فیفا عالمی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے 23ویں ایڈیشن کا باضابطہ آغاز کل سے ہوگا، پہلی بار 48 ٹیمیں ایکشن میں نظر آئیں گی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر اہتمام ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کا 23واں ایڈیشن کا باضابطہ آغاز 11 جون بروز جمعرات سے امریکا،میکسیکو اور کینیڈا میں ہورہا ہے جو 19 جولائی 2026 تک کھیلا جائے گا

واشنگٹن۔10جون (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر اہتمام ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کا 23واں ایڈیشن کا باضابطہ آغاز 11 جون بروز جمعرات سے امریکا،میکسیکو اور کینیڈا میں ہورہا ہے جو 19 جولائی 2026 تک کھیلا جائے گا ۔سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق میگا ایونٹ 2026کی مشترکہ میزبانی تاریخ میں پہلی بار 3 ممالک یعنی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔ ماسکو میں ہونے والے 68 ویں فیفا کانگریس اجلاس میں مراکش کو ہرا کر میزبانی کا اعزاز حاصل کرنے والے ان تینوں ممالک کے 16 شہروں میں ٹورنامنٹ کے تمام میچز کھیلے جائیں گے، جہاں میکسیکو 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جبکہ کینیڈا پہلی بار اس بڑے ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ اس بار ٹورنامنٹ روایتی انداز میں موسم گرما میں منعقد ہو رہا ہے اور دفاعی چیمپئن ارجنٹائن سمیت کیپ ورڈی، کیوراساؤ، اردن اور ازبکستان کی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی ہیں۔اس بار ٹورنامنٹ کا فارمیٹ تبدیل کر کے ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس کے تحت ٹیموں کو 4 کے حساب سے 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیمیں اور بہترین کارکردگی دکھانے والی 8 تیسرے نمبر کی ٹیمیں نئے راؤنڈ آف 32 میں جگہ بنائیں گی، جس کی وجہ سے کُل میچوں کی تعداد 64 سے بڑھ کر 104 ہو گئی ہے اور ٹورنامنٹ کا دورانیہ بھی 39 دن تک بڑھا دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر 3 ٹیموں کے 16 گروپس بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن میچ فکسنگ اور تنازعات کے خدشات کے پیش نظر فیفا نے مارچ 2023 میں 4 ٹیموں کے فارمیٹ کی منظوری دی تھی۔میگا ایونٹ میں شامل تمام 48 ٹیموں کو 12 مختلف گروپس میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ میزبان ملک میکسیکو کو گروپ اے میں جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور جمہوریہ چیک کے ساتھ رکھا گیا ہے جبکہ دوسرے میزبان ملک کینیڈا کا گروپ بی میں مقابلہ بوسنیا ہرزیگووینا، قطر اور سوئٹزرلینڈ سے ہوگا۔تیسرے میزبان ملک امریکہ کو گروپ ڈی میں پیراگوئے، آسٹریلیا اور ترکیہ کے ساتھ جگہ دی گئی ہے جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن گروپ جے میں الجزائر، آسٹریا اور اردن کا سامنا کرے گا۔فٹ بال کی عالمی طاقتوں میں برازیل گروپ سی میں مراکش، ہیٹی اور سکاٹ لینڈ کے مدمقابل ہوگا جبکہ فرانس کو گروپ آئی میں سینیگال، عراق اور ناروے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔گروپ ای میں جرمنی کا مقابلہ کوراساؤ، آئیوری کوسٹ اور ایکواڈور سے ہوگا جبکہ گروپ ایل میں انگلینڈ، کروشیا، گھانا اور پاناما کی ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتریں گی۔پرتگال کی ٹیم گروپ کے میں ڈی آر کانگو، ازبکستان اور کولمبیا کے ساتھ موجود ہے جبکہ گروپ جی میں بیلجیم، مصر، ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان دلچسپ مقابلے متوقع ہیں۔اس کے علاوہ گروپ ایف میں نیدرلینڈز، جاپان، تیونس اور سویڈن شامل ہیں، گروپ ایچ میں سپین، کیپ ورڈے، سعودی عرب اور یوراگوئے کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جانے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 روایتی فٹ بال کو الوداع کہتے ہوئے تاریخ کا پہلا ڈیجیٹل اور سمارٹ سپورٹس ایونٹ بننے جا رہا ہے۔ میگا ایونٹ میں 16 شہروں میں کھیلے جانے والے 104 میچز میں 48 ٹیموں کی سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، نشریات اور سٹیڈیم مینجمنٹ کے تمام تر آپریشنز کو کنٹرول کرنے کے لیے پہلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میگا ایونٹ کی سب سے بڑی خاصیت آڈیڈاس کی تیار کردہ وہ سمارٹ بال ہے جس میں نصب ڈیجیٹل سینسرز ہر سیکنڈ میں سیکڑوں بار ڈیٹا ٹریک کر کے سیمی آٹومیٹڈ آفسائیڈ ٹیکنالوجی اور کیمرہ ٹریکنگ سسٹم کو بھیجیں گے، جس سے ریفریز کو سیکنڈز میں خودکار الرٹس موصول ہوں گے اور متنازع فیصلوں کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جبکہ پچ پر موجود ریفریز کے جسم پر لگے باڈی کیمرے ناظرین کو پہلی بار ریفری کے نقطہ نظر سے لائیو میچ دیکھنے کا منفرد موقع فراہم کریں گے۔ میچ کے دوران فیصلوں کی سو فیصد بصری وضاحت کے لیے تمام کھلاڑیوں کے تھری ڈی (3D) سکیننگ پر مبنی ڈیجیٹل ماڈلز (ورچوئل ٹوئنز) تیار کیے گئے ہیں، جبکہ فاکس سپورٹس اور فاکس ون جیسے بڑے براڈکاسٹنگ نیٹ ورکس خودکار ہائی لائٹس، مختلف کیمرہ اینگلز اور پرسنلائزڈ ڈیٹا اوورلے کے ذریعے ناظرین کو گھر بیٹھے ایک بالکل نیا انٹرایکٹو سٹریمنگ تجربہ پیش کریں گے۔

کوچنگ اور ٹیموں کی حکمت عملی کے لیے روایتی اعداد و شمار کی جگہ نیٹ ورک سائنس اور جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی ) ماڈلز کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ حریف ٹیموں کے پاسنگ نیٹ ورک کو سمجھا جا سکے، جبکہ دوسری جانب ہجوم کو سنبھالنے اور سٹیڈیمز کے گرد ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے پورے انفراسٹرکچر کے ڈیجیٹل ماڈلز بنا کر ہنگامی صورتحال کی پہلے سے سیمولیشن کی گئی ہے، جسے تینوں ممالک میں پھیلے ٹکٹنگ اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کو ہیکرز سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی سخت اور جدید سائبر سکیورٹی ڈھانچے سے جوڑ دیا گیا ہے تاکہ انسانی مہارت اور تاریخ کے سب سے جدید ترین ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے ملاپ سے فٹ بال کی دنیا کا یہ سب سے بڑا شوکیس مکمل طور پر محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ 2026 نہ صرف فٹبال کا سب سے بڑا عالمی مقابلہ ہوگا بلکہ جدید کھیلوں کی ٹیکنالوجی کا ایک منفرد اور تاریخی مظاہرہ بھی ثابت ہوگا۔تاریخ میں پہلی بار 48 ٹیموں کے ساتھ منعقد ہونے والے اس میگا ایونٹ کے لئے تمام ٹیموں کے گروپس فائنل ہونے کے بعد سے شائقین میں جوش و خروش دن بدن مزید بڑھتاجا رہا ہے۔میگا ایونٹ کا ٹاپ 32 رائونڈ 28 جون سے شروع ہوکر 3جولائی کو ختم ہوگا،اسی طرح میگا ایونٹ کاپری کوارٹر فائنل رائونڈ 4سے 7جولائی تک کھیلا جائے گا جس کے بعد کوارٹر فائنل مرحلہ 9سے 11جولائی تک کھیلا جائے گا، اس کے بعد میگا ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل 14 جبکہ دوسرا سیمی فائنل میچ 15جولائی کو کھیلا جائے گا، تیسری پوزیشن کے لئے میچ 18 جولائی جبکہ فائنل میچ 19 جولائی کو میٹ لائف سٹیڈیم، ایسٹ رودر فورڈ،امریکا میں کھیلا جائے گا۔