مانسہرہ، کاغان، ناران، جھالکنڈ اور چلاس میں نئی موٹروے تعمیر ہوگی، وفاقی وزیر مواصلات

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ مانسہرہ، کاغان، ناران، جھالکنڈ اور چلاس میں نئی موٹروے تعمیر ہوگی، نئی موٹروے کو براہِ راست چین سے منسلک کیا جائے گا

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ مانسہرہ، کاغان، ناران، جھالکنڈ اور چلاس میں نئی موٹروے تعمیر ہوگی، نئی موٹروے کو براہِ راست چین سے منسلک کیا جائے گا اور یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگا۔منگل کووزارت مواصلات سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی صدارت میں این ایچ اے کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات اورچیئر مین این ایچ اے نے وفاقی وزیر مواصلات کو اہم امور پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم این جے سی موٹروے کی کل لمبائی 172 کلومیٹر ہو گی، منصوبے میں 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل بنے گی جو پاکستان کی طویل ترین ٹنل ہوگی۔

اجلاس میں گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں موٹروے مانسہرہ سے کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ تک بنائی جائے گی،دوسرے مرحلے میں اس موٹروے منصوبے کو بابوسر ٹاپ سے چلاس تک مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موٹروے شاہراہ قراقرم کے متبادل کے طور پر بہترین اور محفوظ راستہ فراہم کرے گی، ایم این جے سی موٹروے سے شاہراہ قراقرم کا سفر 120کلومیٹر تک کم ہو جائے گا،موٹروے کا یہ نیٹ ورک مغربی چین کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑے گا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ یہ نئی موٹروے مغربی چین سے بحیرہ عرب تک تیز،مختصر اور موزوں ترین روٹ ہوگا،گوادر بندرگاہ کی پائیدار ترقی کے لیے یہ موٹروے منصوبہ حقیقی گیم چینجرثابت ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل میں 4 لین پر مشتمل اس موٹروے کو 6 لین تک بڑھانے کی گنجائش رکھی جائے گی، ایم این جے سی موٹروے پر ہر 25 سے 30 کلومیٹر بعد ریسٹ ایریاز بنیں گے،اس موٹروے کے دونوں اطراف گڈز ٹرانسپورٹ کےلئے ٹرکنگ ٹرمینلز قائم ہوں گے۔