کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے دیہی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات میں اضافہ کے لیے پنجاب حکومت کو انقلابی اور جامع منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے عین مطابق ہے جس کے تحت خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے
دیہی خواتین کو کھڈیاں فراہم، قالین بنانے ، ڈیزائننگ اور فِنشنگ کی تربیت دی جائے، اعجاز الرحمٰن
اسلام آباد۔17مئی (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ نے دیہی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات میں اضافہ کے لیے پنجاب حکومت کو انقلابی اور جامع منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے عین مطابق ہے جس کے تحت خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔چیئر پرسن سی ٹی آئی اعجاز الرحمن کی زیر صدارت دیہی خواتین اور صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کے اجلاس میں تجویز کردہ منصوبے کی خصوصیات اور اس کے ممکنہ معاشی و سماجی فوائد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز الرحمن نے کہا کہ تجویز کردہ منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خواتین کو بااختیار بنانے کے وژن کے عین مطابق ہے جس کے تحت خواتین کو معاشی ترقی، سماجی شمولیت اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ترجیحات کی تکمیل کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے قالینوں کی تیاری بنیادی طور پر کاٹیج انڈسٹری ہے جسے ماضی میں دیہی خواتین بڑی کامیابی سے چلاتی رہی ہیں۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت صوبے کے تمام اضلاع اور تحصیلوں کی دیہی خواتین کو مختلف سائز کی کھڈیاں مفت فراہم کر ے، اس کے ساتھ خواتین کو ہاتھ سے قالین بنانے کی عملی تربیت، ڈیزائننگ اور فِنشنگ کی تکنیکوں سے بھی آگاہی دی جائے ۔ مزید براں تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو ابتدائی کاروبار شروع کرنے کے لیے ورکنگ کیپٹل بھی فراہم کیا جائے تاکہ وہ گھریلو سطح پر باقا عدہ قالین سازی کا کام شروع کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن تربیت یافتہ خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی مناسب قیمتوں پر مارکیٹنگ میں معاونت کرے گی جبکہ خواتین کو اپنی مصنوعات اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا اور ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہوگی۔اعجاز الرحمن کے مطابق تین ماہ کے ابتدائی تربیتی کورس کی تکمیل پر خواتین کو باقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں جبکہ پی سی ایم ای اے اور سی ٹی آئی لاہور تربیت یافتہ خواتین سے مستقل رابطے میں رہیں گے تاکہ انہیں قالین کی تیاری ، ڈیزائننگ، فِنشنگ اور دیگر تکنیکی امور میں رہنمائی اور معاونت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت پاکستان کی پانچ بڑی برآمدی صنعتوں میں شامل ہے مگر عالمی حالات، پیداواری لاگت اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی کے باعث یہ شعبہ زوال کا شکار ہے جس کے نتیجے میں پیداوار اور برآمدات میں کمی آئی۔اعجاز الرحمن نے کہا کہ 70اور80کی دہائی میں پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن نے پنجاب بھر میں قالین سازی کے 83 تربیتی و پیداواری مراکز قائم کیے تھے جن کی بدولت نہ صرف ہنر مند افرادی قوت تیار ہوئی بلکہ قالینوں کی برآمدات 250 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں تاہم بعد ازاں ان مراکز کی بندش سے یہ صنعت شدید متاثر ہوئی اور موجودہ برآمدات کم ہو کر تقریباً 60 ملین ڈالر سالانہ رہ گئی ہیں۔









