کے اندر زندہ ہے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ تمام دوطرفہ امور کے پرامن حل، مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت کو سمجھتا آیا ہے، پاکستان نے کبھی بھی کسی بھی معاملے پر بھارت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا اس لئے مذاکرات نہ ہونے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم بارہا مذاکرات کےلئے آمادگی ظاہر کرچکے ہیں تاہم مذاکرات کےلئے دو فریق درکار ہوتے ہیں اور یہ بامعنی تب ہی ہوتے ہیں جب یہ یکطرفہ گفتگو نہ ہوں۔ ترجمان نے کہاکہ یہ فیصلہ کرنا دنیا پر چھوڑ دیا جانا چاہئے کہ مذاکرات کی عدم موجودگی کی ذمہ داری کس پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے تحت پاکستان کا ردعمل متوازن، قانونی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا۔
ترجمان نے کہا کہ نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھی معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر سفارتی کور کو بریفنگ دی جس میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر خطہ کے استحکام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے حل کےلئے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ رائے شماری ضروری ہے، انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر کسی بھی یکطرفہ اقدام سے خبردار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی عالمی شراکت داروں کےلئے بدستور تشویش کا باعث ہے جبکہ نئی دہلی سے آنے والے جارحانہ بیانات صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔








