سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے صارفین کو ڈیجیٹل ذرائع سے فنانشل سروسز کی فراہمی کو فروغ دینے کے پیش نظر مختلف ڈیجیٹل مالیاتی سروسز کے لائسنس جاری کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کا پہلے ڈیجیٹل جنرل تکافل کا لائسنس فرسٹ ڈیجیٹل تکافل کمپنی لمیٹڈ کو جاری کیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل انویسٹمنٹ ایڈوائزری سروسز کا پہلا لائسنس ویلتھ برج مینجمنٹ لمیٹڈ کو جاری کیا گیا ۔
ایس ای سی پی، ڈیجیٹل فنانشل سروسز کے فروغ کے لیے مختلف مالیاتی سروسز کے لائسنس جاری
اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے صارفین کو ڈیجیٹل ذرائع سے فنانشل سروسز کی فراہمی کو فروغ دینے کے پیش نظر مختلف ڈیجیٹل مالیاتی سروسز کے لائسنس جاری کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کا پہلے ڈیجیٹل جنرل تکافل کا لائسنس فرسٹ ڈیجیٹل تکافل کمپنی لمیٹڈ کو جاری کیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل انویسٹمنٹ ایڈوائزری سروسز کا پہلا لائسنس ویلتھ برج مینجمنٹ لمیٹڈ کو جاری کیا گیا ۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن سے جاری بیان کے مطابق پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو پروگرام کے لیے پنجاب لائف انشورنس لمیٹڈ کو پہلی صوبائی حکومت کی ملکیت میں لائف انشورنس کمپنی کا لائسنس بھی جاری کیا گیا ۔نئے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو کے چارج سنبھالنے کے بعد ایس ای سی پی نے تین ماہ کے دوران لائسنس کی زیر التوا درخواستوں میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 510 درخواستوں کو نمٹا دیا ۔
فروری کے مہینے میں ایس ای سی پی کے پاس 729 لائسنسنگ درخواستیں زیر التوا تھیں جبکہ اس عرصے کے دوران مزید 414 نئی درخواستیں موصول ہوئیں جس سے مجموعی درخواستوں کی تعداد 1,143 ہو گئی۔ایس ای سی پی کے لائسنسنگ کے محکمہ نے دو ماہ میں 510 درخواستوں کو نمٹایا جس کے بعد زیر التوا کیسز کی تعداد کم ہو کر 633 رہ گئی ہے۔ نمٹائی گئی درخواستوں میں 84 لائسنس کی درخواستیں، 20 پیشگی این او سی ، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو افسران کی تقرریوں کی 53 درخواستوں کی منظوریا ں، 264 لائسنسوں کی تجدید، سات شیئر ٹرانسفر کیسز اور 45 دیگر منظوریاں شامل تھیں۔ اس دوران 37 کیسز درخواست گزاروں کی عدم دلچسپی یا ریگولیٹری تقاضے پورے نہ کرنے کی بنیاد پر خارج کر دیے گئے ۔
چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو کی تمام تر توجہ کمیشن کے مختلف ڈیپارٹمنٹس میں جمع بیک لاگ کو ختم کرنے پر ہے۔ اس سلسلے میں ڈیپارٹمنٹ میں داخلی اصلاحات کی گئیں اور ڈیپارٹمنٹ کو درخواستوں کو نمٹانے کے واضح ٹارگٹ دیے گئے ہیں۔ ریگولیٹری پراسیسنگ کو آسان بنانے کے لیے غیر ملکی افراد کے لیے لائسنس درخواستوں پر پیشگی سکیورٹی کلیئرنس کی پیچیدہ شرط کو ختم کیا جائے گا تاہم ایسے غیر ملکی ڈائریکٹرز کو لائسنس کا مشروط اجرا کیا جائے گا۔
اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں کے لائسنس کے لیے ریگولیٹری اور دستاویزی تقاضوں کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ نان پرافٹ سیکٹر میں رجسٹریشن کا عمل مزید بہتر بنایا جا سکے۔یہ اصلاحات پاکستان کے نان بینکنگ مالیاتی سیکٹر کو جدید بنیاد پر استوار کرنے ، مالیاتی شمولیت کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور ڈیجیٹل ریگولیٹری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہیں۔









