ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان صباحت حسین نے کہا ہے کہ موجودہ شدید گرمی کی لہر کپاس کی فصل کے لیے انتہائی حساس مرحلہ ہے، خصوصاً وہ اگیتی کپاس جو اس وقت پھول اور گڈی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
شدید گرمی کی لہر کے باعث کپاس کے پھول اور گڈی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ،صباحت حسین

مزید خبریں
ملتان۔ 23 مئی (اے پی پی):ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان صباحت حسین نے کہا ہے کہ موجودہ شدید گرمی کی لہر کپاس کی فصل کے لیے انتہائی حساس مرحلہ ہے، خصوصاً وہ اگیتی کپاس جو اس وقت پھول اور گڈی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس مرحلے پر معمولی موسمی دباؤ بھی پیداوار میں واضح کمی کا سبب بن سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئی کے مطابق سندھ اور پنجاب کے بعض علاقوں میں شدید گرمی کی لہر متوقع ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت 46 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ فوری اور موثر زرعی اقدامات اختیار کریں تاکہ فصل کو شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اگیتی کپاس میں پھول اور گڈی کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اس نازک مرحلے میں معمولی موسمی دباؤ بھی پیداوار پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے، اس لیے فصل کو سٹریس (دباؤ) سے بچانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ہلکی آبپاشی چار سے پانچ دن کے وقفے سے کی جائے اور پانی کے استعمال کو اس انداز میں منظم کیا جائے کہ زمین میں نمی کا توازن برقرار رہے۔ آبپاشی ہمیشہ صبح یا شام کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات میں کی جائے تاکہ بخارات کے ذریعے ضیاع کم سے کم ہو۔ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے کاشتکار جن کی فصل پر پھول ،ڈوڈیاں اور ٹینڈے بننے کا عمل شروع ہے تو اس فصل میں 10 تا20 کلوگرام ایس او پی یا ایم او پی بذریعہ آبپاشی دیں۔ گرمی کی شدت کے پیش نظر فصل کی حفاظت کے لئے فصل کو غذائی اجزا دیئے جائیں۔ فصل میں لگی ڈوڈیوں اور ٹینڈوں میں اضافے کے لئے پوٹاشیم سلفیٹ 300 گرام، میگنیشیم سلفیٹ 350 گرام،زنک سلفیٹ 250 گرام، کاپر سلفیٹ 200گرام اوربوریکس 200 گرام ،سب کا الگ الگ محلول تیار کریں ،اس کے بعد سب کو ملا کر 100 لیٹر پانی میں ملانے کے بعد فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں اور 15 دن کے وقفہ سے یہ عمل دہرائیں۔انہوں نے کہا کہ امینو ایسڈز کا استعمال بھی اس مرحلے پر خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پودے کو ماحولیاتی دباؤ، خصوصاً شدید گرمی کے اثرات اور برداشت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ امینو ایسڈز خلیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، غذائی اجزاکے بہتر استعمال میں مدد دیتے ہیں اور پھول و گڈی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے امینو ایسڈز کا فولیئر سپرے 2 سے 4 مرتبہ کریں اور ہر سپرے کے درمیان تقریباً 10 دن کا وقفہ رکھیں ۔ بہتر نتائج کے لیے ہر سپرے کے ساتھ متوازن غذائی اجزا بھی مناسب مقدار میں شامل کیے جائیں تاکہ پودے کی توانائی اور نشوونما برقرار رہے۔ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان نے کہا کہ تمام اقسام کے سپرے شام کے وقت کریں تاکہ ان کا اثر دیرپا اور موثر ہو۔ آخر میں انہوں نے کاشتکاروں کو تاکید کی کہ وہ اس نازک مرحلے میں اپنی فصل کی مسلسل نگرانی کریں اور بروقت اقدامات کے ذریعے کپاس کے پھول اور گڈی کو محفوظ رکھیں۔








