اقوام متحدہ کا بین الاقوامی قانون کے احترام میں خطرناک کمی پر انتباہ

اقوام متحدہ کا بین الاقوامی قانون کے احترام میں خطرناک کمی پر انتباہ

اقوام متحدہ ۔27مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بین الاقوامی قانون کے احترام میں “خطرناک کمی” پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزیاں دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔شنہو ا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یو این چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور طاقت کے استعمال یا دھمکی کی ممانعت جیسے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلاف ورزیوں پر جوابدہی نہ ہونے کے باعث سزا سے استثنیٰ کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ جغرافیائی سیاسی تقسیم میں اضافہ اور باہمی اعتماد میں کمی عالمی اتفاقِ رائے کو مشکل بنا رہی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل اکثر اتحاد اور مشترکہ مقصد کے ساتھ کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تنازعات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، سوڈان، یوکرین اور دیگر خطوں میں تشدد کی شدت اور پیچیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ڈرونز سمیت جدید ہتھیاروں کا استعمال عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

انہوں نے تیز رفتار اور غیر مستحکم ہتھیاروں کی دوڑ کو بھی خطرناک قرار دیا۔انہوں نے مسائل کے حل کے لیے تین اہم شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں تنازعات کی روک تھام اور امن سازی، بین الاقوامی قانون کا احترام، اور سلامتی کونسل میں اصلاحات شامل ہیں۔انہوں نے سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی مستقل پاسداری کریں، امن کے مفاد میں فیصلے کریں، اعتماد کی بحالی کے لیے قیادت اور مفاہمت کا مظاہرہ کریں، اور اقوام متحدہ کو حقیقی معنوں میں عالمی امن، قانون اور سلامتی کا محافظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں