سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 اور ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 اور ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سیف اللہ ابڑو، ثمینہ ممتاز …

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 اور ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سیف اللہ ابڑو، ثمینہ ممتاز زہری، پلوشہ محمد زئی خان، محمد طلحہ محمود، میر دوستین خان ڈومکی، دلاور خان، عابد شیر علی، سرمد علی اور منظور احمد کاکڑ شریک ہوئے جبکہ سینیٹر ناصر بٹ اور عبدالقادر نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔کمیٹی نے سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کردہ اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 پر غور کیا۔ سینیٹر سرمد علی نے کمیٹی کو بتایا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تحت ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کی تجویز پہلے بھی زیر بحث آ چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کمیٹی کی سابقہ ہدایات کے باوجود سی ڈی اے اور وزارتِ قانون نے مجوزہ قانون سازی پر ان سے مؤثر مشاورت نہیں کی۔سی ڈی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے خود ایک اتھارٹی ہے، اس لئے اس کے اندر مزید ایک اتھارٹی قائم کرنا ممکن نہیں۔ اس پر سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اس بل کا مقصد عوامی سہولت ہے خصوصاً 12 سال سے کم عمر بچوں اور بزرگ شہریوں کو کرایہ میں استثنیٰ فراہم کرنا ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ حال ہی میں سی ڈی اے کے چیئرمین اور بورڈ ممبران تبدیل ہوئے ہیں، اس لئے مزید مشاورت کے لئے وقت درکار ہے جبکہ انہوں نے بل میں تجویز کردہ ترامیم کو سراہا۔کمیٹی نے اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا اور قرار دیا کہ اس معاملے پر متعدد اجلاسوں میں پہلے ہی تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔ کمیٹی نے ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ حکومتی ارکان، وزارت داخلہ اور وزارت قانون کی حمایت سے اس بل کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔فوجداری قوانین (غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام) بل پر بحث کے دوران سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے زور دیا کہ جرگہ نظام میں شامل افراد خصوصاً وہ لوگ جو غیرت کے نام پر بے گناہ افراد کو سزائیں تجویز کرتے ہیں، انہیں بھی قانون کے تحت جوابدہ بنایا جائے۔ انہوں نے موجودہ قانونی نظام میں موجود خامیوں، بالخصوص زبردستی صلح اور متاثرین و ان کے خاندانوں پر مسلط کئے جانے والے جبر پر تشویش ظاہر کی۔ سینیٹر ثمینہ نے کہا کہ غیرت کے نام پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔وزارت قانون کے نمائندوں نے کہا کہ بعض مجوزہ ترامیم عدالتی اختیارات کو محدود کر سکتی ہیں اور انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔سینیٹر عابد شیر علی نے امن و امان برقرار رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری پر زور دیا۔ وزارت داخلہ، حکومت بلوچستان اور حکومت آزاد جموں و کشمیر پہلے ہی ان مجوزہ ترامیم کی حمایت کر چکی ہیں۔ تمام حقائق و شواہد کی روشنی میں کمیٹی نے اس بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضلع راولپنڈی میں سلمان خیل قبیلے کا ایک فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے جو افراد کے پاکستانی یا افغان ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ کمیٹی اراکین نے ایک نجی فرد کو شہریت کی تصدیق کا اختیار دینے پر اعتراض اٹھایا۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ کسی بھی نجی شخص کو، سوائے مجاز سرکاری افسر کے، شہریت کی تصدیق کی اجازت نہ دی جائے اور عوام کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے آر پی او راولپنڈی کو ہدایت دی کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران حراست میں لئے گئے تمام افراد کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کی جائیں۔کمیٹی نے اسلام آباد کی رمشا کالونی اور علامہ اقبال شاپر کالونی میں تجاوزات کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا۔ سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ اگرچہ ابھی تک کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا، تاہم یہ آبادیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔ چیئرمین نے سی ڈی اے کو ہدایت دی کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خاتمے کو ترجیح دی جائے اور ہر آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) کراچی پولیس نے کمیٹی کو مبینہ منشیات سمگلنگ اور منشیات فروشی کے مقدمے میں انمول پنکی کی حالیہ گرفتاری پر بریفنگ دی۔ آئی جی کراچی پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ پانچ ماہ سے ملزمہ کی نگرانی کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمہ کے قبضے سے تقریباً ڈیڑھ کلو گرام کوکین، جس کی مالیت 3 کروڑ 5 لاکھ روپے بتائی گئی اوراسلحہ برآمد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی ریمانڈ کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی تھی تاہم بعد ازاں تین روزہ ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2018 سے 2025 کے دوران ملزمہ کے خلاف متعدد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ اس کے موبائل فون ریکارڈ اور بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ کیس کی نگرانی کرنے والے افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور مؤثر پراسیکیوشن کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ منشیات کی ترسیل کے مکمل نیٹ ورک اور اس سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کی نشاندہی کی جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث یا سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ریجنل ڈائریکٹوریٹ کمانڈر نے کمیٹی کو بتایا کہ انمول پنکی کے خلاف 2019 میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے این ایف پنجاب حکام کے ساتھ رابطے میں رہی تاکہ ملزمہ کی گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ کمیٹی کی سفارشات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاسوں میں پیشرفت رپورٹس پیش کی جائیں۔