لاہور ہائیکورٹ نے بیوی پر تشدد کیخلاف الگ اور موثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھریلو تشدد کو معمولی گھریلو تنازع یا دیوانی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا
لاہور ہائیکورٹ، بیوی پر تشدد کیخلاف الگ اور سخت قانون بنانے کی سفارش

مزید خبریں
لاہور۔12جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے بیوی پر تشدد کیخلاف الگ اور موثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ گھریلو تشدد کو معمولی گھریلو تنازع یا دیوانی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اسے سنگین جرم تصور کرتے ہوئے سخت سزا مقرر کی جانی چاہیے،جسٹس محمد امجد رفیق نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ بیوی پر ظلم کے مرتکب شوہر کو سزا دینے کیلئے واضح اور براہِ راست قانون موجود نہیں جبکہ تحفظِ خواتین سے متعلق موجودہ قوانین صرف عارضی تحفظ فراہم کرتے ہیں،عدالت نے یہ ریمارکس ایک ایسے مقدمے میں دیئے جس میں شوہر پر بیوی کو بلیک میل کرنے،دوسرے مردوں کے پاس بھیجنے اور مبینہ طور پر ریپ کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے،عدالت نے میڈیکل رپورٹ، ویڈیو اور مضبوط شواہد کی عدم موجودگی کے باعث ملزم اجمل کی ضمانت منظور کرتے ہوئے پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا،فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کو اسلام اور معاشرے میں انتہائی باوقار مقام حاصل ہے اور قانون سازوں کو اس نوعیت کے جرائم کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی پر غور کرنا چاہیے۔








