حکومت کے بروقت اقدامات، دانشمندانہ فیصلوں اور معتدل لوڈ مینجمنٹ کی بدولت بجلی صارفین کو بلوں میں 6روپے فی یونٹ تک اضافے سے بچا لیا گیا، پاور ڈویژن

حکومت کے بروقت اقدامات، دانشمندانہ فیصلوں اور معتدل لوڈ مینجمنٹ کی بدولت بجلی صارفین کو بلوں میں 6روپے فی یونٹ تک اضافے سے بچا لیا گیا، پاور ڈویژن

اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):حکومت کے بروقت اقدامات، دانشمندانہ فیصلوں اور معتدل لوڈ مینجمنٹ کی بدولت ملک کے بجلی صارفین کو جون 2026ء میں بجلی کے بلوں میں 5سے 6روپے فی یونٹ اضافے سے بچا لیا گیا ہے۔ پیر کو وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق علاقائی تنازعے (ایران امریکا جنگ) کے باعث آر ایل این جی کی شدید قلت، بین الاقوامی ایندھن کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے اور مہنگے فیول آئل پر بجلی پیدا کرنے کے باوجود پالیسی کے تسلسل اور موثراقدامات کی بدولت جون کے مہینے میں بجلی کے بلوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ بلکہ صارفین کو 20پیسے تک کا ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ بہترین انتظامی اور پالیسی لیول کے فیصلوں کی بدولت لاسز میں کمی اور دیگر اصلاحات کے ثمرات کی صورت میں اس سال کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) کے تحت 1.93 روپے فی یونٹ کمی اگلے تین ماہ کے لیے ہو رہی ہے جس کا کل حجم 65 ارب روپے ہے۔

اسی طرح اپریل 2026 کیلئے 5سے 6روپے فی یونٹ اضافی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کو بروقت فیصلوں سے کم کرکے اصل اضافہ 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود کردیا گیا ہے۔سہ ماہی اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ ایک دوسرے کے اثر کو نہ صرف مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔ بلکہ صارفین کو20پیسے تک کے ریلیف کا بھی امکان ہے ۔چنانچہ صارفین کیلئے جون 2026ء میں جنوری تا مئی 2026ء کے مقابلے میں فی یونٹ قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔حکومت بہترین حکمت عملی کی بدولت ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 5 سے 6 روپے کے ممکنہ اضافے کو روکنے میں مکمل کامیاب رہی۔حکومت صرف اپریل کے مہینے میں تقریباً 38 ارب روپے تک کے ممکنہ بوجھ کو بجلی صارفین پر منتقل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہی ہے۔سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد 65 ارب روپے کا منفی اثر رہا جس سے صارفین کو 1.93 روپے فی یونٹ ریلیف ملے گاجبکہ اپریل کے مہینے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے مد میں 19 ارب روپے کا مثبت اثر ریکارڈ کیا گیا۔

متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی صارفین کے حق میں جارہی ہے۔یہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کمی بنیادی طور پر ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ میں اضافے، لائن لاسز میں کمی ، قیمتوں میں استحکام اور انکریمنٹل ٹیرف پیکیجز کے تحت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوئی۔نیپرا نے جس وقت بنیادی ٹیرف کا تعین کیا تھا اس میں وفاقی حکومت نے سبسڈیز شامل کرنے کے بعد نوٹیفائی کیا تھا۔ اس ٹیرف کے تخمینے میں ایندھن کی قیمتوں، شرح مبادلہ، ڈیمانڈ پیٹرن اور جنریشن مکس کی بنیاد پر لگائے گئے تھے، لیکن علاقائی تنازعے (ایران امریکا جنگ) نے صورتحال یکسر بدل کر رکھ دی۔ بین الاقوامی ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو گئیں، سپلائی بالکل رک گئی اور جنریشن مکس یکسر تبدیل ہوگیا۔بجلی کی پیداوار میں آر ایل این جی پر خاصا کردار ہے ۔ریفرنس ٹیرف میں آر ایل این جی کو برینٹ کروڈ کی 70 ڈالر فی بیرل پر پروجیکٹ کیا گیا تھامگر اپریل 2026ء میں یہ بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

عام حالات میں اس کا مطلب 5 سے 6 روپے فی یونٹ کا ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ ہوتا ہے لیکن حکومت نے وہ کر دکھایا جو مشکل سے ممکن تھا۔ برینٹ قیمتوں میں شدید اضافے اور آر ایل این جی کی عدم دستیابی کومقامی گیس کی اضافی الاٹمنٹ، فرنس آئل اور درآمد شدہ کوئلے پر چلنے والے پلانٹس سے زیادہ بجلی کی پیداوار اور معتدل لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے موثر طریقے سے کم کیا گیا۔نتیجہ یہ کہ اپریل 2026ء کے لیے اصل فیول ایڈجسٹمنٹ کو صرف 1.73 روپے فی یونٹ پر ہی محدود رکھا گیا۔یہ تمام حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریفرنس ٹیرف دانشمندانہ طور پر طے کیا گیا تھااور عالمی و علاقائی مشکلات (خصوصاً ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے آر ایل این جی کی سپلائی میں خلل اور فیول آئل پر مجبوراً انحصار) کے باوجود حکومت نے اپنی موثر کاوشوں سے صارفین کو بڑے اضافے سے بچا لیا۔