والدین بچوں کو پرفیومز، لپ سٹکس، خوشبودار کریمز اور باڈی لوشنز جیسی مصنوعات کے غیر ضروری استعمال سے دور رکھیں، ماہرین صحت

والدین بچوں کو پرفیومز، لپ سٹکس، خوشبودار کریمز اور باڈی لوشنز جیسی مصنوعات کے غیر ضروری استعمال سے دور رکھیں، ماہرین صحت

اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):ماہرینِ صحت نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کو پرفیومز، لپ سٹکس، خوشبودار کریمز اور باڈی لوشنز جیسی مصنوعات کے غیر ضروری استعمال سے دور رکھا جائے کیونکہ ان مصنوعات میں شامل بعض کیمیائی اجزاء ہارمونز کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں اور کم عمری میں بلوغت کے امکانات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماہرین نے والدین کی مؤثر رہنمائی اور خوشبو سے پاک متبادل مصنوعات کے استعمال سے متعلق آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔

ماہرِ غذائیت ڈاکٹر غزالہ نے کہا کہ بچوں میں خوشبودار مصنوعات کے مسلسل استعمال اور ان کے ممکنہ مضر صحت اثرات کے حوالے سے والدین میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ روزمرہ استعمال کی متعدد گھریلو اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات جن میں شیمپو، صابن، ڈٹرجنٹس، باڈی سپرے، پرفیومز، لوشنز، ایئر فریشنرز اور خوشبودار موم بتیاں شامل ہیں، مصنوعی خوشبوؤں پر مشتمل کیمیائی اجزاء رکھتی ہیں جن سے بچے روزانہ کی بنیاد پر متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرِ غذائیت کے مطابق یہ کیمیائی اجزاء جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہو سکتے ہیں جبکہ سپرے اور خوشبودار مصنوعات کے ذریعے سانس کے راستے یہ مادے تیزی سے جسم کے نظام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نشوونما پانے والے بچوں میں طویل عرصے تک ان اجزاء کی نمائش بعض ایسے طبی مسائل سے منسلک ہو سکتی ہے جن پر ابھی مزید تحقیق جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ سائنسی تحقیقات میں بعض خوشبودار مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزاء خصوصاً ’’پیرا بینز‘‘ اور مصنوعی ’’مسکس‘‘ جیسے اینڈوکرائن ڈسرپٹنگ کیمیکلز کے حوالے سے خدشات ظاہر کئے گئے ہیں۔ یہ مادے جسم کے ہارمونل نظام میں مداخلت کرتے ہوئے قدرتی ہارمونز، خصوصاً ایسٹروجن کی نقل کر سکتے ہیں جس کے باعث محققین کم عمری میں بلوغت اور بچوں کی جسمانی نشوونما میں تبدیلیوں کے ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے والدین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کو مہنگی اور برانڈڈ طرزِ زندگی کی اندھی تقلید سے روکیں کیونکہ اس رجحان سے کم عمر ذہنوں پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے اور ان کی خود اعتمادی اور ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عمر بچوں کے درمیان مسلسل موازنہ اور صارفیت پر مبنی مقابلہ بازی بڑھتے ہوئے بچوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور جذباتی عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ خاندان مادہ پرستی اور پرتعیش اشیاء کی دوڑ کے بجائے صحت مند عادات، متوازن طرزِ زندگی اور جذباتی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں۔ماہرِ غذائیت کے مطابق مضبوط والدین کی رہنمائی، کھلا مکالمہ اور مناسب آگاہی بچوں میں اعتماد، برداشت اور زندگی و سماجی اثرات کے حوالے سے مثبت اور متوازن سوچ پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔