وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس وزیرِ مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔ترجمان وزارت صحت کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی تھی ۔
وزیرِ مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔8مئی (اے پی پی):وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس وزیرِ مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔ترجمان وزارت صحت کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی تھی ۔ اجلاس میں میں ٹاسک فورس کے اراکین ،سابق معاونِ خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بھی شریک ، میجر جنرل ریٹائرڈ اظہر محمود کیانی سابق کمانڈنٹ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو چیئر مین ٹاسک فورس ، سپیشل سیکرٹری داخلہ اسلام آباد ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ ڈی جی ہیلتھ ، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی ڈین ڈاکٹر سائرہ افضل شریک وی سی ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی خان،ماہر متعدی امراض ڈاکٹر صبیہ قاضی اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ صوبوں کے سیکرٹری صحت کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ قومی ادارہ صحت ڈریپ صوبائی محکمہ جات صحت، یو این ایڈز کامن مینجمنٹ یونٹ کے حکام بھی موجودتھے ۔
اس موقع پر وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ٹاسک فورس کا مقصد معاملے کی تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سفارشات مرتب کرنا ہے ،ٹاسک فورس کو ہدایت دی گئی کہ آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے واقعات کی جامع تحقیقات کی جائیں ،ٹاسک فورس کے اراکین اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کی ہیں ۔ٹاسک فورس نے سفارشات میں کہا ہےکہ این آئی ایچ سی ڈی سی اور سی ایم یو ڈیٹا کے ریئل ٹائم نظام کو یقینی بنانے کیلئے ڈیش بورڈ کو فعال کر کے ایچ آئی وی کیسز کی نگرانی، رجحانات کا تجزیہ اور رابطہ کاری کے نظام کو مؤثر بنایا جائے ۔ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نیشنل پبلک ہیلتھ لاء کی تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے،غیر محفوظ طبی طریقوں کے باعث ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے، متعدی امراض کے کنٹرول کو مزید مؤثر اور قابل عمل سفارشات مرتب کرنے کیلئے جامع رپورٹ پیش کرنے پر اتفاق ہواہے ۔
ٹاسک فورس نے بتایا کہ اگرچہ آٹو ڈس ایبل سرنجوں کے استعمال میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہےتاہم محفوظ طبی طریقوں کے مؤثر نفاذ میں اب بھی متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ٹاسک فورس نے ملک بھر میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ملک بھر میں سکریننگ کے عمل میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے،طبی مراکز اور فارمیسیوں کی باقاعدہ انسپکشن یقینی بنائی جائے ،خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں، دوبارہ استعمال کے قابل سرنجوں کی فروخت یا غلط لیبلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،مریضوں کی حفاظت کے پروٹوکولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں ،ملک بھر کے تمام ہیلتھ کیئر کمیشن ریگولیٹری نفاذ کو ہر صورت یقینی بنائیں ، ضروری طبی سامان کی بروقت دستیابی یقینی بناین تاکہ سرنجیں دوبارہ استعمال نہ ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ ہائی رسک گروپس و متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، علاج اور احتیاطی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنائیں،ایچ آئی وی کو نوٹیفائی ایبک یماریوں کی فہرست میں شامل کرکے ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے، ٹاسک فورس نے متعلقہ اداروں کو قابلِ عمل اور پائیدار اقدامات کے لیے واضح ذمہ داریاں سونپی ہیں ، سرنجوں اور آئی وی سیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، ایچ آئی وی سمیت دیگر خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے شواہد پر مبنی موثر اقدامات کیے جائیں،ہسپتالوں میں آپریشن سے پہلے سکریننگ میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے ،ڈریپ ملک بھر میں دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کے خلاف سخت اور مؤثر کریک ڈاؤن کرے۔
ٹاسک فورس نے سفارشات میں کہا کہ ڈریپ کی جانب سے تمام میڈیکل سٹورز، فارمیسیز اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی کڑی اور مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے ،ملک بھر کے تمام ہیلتھ کیئر کمیشنز کو مکمل طور پر فعال، مستحکم اور بااختیار بنایا جائے ،ہیلتھ کیئر کمیشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا ۔ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو گھر کی دہلیز پر ادویات اور معیاری میڈیکل سپورٹ کی فراہمی کو ریاست یقینی بنائے ،بارڈر ہیلتھ سروسز ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی ایئرپورٹس اور انٹری پوائنٹس کی سکریننگ کو یقینی بنائے۔








