سپریم کورٹ کا سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ ،ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا بری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو بری کر دیا جبکہ ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو بری کر دیا جبکہ ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اپیلوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور ملزمان کی اپیلیں منظور کر لیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ شواہد اور قانونی نکات کی روشنی میں ملزمان کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔

عدالت نے ایم کیو ایم کی جانب سے ریمارکس حذف کرنے کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا اور کہا کہ چونکہ اصل فیصلہ ہی کالعدم ہو چکا ہے اس لئے متعلقہ ریمارکس خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں متعدد قانونی اور شواہد سے متعلق کمزوریاں موجود ہیں جبکہ بعض ملزمان کے اعترافی بیانات اور جماعتی وابستگی سے متعلق نکات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں جس پر بنچ نے ریمارکس دیئے کہ اگر بڑی تعداد میں فریقین شامل کئے جائیں تو مقدمات کی سماعت غیر ضروری طور پر طویل ہو سکتی ہے۔دورانِ سماعت جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیئے کہ مختلف سیاسی و قانونی پہلوؤں کو جوڑ کر مقدمے کو پیچیدہ بنایا گیا جبکہ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ بعض بیانات اور شواہد کے درمیان واضح تضاد موجود ہے۔

یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعہ میں 259 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ملزمان پر فیکٹری کو آگ لگانے اور بھتہ خوری سے متعلق الزامات عائد کئے گئے تھے۔