کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر میں کنوینر غلام محمد صفی کی زیرِ صدارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق امیر جماعتِ اسلامی کشمیر، ممتاز دینی رہنماء اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے مخلص داعی شیخ غلام حسن کی وفات پر ایک دعائیہ و تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مرحوم کی دینی، فکری، سماجی، اخلاقی اور ملی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
کنوینر غلام محمد صفی کی زیرِ صدارت شیخ غلام حسن کی وفات پر دعائیہ و تعزیتی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے دفتر میں کنوینر غلام محمد صفی کی زیرِ صدارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق امیر جماعتِ اسلامی کشمیر، ممتاز دینی رہنماء اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے مخلص داعی شیخ غلام حسن کی وفات پر ایک دعائیہ و تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مرحوم کی دینی، فکری، سماجی، اخلاقی اور ملی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
یہاں جاری بیان کے مطابق کنونیر غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شیخ غلام حسن ایک صاحبِ بصیرت، سادہ مزاج اور باوقار شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام، اخلاقی اقدار، قومی بیداری اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے مشکل حالات اور سیاسی دباؤ کے باوجود صبر، استقامت اور وقار کے ساتھ حق و صداقت کی آواز بلند کی۔
انہوں نے کہا کہ شیخ غلام حسن علم، دانائی، اعتدال اور اخلاص کا حسین امتزاج تھے جبکہ نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ مرحوم آزادی پسند فکر کے حامل تھے اور غلامی کے ہر تصور سے نفرت کرتے تھے، اسی جذبۂ حریت کے تحت انہوں نے اپنے نام میں ’’غلام‘‘ کے بجائے ’’محمد حسن‘‘ لکھنا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ شیخ غلام حسن کی وفات سے کشمیر ایک مدبر، مخلص اور بااثر قیادت سے محروم ہو گیا ہے، جس کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔
اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے صاحبزادے کی شہادت کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔اجلاس میں محمود احمد ساغر، ایڈوکیٹ پرویز احمد، شمیم شال، داود خان، سید اعجاز رحمانی، نثار مرزا، میاں مظفر، سید گلشن، شیخ عبد الماجد، سید منظور احمد شاہ، منظور احمد ڈار، زاہد مجتبیٰ، عبد المجید میر،محمد شفیع ڈار ،سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ سمیت دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب، بلندیٔ درجات اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے شہداء کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔








