چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور جرمن سفیر اینا لیپل نے موبائل رجسٹریشن وینز کا افتتاح کر دیا

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد اور پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے جمعرات کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں سات نئی موبائل رجسٹریشن وینز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔یہ سات نئی وینز جرمن حکومت کی جانب سے وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (بی ایم زیڈ) کے ذریعے فراہم کی گئی ہیں جبکہ اس منصوبے پر عملدرآمد جی آئی زیڈ کے تعاون …

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد اور پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے جمعرات کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں سات نئی موبائل رجسٹریشن وینز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔یہ سات نئی وینز جرمن حکومت کی جانب سے وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (بی ایم زیڈ) کے ذریعے فراہم کی گئی ہیں جبکہ اس منصوبے پر عملدرآمد جی آئی زیڈ کے تعاون سے کیا گیا ہے۔ ان وینز کے اضافے کے بعد بی آئی ایس پی کی موبائل رجسٹریشن وینز کی تعداد 25 سے بڑھ کر 32 ہوگئی ہے جس سے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مستحق خاندانوں تک رسائی مزید بہتر ہوگی۔گزشتہ دو برسوں کے دوران بی آئی ایس پی کے 647 ڈائنامک رجسٹری سینٹرز اور موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھرانوں نے اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا ہے۔

بی آئی ایس پی کا نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) ڈیٹا اب 3 کروڑ 87 لاکھ گھرانوں پر مشتمل ہے جبکہ اس ڈیٹا بیس سے 215 وفاقی اور صوبائی پروگرام مستفید ہو رہے ہیں۔اس موقع پر چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے جرمن حکومت، بی ایم زیڈ، جی آئی زیڈ اور کے ایف ڈبلیو کے نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سماجی تحفظ کے شعبے میں مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل رجسٹریشن وینز بی آئی ایس پی کی ان کوششوں کا اہم حصہ ہیں جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مستحق خاندان جغرافیائی دوری کی وجہ سے نظرانداز نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے بہتر نتائج کے لیے باہمی ربط انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے خواتین بینفشریز کی آگاہی کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے موثر استعمال اور ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں مزید موبائل رجسٹریشن وینز فراہم کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا تاکہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں سہولیات تک رسائی مزید بہتر ہو سکے۔اس سے قبل چیئرپرسن بی آئی ایس پی اور جرمن سفیر اینا لیپل نے ایک موبائل رجسٹریشن وین کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ چیئرپرسن نے سفیر کو نادرا کے ساتھ تعاون کے تحت سی این آئی سی، فارم۔ب کے اجراء اور بائیومیٹرک تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنے والی بینفشریز کے لیے فیشل ریکگنیشن سسٹم کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے نئے متعارف کردہ ڈیجیٹل والٹ سسٹم سے بھی آگاہ کیا جو مستحق خواتین کو مالی امداد کی شفاف اور باعزت فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

جرمن سفیر اینا لیپل نے موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے دور دراز علاقوں تک خدمات کی فراہمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد سماجی تحفظ کی سہولیات سے محروم نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وینز ہنگامی حالات اور سیلاب جیسے قدرتی آفات کے دوران بھی انتہائی موثر ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ یہ براہ راست متاثرہ علاقوں تک خدمات پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کے جدید اور موثر اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان وینز نے عوام کے اعتماد اور سہولت دونوں میں اضافہ کیا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز، ڈائریکٹر جنرلز، جرمن حکومت، بی ایم زیڈ، جی آئی زیڈ اور کے ایف ڈبلیو کے نمائندے بھی موجود تھے۔

 

مزید خبریں