اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بطور قائم مقام چیف جسٹس میں ”انصاف سب کیلئے“ کے اصول پر یقین رکھتا تھا اور بطور چیئرمین نیب ”احتساب سب کیلئے“ میرا پختہ عزم ہے اور میں نہ صرف اس اصول پر سختی سے عمل کروں گا بلکہ قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے کسی صوبے/شخص …
چیئرمین نیب کا ادارہ کے ہیڈکوارٹر میں جائزہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بطور قائم مقام چیف جسٹس میں ”انصاف سب کیلئے“ کے اصول پر یقین رکھتا تھا اور بطور چیئرمین نیب ”احتساب سب کیلئے“ میرا پختہ عزم ہے اور میں نہ صرف اس اصول پر سختی سے عمل کروں گا بلکہ قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے کسی صوبے/شخص کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا اور نیب کی طرف سے کسی کے خلاف ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی، میں نے شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا ہے اور اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک تو نہیں برتا گیا، جہاں تک ناقابل ضمانت وارنٹس کا اجراءہے وہ مجاز عدالت کا اختیار صوابدیدی ہے اور نیب کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، نیب میں مذکورہ الزام کی قانون کے تقاضوں کے مطابق جانچ پڑتال کی جائے گی، اب حقائق، شواہد اور قانون کی بنیاد پر ریفرنس مجاز عدالتوں میں دائر کئے جائیں گے، چاہے وہ پاکستان کے کسی حصے سے متعلق ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں پراسیکیوشن ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔








