زرعی میوزیم کے ذریعے زرعی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم ایک سنگِ میل ثابت ہوگا،زرعی ماہر

زرعی میوزیم کے ذریعے زرعی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم ایک سنگِ میل ثابت ہوگا،زرعی ماہر

فیصل آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی):پاکستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ زرعی میوزیم کے ذریعے زرعی ورثے کو محفوظ بناتے ہوئے جدت، تعلیمی و تحقیقی تعاون اور کمیونٹی کی شمولیت سے زرعی شعبے میں ترقی اور غذائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اس ضمن میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ماہرین نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر ایکسٹینشن ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ اور محکمہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم وراثت سے جدت تک مستقبل کے لیے زرعی ورثے کا تحفظ کے افتتاحی روز خطاب کیا۔

چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے غذائی تحفظ اور ترقی کے لیے جدید زرعی تحقیق اور اداروں کے مابین دوطرفہ تکنیکی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب ایگریکلچرل کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لائل پور (زرعی یونیورسٹی فیصل آباد) برصغیر کا پہلا زرعی ادارہ تھا جسے فیمین (قحط) کمیشن کی سفارش پر قائم کیا گیا تھا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے اولڈ کیمپس کا فنِ تعمیر نامور معمار بھائی رام سنگھ نے ڈیزائن کیا تھا۔انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباداور واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان 1961 سے قائم تاریخی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں موجود ”امریکن کالونی” میں 1960 کی دہائی میں 13 امریکی سائنسدان اور پروفیسرز 10 سال تک مقیم رہے، جو دونوں اداروں کی تعلیمی ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ یہ پاکستان میں پہلا زرعی میوزیم ہوگا جس کا انڈور (اندرونی) رقبہ 55,000 مربع فٹ اور آؤٹ ڈور (بیرونی) رقبہ 32,000 مربع فٹ ہوگا۔ اس میں 30 سے زائد انڈور گیلریاں اور ایک ”ہال آف فیم” ہوگا، جہاں روایتی اوزاروں سے لے کر جدید ہائیڈروپونکس اور گرین ہاؤس ماڈلز کی نمائش کی جائے گی۔ڈاکٹر پال وہٹنی،و ائس پریذیڈنٹ انٹرنیشنل پروگرام واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے جدت کے فروغ میں تعلیمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر آصف چوہدری،سابق وائس پریذیڈنٹ انٹرنیشنل پروگرام واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے کہا کہ دونوں اداروں کے تعلقات جدید ترین تحقیقی تعاون میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکو جدید تحقیقی ٹیکنالوجی اور گرمی برداشت کرنے والی گندم کی بہترین جینیاتی لائنیں فراہم کی ہیں۔آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے محمد اعجاز قریشی نے کہا کہ پاکستان ترقی پسند زراعت کیلئے اقدامات کرے واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر کلوندر ایس گل نے سائنسی اور مقامی علم کو یکجا کرنے والے ہائبرڈ طریقوں پر زور دیا تاکہ یونیورسٹی کی ایجادات کو پاکستان کی غذائی تحفظ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

پروفیسر پرویز وندل، بانی پرو وائس چانسلر، انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچرنے بھائی رام سنگھ کے فنِ تعمیر پر روشنی ڈالی، جنہوں اسکول آف آرٹ (موجودہ این سی اے)،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، لاہور میوزیم، ایچی سن کالج، پنجاب یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور، خالصہ کالج امرتسر، ڈیزائن کیا تھا۔سعدیہ زینب (میوزیم کنسلٹنٹ)نے بتایا کہ میوزیم میں لرننگ فیسیلٹیز، ہربیریم، فلورا اینڈ فانا سینٹر، اور وی آر (VR) و آڈیو گائیڈز پر مبنی ڈیجیٹل نمائشیں ہوں گی۔ بیرونی حصے میں ایک روایتی گاؤں کا منظر اور جدید فصلوں کی پیداوار کے ماڈل سیاحوں کے منتظر ہوں گے۔