پاکستان کی اقوام متحدہ میں جنگی حالات میں طبی تحفظ کے لیے اقدامات کی تجویز
پاکستان کی اقوام متحدہ میں جنگی حالات میں طبی تحفظ کے لیے اقدامات کی تجویز

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔8مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سلامتی کو نسل کے ایک غیر رسمی اجلاس میں پاکستان نے مسلح تنازعات کے دوران طبی سہولیات اور عملے کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کی تجویز پیش کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے نکالا جانا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کو تحفظ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو علاج کے مراکز رہنا چاہیے نہ کہ حملوں کا نشانہ، ڈاکٹرز اور نرسوں کو زندگیاں بچانے کے لیے کام کرنا چاہیے چاہے اپنی جان خطرے میں ڈالنی پڑے۔
یہ اجلاس سلامتی کونسل کی قرارداد 2286 کی دسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا جس میں زخمیوں، طبی عملے اور ہسپتالوں کے تحفظ پر زور دیا گیا تھا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ دور میں بھی تنازعات کے علاقوں میں صحت کے نظام پر حملے جاری ہیں جس سے پورے صحت کے ڈھانچے کے تباہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے اور تمام فریقین کو طبی عملے، ہسپتالوں اور طبی سامان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات، حفاظتی پروٹوکول، رسک اسیسمنٹ اور بعد از واقعہ تحقیقات جیسے اقدامات لازمی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں اور طبی مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا سنگین جنگی جرم ہے اور اس پر خاموشی یا عدم کارروائی قابلِ قبول نہیں۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ سائبر حملے اور طبی ڈیٹا کا غلط استعمال بھی شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے لہٰذا اس حوالے سے بھی عالمی سطح پر سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔








