معرکہ حق کی تاریخی فتح کے ایک سال مکمل ہونے پر خیبر پختونخوا میں جشن، ریلیوں اور تقریبات کا انعقاد

پشاور۔ 10 مئی (اے پی پی):دشمن کے خلاف پاکستان کی تاریخی فتح کے ایک سال مکمل ہونے پر خیبر پختونخوا میں جشن معرکہ حق بھر پور طریقے سے منایا گیا۔ اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں پشاور سے چترال تک فضا حب الوطنی کے گیتوں اور نعروں سے گونج اٹھی اور معرکہ حق کی فتح کی پہلی سالگرہ قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ سبز و سفید چادروں …

پشاور۔ 10 مئی (اے پی پی):دشمن کے خلاف پاکستان کی تاریخی فتح کے ایک سال مکمل ہونے پر خیبر پختونخوا میں جشن معرکہ حق بھر پور طریقے سے منایا گیا۔ اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں پشاور سے چترال تک فضا حب الوطنی کے گیتوں اور نعروں سے گونج اٹھی اور معرکہ حق کی فتح کی پہلی سالگرہ قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ سبز و سفید چادروں میں لپٹے بزرگ، قومی پرچم لہراتے نوجوان طلباء اور شہداء کی تصاویر اٹھائے خاندان خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے شہروں، قصبوں اور دور افتادہ علاقوں میں بھارت کے خلاف معرکہ حق کی تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ہونے کا جشن منانے کے لیے جمع ہوئے۔ اس سالگرہ کے موقع پر خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے گئے جن میں پاکستان کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا۔

ضلع نوشہرہ میں ایک بہت بڑی ریلی میں دکاندار بلال خان، مزدور ارشاد علی، ہیئر ڈریسر عبداللطیف، کسان مثل خان اور ریٹائرڈ پی ایس ٹی ٹیچر ریاض خان سبز و سفید پرچم اٹھائے کالج کے طلباء کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے اور پاکستان زندہ باد کے بھرپور نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کی مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرنے آئے ہیں جنہوں نے ملک کا دفاع کرتے ہوئے تین گنا بڑے دشمن بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا جس نے گزشتہ سال 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب رات کی تاریکی میں بزدلانہ وار کرتے ہوئے پنجاب اور آزاد کشمیر میں معصوم لوگوں پر حملہ کیا تھا۔

قومی پرچم بلند کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آج پاکستان کے محافظوں کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے متحد ہیں جنہوں نے تمام محاذوں پر دشمن کو شکست دی۔ ہزاروں بچوں نے اپنے چہروں پر ہلال کے نشان بنائے ہوئے تھے جبکہ بزرگ گزشتہ سال مئی کے ان کشیدہ دنوں کی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ کئی شرکاء نے ان ریلیوں کو نہ صرف پاکستان کی عسکری کامیابی کا جشن قرار دیا بلکہ اس مشکل وقت میں عام شہریوں کی طرف سے دکھائی گئی ہمت اور استقامت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ خیبر سے کوہستان اور وزیرستان سے سوات تک ہزاروں لوگ ان جلوسوں میں شامل ہوئے جو اجتماعی شناخت اور حب الوطنی کے ایک نایاب احساس کی عکاسی کر رہے تھے۔پشاور، نوشہرہ، ڈی آئی خان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، سوات، دیر، چترال، بنوں، مانسہرہ، صوابی، کرک، مالاکنڈ اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کے مصروف بازاروں اور تنگ گلیوں میں گاڑیوں اور چھتوں پر قومی پرچم لہرا رہے تھے جبکہ مسلح افواج کے حق میں نعرے گونج رہے تھے۔

قبائلی اضلاع بشمول وزیرستان، پاراچنار کرم، اورکزئی، خیبر، مہمند اور باجوڑ میں بھی بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔ قبائلی عوام نے قومی پرچم لہرائے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز،چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے بیرونی خطرات کے خلاف مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ نوشہرہ میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما صاحبزادہ حمزہ نے معرکہ حق کو پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے واقعات نے قومی اعتماد کو مضبوط کیا اور نوجوان نسل میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کیا۔انہوں نے قومی رہنماؤں کی تصاویر اور بڑے بینرز تلے جمع شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کی قربانیوں نے امن و استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے مودی حکومت کے سیاسی دھوکے اور بھارت کے علاقائی بالادستی کے دعووں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ پاکستان نے دشمن کے متعدد جدید لڑاکا طیارے بشمول رافیل طیارے مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے چار رافیل طیاروں کے ساتھ ساتھ ایک مگ-29، ایک ایس یو-30 ایم کے آئی، ایک میراج-2000 اور ایک ہیرون ڈرون گرایا۔ اسی طرح دشمن کے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم، براہموس میزائل اسٹوریج کمپاؤنڈز اور کئی بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کے کامیاب آپریشن کی وسعت اور گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی ایک اہم آپریشنل کامیابی ہے، اس آپریشن نے ثابت کر دیا کہ پاک فضائیہ فضاؤں کی بلا شرکت غیرے بادشاہ ہے۔ عالمی برادری میں پاکستان کے سفارتی قد میں اضافہ ہوا اور عسکری حکمت عملی کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔

پشاور میں ایک اجتماع میں شرکت کے دوران اسکول کی طالبہ ملائکہ بی بی نے کہا کہ ہم قربانی اور شجاعت کی 65 کی جنگ کی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ معرکہ حق کی سالگرہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومی اتحاد سیاسی اختلافات سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور طلباء مادرِ وطن کے تحفظ کےلیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے بھی اس سالگرہ کو سماجی تناظر میں دیکھا۔یونیورسٹی آف پشاور کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ معرکہ حق کے گرد گھومنے والے واقعات استقامت، شجاعت اور عزم کی علامت بن چکے ہیں۔ انہوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگ خود کو جذباتی طور پر جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ملک ایک مشکل گھڑی میں متحد کھڑا تھا۔

معرکہ حق کی پہلی سالگرہ نے نوجوانوں میں حب الوطنی، عوامی خدمت اور قومی ذمہ داری کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔ بچوں نے ملی نغمے پیش کیے جبکہ سماجی تنظیموں نے ریلی کے شرکاء میں کھانا اور ریفریشمنٹ تقسیم کی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ نے پاکستان کی سلامتی، سفارت کاری اور معاشی مستقبل کے حوالے سے عوامی بحث کو بھی تازہ کر دیا ہے۔ کئی مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی طاقت کا انحصار نہ صرف فوجی تیاریوں پر ہے بلکہ تعلیم، تکنیکی ترقی اور سماجی ترقی پر بھی ہے۔

ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ گزشتہ سال کے تنازعہ پر پاکستان کا بھرپور ردعمل انتہائی پختہ تھا جس سے بین الاقوامی سطح پر اس کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کےلیے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ محض ایک تنازع کی یاد سے بڑھ کر تھی۔ ان کی نظر میں یہ قومی استقامت، حب الوطنی کی عکاسی اور ان قربانیوں کی ایک مضبوط یاد دہانی تھی جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔