متبادل تنازعاتی حل کا جدید نظام انصاف کا لازمی جزو بنتا جا رہا ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کے شرکا سے خطاب

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) اب محض ایک متبادل طریقہ کار نہیں رہا بلکہ یہ جدید نظام انصاف کا ایک لازمی اور اہم جزو بنتا جا رہا ہے۔

اسلام آباد۔13مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) اب محض ایک متبادل طریقہ کار نہیں رہا بلکہ یہ جدید نظام انصاف کا ایک لازمی اور اہم جزو بنتا جا رہا ہے۔وہ بدھ کو کامسٹیک اسلام آباد میں وزارت قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی ایم اے سی) کے زیر اہتمام 6 روزہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ میڈی ایشن ٹریننگ پروگرام کے شرکا سے خطاب اور تعاملی نشست سے گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے پروگرام میں پارلیمنٹیرینز، عدالتی افسران، قانونی ماہرین، سرکاری حکام اور ملک بھر سے آئے ہوئے اے ڈی آر ماہرین کی شرکت کو سراہا۔

انہوں نے آئی میک ٹیم، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور بین الاقوامی ٹرینرز کی کاوشوں کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 22 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ دیوانی مقدمات کے فیصلوں میں اوسطاً 15 سال تک اور تجارتی تنازعات کے حل میں 1073 دن لگ سکتے ہیں جو فوری اور موثر متبادل نظام کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اے ڈی آر کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جن میں سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر دستخط، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن (آئی او میڈ) کے قیام سے متعلق کنونشن کی توثیق اور آئی ایم اے سی کا قیام شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم اے سی اب تک 1300 سے زائد ججز، وکلاء، سرکاری افسران، کاروباری شخصیات اور طلبہ کو بنیادی تربیت فراہم کر چکا ہے جبکہ 100 شرکا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ میڈی ایشن اور اے ڈی آر تربیت مکمل کر چکے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرامز تنازعات کے موثر حل کے لیے ماہرین تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنے اداروں میں میڈی ایشن کے فروغ کے سفیر بنیں اور حاصل کردہ مہارتوں کو عملی طور پر استعمال کریں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارت قانون و انصاف پاکستان میں اے ڈی آر کے ادارہ جاتی فروغ، مکالمے اور پرامن تنازعات کے حل کے کلچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔