بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے موجودہ سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی نئی سرمایہ کاری کے لیے کلیدی حکمت عملی ہے،محمد جنید انوار چوہدری

بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے موجودہ سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی نئی سرمایہ کاری کے لیے کلیدی حکمت عملی ہے،محمد جنید انوار چوہدری

اسلام آباد۔8مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے موجودہ سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا نئی سرمایہ کاری کے حصول کی مؤثر اور کلیدی حکمت عملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو معروف ٹرمینل آپریٹرز کے چھ رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت ایف اے پی ٹرمینل کے سی ای او اقان علی خان کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے کاروبار کے استحکام اور ترقی کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔ وفد نے اپیل کی کہ ٹیکس نظام کو سادہ بنا کر سنگل ڈیجٹ سطح پر لایا جائے اور بندرگاہی خدمات کو ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے کی طرز پر باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے تاکہ سرمایہ کاری اور ریگولیٹری ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے پالیسی کے تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحری شعبے کی مضبوطی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کاروباری مسائل کے حل اور بندرگاہوں پر کاروباری سرگرمیوں میں آسانی کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔انہوں نے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے “انرجی سٹی” کے قیام کا حوالہ دیا جس میں مختلف اقسام کی توانائی کے لیے بانڈڈ سٹوریج سہولیات شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے مختلف ممکنہ مقامات کا انتخاب فزیبلٹی اور موزونیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔وزیر بحری امور نے ٹرمینل آپریٹرز کو ترغیب دی کہ وہ کنسورشیم تشکیل دے کر انرجی سٹی منصوبے میں سرمایہ کاری کریں اور پورٹ قاسم پر ملٹی پرپز ٹرمینل کے قیام اور ترقی میں بھی کردار ادا کریں۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ حال ہی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے احاطے سے دہائیوں پرانے بعض 50 سال پرانے کنٹینرز اور پیلیٹس کو ہٹا دیا گیا ہے جس سے بندرگاہ پر رش میں کمی اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اسے پورٹ آپریشنز کو مؤثر بنانے اور کارگو ہینڈلنگ کو بہتر کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا۔