عیدالاضحیٰ پر کھالوں کی تجارت سے 8.7 ارب روپے کی معاشی سرگرمی متوقع

پاکستان میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی خرید و فروخت ایک بڑی معاشی سرگرمی کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو نہ صرف لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ملکی چمڑا سازی اور برآمدی صنعت کے لیے بھی اہم بنیاد فراہم کرتی ہے

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):پاکستان میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی خرید و فروخت ایک بڑی معاشی سرگرمی کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو نہ صرف لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ملکی چمڑا سازی اور برآمدی صنعت کے لیے بھی اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔حکام کے مطابق رواں سال عیدالاضحیٰ پر قربانی کے تقریباً 75 لاکھ جانوروں کی کھالوں سے 8.7 ارب روپے (31 ملین ڈالر) کی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔ اندازوں کے مطابق 28 لاکھ گائے اور بیل، 43 لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور 30 ہزار اونٹ قربان کیے گئے ، جن کی کھالیں ملکی چمڑے کی صنعت کے لیے قیمتی خام مال فراہم کریں گی۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملک میں صارفین کے اعتماد اور خریداری کی صلاحیت میں بہتری کا مظہر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد دیہی اور شہری معیشت میں سرگرمیوں کے فروغ کا واضح اشارہ ہے۔چمڑے کی صنعت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں خام کھالوں کی فروخت کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری اور برآمدات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کی چمڑے سے تیار شدہ مصنوعات اور جوتوں کی برآمدات کا حجم 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت چمڑے کی صنعت کو مزید جدید اور مسابقتی بنانے کے لیے خام مال کی فراہمی سے آگے بڑھ کر تیار مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں اور ان کی کھالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک میں معاشی استحکام، عوامی اعتماد اور صنعتی ترقی کے مثبت رجحانات کی عکاس ہے، جبکہ کھالوں کی تجارت چمڑے کی صنعت کے فروغ اور قومی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔