انڈس ہسپتال کراچی میں سسٹک فائبروسس (Cystic Fibrosis) سے متعلق خصوصی میڈیا آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ سیشن کا مقصد اس نایاب جینیاتی بیماری کے بارے میں آگاہی بڑھانا، بروقت تشخیص کو فروغ دینا اور پاکستان میں مریضوں کیلئے بہتر علاج اور نگہداشت کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔
انڈس ہسپتال میں سسٹک فائبروسس سے متعلق خصوصی میڈیا آگاہی سیشن

مزید خبریں
کراچی۔ 10 جون (اے پی پی):انڈس ہسپتال کراچی میں سسٹک فائبروسس (Cystic Fibrosis) سے متعلق خصوصی میڈیا آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ سیشن کا مقصد اس نایاب جینیاتی بیماری کے بارے میں آگاہی بڑھانا، بروقت تشخیص کو فروغ دینا اور پاکستان میں مریضوں کیلئے بہتر علاج اور نگہداشت کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔جاری اعلامیہ کے مطابق سیشن کی قیادت انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ شعبہ اطفال ڈاکٹر محمد فرید الدین نے کی جبکہ ترکی کی مارمارا سسٹک فائبروسس ٹیم کے ممتاز ماہرین پروفیسر ڈاکٹر بلنت کاراداغ، پروفیسر ڈاکٹر یاسمین گوکدمیر، پروفیسر ڈاکٹر اوزگے کینش کوشکن، داملا کوچامان اور گامزے تاشتان نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فرید الدین نے کہا کہ پاکستان میں سسٹک فائبروسس کے بہت سے مریض بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تشخیص سے محروم ہیں، جہاں نہ صرف آگاہی کی کمی ہے بلکہ خصوصی تشخیصی سہولیات تک رسائی بھی محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ بار بار سینے کے انفیکشن، مسلسل کھانسی، وزن نہ بڑھنا، دائمی اسہال اور سانس کی مستقل تکالیف کے شکار بچوں میں اکثر بیماری کی تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے عوام اور طبی ماہرین میں آگاہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔ڈاکٹر فرید الدین نے مزید بتایا کہ انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے سسٹک فائبروسس پروگرام میں اس وقت 200 سے زائد مریض زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں ایسے مریض موجود ہیں جنہیں خود یہ علم نہیں کہ وہ سسٹک فائبروسس کا شکار ہیں، کیونکہ ملک میں اس بیماری کی تشخیص کی سہولیات محدود ہیں اور آگاہی کا فقدان پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں سسٹک فائبروسس کے مریضوں کے لیے خصوصی علاج تقریبا دستیاب نہیں تھا، تاہم اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اس بیماری کا جدید اور جامع علاج مکمل طور پر مفت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سسٹک فائبروسس کا علاج انتہائی مہنگا تصور کیا جاتا ہے اور اس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن انڈس ہسپتال میں مریضوں کو تشخیصی سہولیات، ادویات، غذائی معاونت، پینکریاٹک انزائم تھراپی اور دیگر ضروری علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی مریض مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں سسٹک فائبروسس کا کوئی قومی رجسٹری نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے بیماری کے حقیقی بوجھ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس موقع پر ماہرین نے بتایا کہ سسٹک فائبروسس ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، جبکہ قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کی صورت میں اس بیماری کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ترکیہ سے آنے والے ماہرین نے اپنے تجربات کا تبادلہ کرتے ہوئے بتایا کہ سسٹک فائبروسس کے مریضوں کے لیے کثیر الجہتی نگہداشت (Multidisciplinary Care) انتہائی موثر ثابت ہوتی ہے، جس میں پلمونولوجسٹ، فزیوتھراپسٹ، غذائی ماہرین، نرسز اور دیگر طبی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔








