انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواذوالفقار حمید کی زیر صدارت جمعہ کو ضم اضلاع میں جاری پولیس انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں، پولیس لائنز ،تھانہ جات، چوکیات اور پولیس پوسٹس بشمول ڈی پی اوز کی سرکاری رہائش گاہوں کی اراضی کے حصول اور تعمیر کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا

پشاور۔ 05 جون (اے پی پی):انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواذوالفقار حمید کی زیر صدارت جمعہ کو ضم اضلاع میں جاری پولیس انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں، پولیس لائنز ،تھانہ جات، چوکیات اور پولیس پوسٹس بشمول ڈی پی اوز کی سرکاری رہائش گاہوں کی اراضی کے حصول اور تعمیر کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔سنٹرل پولیس آفس پشاور تر جمان کے مطابق اجلاس میں ضم اضلاع میں جاری پولیس ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے مالی تعاون سے تقریباً 16 ارب روپے کی لاگت سے 88 پولیس ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائینگے جن میں 48 پر کام جاری ہے۔ یہ منصوبے باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، جنوبی وزیرستان لوئر، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت آٹھ اضلاع میں تعمیر ہونگے۔ متعدد منصوبوں پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے جبکہ بعض منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔اجلاس میں ان منصوبوں کو درپیش اراضی، سائٹ کی منتقلی اور دیگر انتظامی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جن منصوبوں میں زمین کے حصول، ملکیتی تنازعات یا متبادل سائٹس کی فراہمی جیسے مسائل درپیش ہیں، ان کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ، ریونیو حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے اور عملی اقدامات جاری ہیں۔ بعض منصوبوں کے لیے متبادل مقامات کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے جبکہ باقی معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔آئی جی پی ذوالفقار حمید نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریونیو حکام اور عملدرآمد کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ تمام رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کرکے منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو جاری منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ضم اضلاع میں پولیس فورس کو جدید اور موثر انفراسٹرکچر میسر آ سکے۔اجلاس کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی جی پی نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز عباس احسن، ڈی جی پی سی یو شوکت عباس، ڈی آئی جی فنانس اینڈ پروکیورمنٹ محمد کاشف مشتاق کانجو اور 11 کور کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جبکہ متعلقہ ریجنل پولیس آفیسرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سکیورٹی امور سے متعلق بریفنگ دی۔واضح رہے تاریخ میں پہلی بار وفاقی حکومت کی طرف سے ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بحالی کیلئے وفاقی حکومت کے تعاون سے 16 ارب روپے کی خطیر رقم سے 88 منصوبے ترتیب دیے گئے ہیں جن میں 48 منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ ان منصوبوں کے لئے اراضی کی خریدنے کی مد میں 2 ارب 25 کروڑ جبکہ ساڑھے 14 ارب سے زائد کی رقم انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے مختص کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع باجوڑ میں پولیس لائنز خار سمیت 5 تھانوں اور 4 چوکیات پر کل 3322 ملین، ضلع مہمند میں پولیس لائنز مہمند سمیت 4 تھانوں اور 1 چوکی پر 2664 ملین، ضلع خیبر میں شاہ کس اور تور درہ پولیس لائنز سمیت 2 تھانہ جات اور 33 چوکیات کی تعمیر پر کل 4583 ملین، ضلع کرم میں پولیس لائنز پاراچنار اور صدہ سمیت 5 تھانوں 12 چوکیات پر کل 2751 ملین، ضلع اورکزئی میں پولیس لائنز اورکزئی سمیت دو تھانوں اور 8 چوکیات پر کل 2505 ملین جبکہ جنوبی وزیرستان میں تھانہ وانا کی تعمیر پر 265 ملین، سابقہ ایف آر ٹانک میں دو پولیس سٹیشن کی تعمیر پر 441 ملین اور سابقہ ایف آر ڈی آئی خان میں تھانے اور چوکی کی تعمیر پر 316 ملین خرچ ہونگے۔اجلاس کے شرکاءنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری، عوامی خدمت کے معیار میں اضافے اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام ادارے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔