لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ آبادی بہبود کے کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن سے متعلق تمام درخواستیں منظور کر لیں۔
لاہور ہائیکورٹ،محکمہ آبادی بہبود کے کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن، درخواستیں منظور

مزید خبریں
لاہور۔12جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ آبادی بہبود کے کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن سے متعلق تمام درخواستیں منظور کر لیں۔جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے فرحت پروین سمیت دیگر ملازمین کی درخواستوں پر24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے سکروٹنی کمیٹی کے29 مئی2024 کے منٹس آف میٹنگ اور28 دسمبر2024 کے ریگولرائزیشن مسترد کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین پراجیکٹ نہیں بلکہ کنٹریکٹ ملازمین ہیں اور3000 نئی آسامیوں کی تخلیق کے بعد ان کی حیثیت تبدیل ہو چکی ہے،ملازمین ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں اور پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ2018 کے تحت ان کا حقِ ریگولرائزیشن برقرار ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ایکٹ کی منسوخی سے پہلے حاصل شدہ حقوق ختم نہیں ہوتے اور یکساں حالات میں موجود ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے منافی ہے۔عدالت نے کیس دوبارہ سکروٹنی کمیٹی کو بھجواتے ہوئے90 روز میں کارروائی مکمل کرنے اور ملازمین کے خلاف عملدرآمد تک کوئی منفی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔








