محکمہ زراعت نے دھان کی پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیربارے سفارشات جاری کردیں۔ پیر کو ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق سفارشات میں کہا گیا ہے کہ دھان کے کھیت میں مناسب عمر کی پنیری کی منتقلی اچھی پیداوار کے لیے بہت ضروری ہے
محکمہ زراعت پنجاب کی دھان کی پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر بارے سفارشات

مزید خبریں
ملتان۔ 08 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان کی پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیربارے سفارشات جاری کردیں۔ پیر کو ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق سفارشات میں کہا گیا ہے کہ دھان کے کھیت میں مناسب عمر کی پنیری کی منتقلی اچھی پیداوار کے لیے بہت ضروری ہے۔ کدو کے طریقہ سے تیار کی ہوئی پنیری 25 تا30 دن میں منتقلی کے قابل ہو جاتی ہے جب کہ خشک طریقہ سے کاشت کی ہوئی پنیری35 تا 40 دن میں تیار ہو تی ہے۔ سب اقسام کے لیے موزوں عمر 25تا40 دن ہے اگر منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25 دن سے کم ہو تو پودے نازک ہونے کی وجہ سے گرمی برداشت نہیں کر سکتے اور کافی تعداد میں مرجاتے ہیں اس طرح کھیت میں پودوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ اگر پنیری 40 دن سے زیادہ عمر کی ہوگی تو کھیت میں منتقلی کے بعد اس کی شاخیں کم بنیں گی اور اس طرح پیداوار پر کیا اثر پڑے گا۔ پنیری اکھاڑنے سے ایک دو دن پہلے دیکھ لینا چاہیئے کہ پنیری میں پانی موجود ہے۔
اگر پانی موجود ہوگا تو مٹی نرم ہونے کی وجہ سے پنیری کو اکھاڑتے وقت جڑیں نہیں ٹوٹیں گی۔ اگر پانی موجود نہ ہوتو پانی دے دینا چاہیئے تا کہ پنیر ی با آسانی اکھاڑی جاسکے۔ پنیری کی منتقلی کےوقت کھیت بالکل ہموارہونا چاہیئے اور اس میں پانی کی گہرائی ایک سے ڈیڑھ انچ ہونی چاہیئے۔ پنیری کی مناسب عمر (25 تا40دن) کی صورت میں ایک سور اخ میں دو پودے لگا ئیں۔ پنیری کی مناسب عمر کی صورت میں ایک پودا یا دو پودے فی سوراخ لگانا ایک جیسی پیداوار دیتا ہے بشرطیکہ لاب کی منتقلی کے بعد ناغے پر کر دئیے جائیں۔ لیکن عملی طور پر کاشت کار ناغے پر نہیں کرتے اس لیے دو پودے لگا ئیں۔ زیادہ عمر کی پنیری کم شاخیں بناتی ہے اس لیے فی سوراخ پودوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر ہے۔ 50 دن سے زیادہ عمر کی پنیری منتقل نہ کی جائے ورنہ پیداارمیں 30 تا40 فیصد کمی ہوجائے گی کیونکہ 50 دن سے زیادہ عمر کی پنیری گنڈھل ہو جاتی ہے۔
ایسی پنیری سے پودوں کی تعداد فی سوراخ بڑھا کراچھی پیداوار حاصل نہیں کی جاسکتی۔








