پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء تاریخی کامیابی ہے، بانڈ کو عالمی سرمایہ کاروں کی غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء تاریخی کامیابی ہے، بانڈ کو عالمی سرمایہ کاروں کی غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

مزید خبریں
بیجنگ۔14مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہاہے کہ پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء تاریخی کامیابی ہے، پہلے پانڈا بانڈ کو عالمی سرمایہ کاروں کی غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کوبیجنگ میں پانڈا بانڈ کے کامیاب اجراء کے بعد اپنے ایک بیان میں کہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے کامیاب اجراء سے پاکستان پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا کا پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور خودمختار مالی ساکھ پر اعتماد مضبوط ہوا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پانڈا بانڈ کا اجراء پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں مضبوط واپسی کا مضبوط اشارہ ہے اور تاریخی کامیابی سے عالمی اقتصادی و مالیاتی روابط کا نیا باب کھل گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پانڈا بانڈ کا اجراء پاکستان کے اقتصادی سفر میں اہم سنگ میل ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کا مثبت ردعمل پاکستان کی معاشی تبدیلی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصلاحاتی رفتار نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کر لیا ہے، پانڈا بانڈ کے اجراء سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے جمعرات کوچین کی آن شور کیپیٹل مارکیٹ میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری کر دیا ہے،تاریخی نوعیت کے پانڈا بانڈ کے تحت 1.75 ارب آر ایم بی (تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر)مالیت کے بانڈ جاری کیے گئے، مجموعی طور پر تقریباً 1.26 ارب ڈالر سے زائد کی بولیاں موصول ہوئیں، بانڈ پانچ گنا زیادہ اوور سبسکرائب ہوا۔
اس اقدام کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی دوسری بڑی اور گہری کیپٹل مارکیٹ میں باضابطہ طورپر داخل ہو گیا ۔ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ تین سالہ فکسڈ ریٹ مالیاتی انسٹرومنٹ ہے جو چینی کرنسی آر ایم بی میں جاری کیا گیا، یہ چین کی آن شور کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی خودمختار آر ایم بی بنیاد پر جاری کردہ بانڈ سکیم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ صرف ابتدائی قسط کے لیے موصول ہونے والی طلب ہی پاکستان کے پورے مجوزہ پانڈا بانڈ پروگرام جس کا حجم 7.2 ارب آر ایم بی (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر ) ہے، سے زیادہ رہی، اس سے پاکستان کی معاشی سمت، اصلاحات کے ایجنڈے اور مستقبل کے اقتصادی امکانات پر عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے ۔ مضبوط آرڈر بک کی بدولت پاکستان کو انتہائی مسابقتی شرح پر سرمایہ حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور بانڈ کا کوپن ریٹ صرف 2.5 فیصد مقرر ہوا۔







