وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کی فراہمی، سستے گھروں کے منصوبے بشمول نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور عوامی سہولیات کی بہتری ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، او ر شعبے میں شفافیت کے فروغ کے لئے تمام معاملات کو و …
ہاؤسنگ کے شعبے میں شفافیت کے فروغ کے لئے تمام معاملات کو ڈیجیٹائز اور آٹو میٹ کیا جائے گا ، وزیر اعظم شہباز شریف کا جائزہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کی فراہمی، سستے گھروں کے منصوبے بشمول نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور عوامی سہولیات کی بہتری ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، او ر شعبے میں شفافیت کے فروغ کے لئے تمام معاملات کو و ڈیجیٹائز اور آٹو میٹ کیا جائے گا ۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو اپنی زیر صدارت ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیر زادہ ، وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ ، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، چئیرمین نیب لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کی وجہ سے زرعی زمین پر دباو بڑھ رہا ہے، جس کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہاؤسنگ کے شعبے میں تمام معاملات کو ڈیجیٹائز اور آٹو میٹ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر میں بیرون ملک سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے اس سیکٹر کو ضابطہ کار کے تحت لانا ضروری ہے۔ اجلاس کے دوران ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات کے حوالےسے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں شفافیت لانے کے حوالے سے معتبر سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ریگولیٹری فریم ورک سہل بنایا جائے گا ۔
ہائوسنگ اور ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کے لئے ایس ای سی پی، میں رجسٹریشن لازمی قرار دی جانی چاہئے۔ شہروں کے بے ترتیب پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے بھی حکمت عملی بنائی جائے گی۔ بریفنگ کے مطابق بڑے شہروں میں اونچی عمارتوں اور ورٹیکل ایکسپینشن کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔
بریفنگ میں بڑے شہروں کے لئے ماسٹر ٹاؤن پلاننگ کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا کہ ڈویلپرز، خریداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کے حوالےسے ون ونڈو سسٹم قائم کیا جانا چاہیئے ۔ وزیراعظم نے ان تجاویز کے حوالےسے صوبوں کے ساتھ مشاورت کی بھی ہدایت کی۔







