بولیویا میں ہنگامی حالت کے اعلان پر عائد پابندیاں ختم، نیا قانون نافذ
بولیویا میں ہنگامی حالت کے اعلان پر عائد پابندیاں ختم، نیا قانون نافذ

مزید خبریں
لاپاز۔28مئی (اے پی پی):بولیویا میں حکومت کی جانب سے ہنگامی حالت نافذ کرنے کے اختیارات پر عائد پابندیاں ختم کرنے والا نیا قانون بدھ کے روز نافذ العمل ہوگیا۔شنہوا نیوز کے مطابق سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے قانون 1732 کے تحت سابقہ قانون 1341 کو منسوخ کردیا گیا، جو ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ضوابط طے کرتا تھا۔ حکام اور کاروباری حلقوں کا مؤقف تھا کہ پرانا قانون حکومت کی عوامی بدامنی اور امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت محدود کررہا تھا۔
یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد صدر روڈریگو پاز نے نافذ کیا۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بولیویا میں مسلسل چوتھے ہفتے بھی احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہروں میں بولیوین ورکرز سینٹرل، کسان تنظیمیں، مقامی قبائلی برادریاں، کان کن، اساتذہ اور مختلف شہری انجمنیں شریک ہیں۔
کاروباری اور سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں کی بندش ختم کرنے اور بڑے شہروں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل بحال کرنے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کی جائے۔صدر روڈریگو پاز نے کہا ہے کہ وہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہتے ہیں، تاہم دیگر اقدامات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔بولیویا کے آئین کے مطابق صدر کو ملک بھر یا کسی مخصوص حصے میں سلامتی یا امن و امان کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔








