امریکی صدر کا کیوبا میں مداخلت کا عندیہ، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی صدور کیوبا کے حوالے سے کارروائی پر غور کرتے رہے، تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ وہ خود اس معاملے میں مداخلت کریں گے۔شنہوا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کیوبا کے معاملے میں اقدام کرنے پر خوش ہوں گے۔

واشنگٹن ۔22مئی (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی صدور کیوبا کے حوالے سے کارروائی پر غور کرتے رہے، تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ وہ خود اس معاملے میں مداخلت کریں گے۔شنہوا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کیوبا کے معاملے میں اقدام کرنے پر خوش ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیوبن نژاد امریکی واپس جا کر مدد کر سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس وقت کیوبا کے ساتھ مذاکراتی معاہدے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔امریکہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے انقلابی رہنما راول کاسترو پر 30 سال قبل دو طیارے گرائے جانے کے واقعے میں فردِ جرم عائد کی ہے، جبکہ امریکی بحری بیڑا "نمٹز کیریئر اسٹرائیک گروپ” بھی کیریبین خطے کی جانب روانہ کیا گیا ہے، جسے کیوبا پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے امریکی الزامات کو "سیاسی چال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کیوبا پر کسی بھی امریکی فوجی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور پورے لاطینی امریکی خطے کا امن متاثر ہو سکتا ہے۔