پاکستان ریلوے اور خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں ریلوے روابط کو بہتر بنانے کے لیے 40 ارب روپے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی منصوبہ بندی کی ہےجس کے تحت برانچ ریلوے لائنوں کی اپ گریڈیشن، ایک نئی ریلوے راہداری کی تعمیر اور ریلوے اسٹیشنوں کی جدیدکاری شامل ہے۔
کے پی کے میں ریلوے روابط کی بہتری کے لیے 40 ارب روپے کے منصوبے کی تیاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):پاکستان ریلوے اور خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں ریلوے روابط کو بہتر بنانے کے لیے 40 ارب روپے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی منصوبہ بندی کی ہےجس کے تحت برانچ ریلوے لائنوں کی اپ گریڈیشن، ایک نئی ریلوے راہداری کی تعمیر اور ریلوے اسٹیشنوں کی جدیدکاری شامل ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق منصوبے میں تقریباً 173 کلومیٹر طویل چار برانچ ریلوے لائنوں کی بحالی اور اپ گریڈیشن شامل ہے۔ ان میں نوشہرہ–مردان–درگئی سیکشن (65 کلومیٹر)، جہانگیرہ روڈ–پشاور (62 کلومیٹر)، مردان–چارسدہ (28 کلومیٹر) اور پشاور کینٹ–جمرود (18 کلومیٹر) شامل ہیں۔توسیعی منصوبے کے تحت پاکستان ریلوے تھل کے راستے کوہاٹ کو خرلاچی سے ملانے والی 192 کلومیٹر طویل نئی ریلوے لائن کی تعمیر پر بھی غور کر رہی ہے۔
اس منصوبے سے جنوبی خیبرپختونخوا میں رابطوں کے فروغ کی توقع ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں تجارت اور معاشی انضمام کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ سمیت اہم ریلوے اسٹیشنوں کی جدیدکاری اور اپنائیت (Adoption) کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ریلوے حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے بغیر عملے والے لیول کراسنگز کی اپ گریڈیشن بھی مجوزہ ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
تعاون کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان ریلوے اور خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندوں کے درمیان متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ایک فریم ورک معاہدہ صوبائی حکومت کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہےجبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے مجوزہ ریلوے سیکشنز کی فزیبلٹی اسٹڈیز کے لیے پاک-آسٹریا فاخ ہوخشولے یونیورسٹی کو نامزد کیا ہے۔اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت کے مطابق مکمل ہوا تو اس سے نئے معاشی مواقع پیدا ہونے، نقل و حمل کے اخراجات میں کمی، آمدورفت میں سہولت اور خطے کی مجموعی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔








