انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے زیر اہتمام ”دی نیو پلے بک -ایڈاپٹ، انوویٹ، ایلیویٹ‘‘ کے موضوع پر سی ایف او کانفرنس 2026 کا اسلام آباد ایڈیشن کامیابی سے منعقد ہوا۔ کانفرنس میں سینئر فنانس لیڈرز، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے اور مالیاتی قیادت کے سٹریٹجک کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
آئی کیپ کے زیر اہتمام سی ایف او کانفرنس 2026کے اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے زیر اہتمام ”دی نیو پلے بک -ایڈاپٹ، انوویٹ، ایلیویٹ‘‘ کے موضوع پر سی ایف او کانفرنس 2026 کا اسلام آباد ایڈیشن کامیابی سے منعقد ہوا۔ کانفرنس میں سینئر فنانس لیڈرز، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے اور مالیاتی قیادت کے سٹریٹجک کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔استقبالیہ خطاب میں آئی کیپ کے صدر محمد سمیع اللہ صدیقی نے چیف فنانشل آفیسرز کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سی ایف اوز اب غیر یقینی معاشی صورتحال میں سٹریٹجک پارٹنرز کے طور پر ادارہ جاتی تبدیلی، پائیدار ویلیو کری ایشن اور کاروباری استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنانس لیڈرز کو مالی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے دوران تیزی سے خود کو ہم آہنگ کرنے، ذمہ داری کے ساتھ جدت اپنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔کانفرنس میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر جہانگیر پراچہ نے”اتار چڑھائو سے ویلیو تک: مشکل حالات میں سٹریٹجک لیڈرشپ“کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔
انہوں نے غیر یقینی حالات میں قیادت کے تقاضوں اور چیلنجز کو طویل المدتی قدر کے مواقع میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر گفتگو کی۔سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی لیٹیشن کونسل(ایس آئی ایف سی)کے سیکرٹری جمیل احمد قریشی نے ”پالیسی اور سرمایہ کاری کے درمیان ہم آہنگی: پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے فروغ میں ایس آئی ایف سی کا کردار“ کے عنوان سےاہم پالیسی خطاب کیا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے، ادارہ جاتی ہم آہنگی بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کی ایک نمایاں نشست ”ریپرائسنگ رسک، ویلیو کی دوبارہ دریافت: پاکستان کا اکنامک آئوٹ لک“ کے عنوان سے ایک پینل مباحثہ تھا جس میں پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجوں بشمول ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں، سیاسی عدم استحکام، پالیسیوں میں ہم آہنگی کا فقدان، لیکویڈیٹی کے مسائل اور مالی وسائل تک رسائی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے نئے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اس پینل میں ماہرِ معاشیات ہارون شریف، ہوئسٹ فارما کے سی ای او سجاد افتخار، ایس آئی ایف سی کے ایڈیشنل سیکرٹری ساجد محمود قاضی اور سابق وزیر مملکت اشفاق تولہ شامل تھے جبکہ سیشن کی نظامت موبی لنک مائیکروفنانس بینک کے سی ایف او عادل عباسی نے انجام دی۔وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے ”ترقی کا فروغ: مسابقتی اور مضبوط معیشت کے لیے ایس او ایز میں اصلاحات“ کے حوالے سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے نجکاری اور گورننس اصلاحات کے کردار پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد ”نجکاری کا عملی ماڈل: سنجیدہ سرمایہ کاری کو کیا چیز متوجہ کرتی ہے؟“ کے عنوان سے ایک خصوصی سیشن منعقد ہوا جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو بطور کیس سٹڈی زیرِ بحث لایا گیا۔ پینل میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے رکن سلمان امین، کیپکو کے سابق سی ای او آفتاب بٹ اور المیزان انویسٹمنٹ کے سی ای او امتیاز قادر شامل تھے جبکہ امتیاز قادر نے سیشن کی نظامت بھی کی۔
پروفیشنل اکائونٹنٹس ان بزنس (پی اے آئی بی) کمیٹی کے چیئرمین اور آئی کیپ کونسل کے رکن محمد زید کالیا نے ‘‘Elevate More Heroes’’ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے قیادت کی ذمہ داری، ٹیلنٹ کی ترقی، اور پیشہ ورانہ مہارت کے فروغ پر زور دیا۔مالیاتی قیادت میں ٹیکنالوجی کے کردار پر ”اے آئی ان ایکشن: پاکستانی سی ایف اوز کس طرح آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو گروتھ اور ریزیلینس کے لیے استعمال کر رہے ہیں“ کے موضوع پر Bramerz کے سی ای او بدر خوشنود نے پریزنٹیشن دی جس میں انہوں نے مالیاتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ادارہ جاتی تبدیلی میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔
ایک اور دلچسپ پینل مباحثہ ”قواعدِ کار کی نئی تشکیل: غیر یقینی صورتحال کو Capability-Led Growth میں تبدیل کرنا“ کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں مالیاتی ماہرین کو درکار مہارتوں پر گفتگو کی گئی۔ پینل میں Carnelian کے کنسلٹنٹ کامران رضوی، ٹپال ٹی کے سی ایف او امتیاز جلیل اور McKinsey & Company کے ایکسٹرنل ایڈوائزر مقیم الحق شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ کے سی ایف او بلال خان نے انجام دیئے۔کانفرنس میں ”ٹھہریں، سانس لیں، مسکرائیں: مائیکرو مومنٹس جو اہمیت رکھتے ہیں“ کے موضوع پر ایک منفرد سیشن بھی شامل تھا جسے عدیل ہاشمی نے منعقد کیا۔اس سیشن میں ذاتی استقامت، ذہنی وجسمانی صحت اور قیادت میں توازن کی اہمیت پر توجہ دی گئی۔اختتامی مکالمہ بعنوان Why Pakistan?”“ میں پاکستان کے بزنس پروسیس آئوٹ سورسنگ (بی پی او) اور شیئرڈ سروسز کے مرکز کے طور پر بڑھتے ہوئے امکانات پر گفتگو کی گئی۔
اس سیشن میں ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل کی ہیڈ آف فنانس سعدیہ خان اور اے جے آر ایکویٹی کے ڈئریکٹر روپرٹ ڈیہینے نے عالمی آئوٹ سورسنگ کے شعبے میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی مسابقتی صلاحیت کو اجاگر کیا۔آئی کیپ سی ایف او کانفرنس 2026 کے اسلام آباد ایڈیشن نے مالیاتی رہنمائوں کو ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں انہوں نے خیالات کا تبادلہ کیا، ابھرتے ہوئے چیلنجز پر مباحثے اور پاکستان کی معاشی مضبوطی اور طویل المدتی ترقی کے لیے عملی حل پر غور کیا۔







