سپریم کورٹ نے لاہور میں ساڑھے 14 کلو گرام چرس برآمدگی کیس میں سزا یافتہ ملزم آصف علی کی عمر قید کی سزا میں رعایت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 11 سال قید کی مدت اس کے لیے کافی ہے
چرس برآمدگی کیس ، سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا 11 سال تک محدود کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے لاہور میں ساڑھے 14 کلو گرام چرس برآمدگی کیس میں سزا یافتہ ملزم آصف علی کی عمر قید کی سزا میں رعایت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 11 سال قید کی مدت اس کے لیے کافی ہے۔جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے ملزم پر عائد ایک لاکھ روپے جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ اضافی قید کی سزا کو کم کرکے 15 دن کر دیا۔دوران سماعت جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ عمر قید کی سزا کے ساتھ جرمانے کی رقم کتنی مقرر کی گئی تھی جس پر ملزم کے وکیل نے بتایا کہ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ مزید قید کی سزا رکھی گئی تھی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزم 2015ء سے گرفتار ہے اور پرانے قانون کے تحت سزائوں میں دی جانے والی معافیاں اس کا قانونی حق ہیں۔ وکیل ملزم نے عدالت کو بتایا کہ جیل رپورٹ کے مطابق معافیوں کو شامل کیے بغیر ملزم کی سزا 2040ء تک بنتی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے میں منشیات کے فرانزک ٹیسٹ کے لیے مقررہ پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم آصف علی کی عمر قید کی سزا میں رعایت دیتے ہوئے قرار دیا کہ 11 سال قید کی مدت عمر قید کے مساوی تصور کی جائے گی اور اسی بنیاد پر اسے ریلیف دیا جاتا ہے۔








