سوڈان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور امدادی رسائی میں مشکلات کے باعث عالمی انسانی تنظیمیں ڈینگی، ایم پاکس اور ہیضے کے مشتبہ کیسز پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق مغربی کردفان کے علاقے النہود میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) اور شراکت دار ادارے شدید پانی دار اسہال (جو ہیضے سے …
سوڈان میں وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ، اقوام متحدہ کی انسانی تنظیمیں سرگرم

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔22مئی (اے پی پی):سوڈان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور امدادی رسائی میں مشکلات کے باعث عالمی انسانی تنظیمیں ڈینگی، ایم پاکس اور ہیضے کے مشتبہ کیسز پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق مغربی کردفان کے علاقے النہود میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) اور شراکت دار ادارے شدید پانی دار اسہال (جو ہیضے سے منسلک ہوتا ہے) کے ممکنہ پھیلاؤ سے نمٹ رہے ہیں، جہاں اس ہفتے 100 سے زائد مشتبہ کیسز اور درجنوں اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔دارفور کے علاقوں وسطی اور جنوبی دارفور میں ایم پاکس کے مشتبہ پھیلاؤ کے نتیجے میں 300 سے زائد کیسز اور 5 اموات سامنے آئی ہیں، جبکہ صحت کے ادارے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح شمالی اور دریائے نیل کی ریاستوں میں ڈینگی بخار کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں ایک ماہ کے دوران مشتبہ کیسز تین گنا بڑھ کر 500 سے تجاوز کر گئے ہیں۔اوسی ایچ اے نے خبردار کیا ہے کہ یہ صحت کے بحران ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب سیکیورٹی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے۔ جنوبی کردفان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور ایک طبی مرکز کو نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق سال کے ابتدائی چار ماہ میں سوڈان میں 1.6 ملین سے زائد افراد کو انسانی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ مزید فنڈنگ اور محفوظ رسائی کی اشد ضرورت ہے۔








