وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز، عالمی غیر یقینی صورتحال اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت نے نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے اور ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ دستاویز پورے مالی سال کی معاشی کارکردگی کی عکاسی کرتی …
اقتصادی سروے 26-2025، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، شرح نمو 3.7 فیصد رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز، عالمی غیر یقینی صورتحال اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت نے نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے اور ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ دستاویز پورے مالی سال کی معاشی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے آغاز میں مون سون بارشوں، عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور امریکی ٹیرف پالیسیوں کے باعث معیشت کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم حکومت مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ان مشکلات سے نمٹنے میں کامیاب رہی۔اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کر سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ فی کس آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی جبکہ زرعی شعبے نے 2.89 فیصد، صنعتی شعبے نے 3.51 فیصد اور خدمات کے شعبے نے 4.09 فیصد ترقی کی۔ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے بہتر کارکردگی ہے۔ 22 میں سے 16 صنعتی شعبوں میں مثبت نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ سیمنٹ، فرٹیلائزر، موبائل فون اور پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کے صرف 0.7 فیصد تک محدود رہا جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں میں 10.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا جو بیرونی شعبے میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور رواں مالی سال کے اختتام تک یہ حجم 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ صرف گزشتہ ماہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4.2 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ 11 ماہ کے دوران ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔برآمدات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ چاول اور فوڈ سیکٹر کی برآمدات میں کمی کے باعث مجموعی برآمدی کارکردگی متاثر ہوئی، تاہم گارمنٹس کی برآمدات میں 5 فیصد اور ہوم ٹیکسٹائل میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آئی ٹی شعبے کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام تک آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری بھی نمایاں رہی۔ گندم، چاول، گنا، چنا، آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ لائیو اسٹاک سیکٹر نے 3.75 فیصد ترقی کی۔ ملک میں مویشیوں کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے زرعی معیشت کو مزید تقویت ملی۔انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں 5.7 فیصد اور مواصلات کے شعبے میں 7.5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سماجی خدمات کے شعبے نے 6.8 فیصد شرح نمو حاصل کی۔ دوسری جانب بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں منفی نمو ریکارڈ کی گئی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔







