پاکستان اور چین کی دوستی 75 برس سے ہر آزمائش پر پوری اتری ہے ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی گزشتہ 75 برسوں سے ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی گزشتہ 75 برسوں سے ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔بدھ کو سینیٹ اجلاس میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے وائس چیئرمین کائی ڈافنگ کی سربراہی میں آنے والے پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے چین کی غیر متزلزل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جبکہ پاکستان بھی ون چائنا پالیسی پر مستقل طور پر کاربند ہے اور چین کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر اس کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین علاقائی و عالمی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں اور اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف عالمی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ امن کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے میں ہیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے 31 مارچ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کیا تھا جہاں دونوں ممالک نے علاقائی تنازع کے حل کے لیے پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جسے بعد ازاں درجنوں ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ اور پاک چین دوستی کی روشن علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں صنعتکاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان شدید توانائی بحران کا شکار تھا اور شہری علاقوں میں 18 جبکہ دیہی علاقوں میں 20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، تاہم چین نے پاکستان کو توانائی بحران سے نکالنے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جس پر پاکستانی قوم ہمیشہ شکر گزار رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ دورے کے دوران پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات منعقد ہوں گی جبکہ چینی قیادت بشمول صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔