پاکستان کی چین کے معیار کے مطابق آم برآمدی انفراسٹرکچر میں توسیع ، چین میں پاکستانی آموں کی برآمدات کیلئے 32 پراسیسنگ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ سہولتیں رجسٹرڈ

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):پاکستان کی چین کے معیار کے مطابق آم برآمدی انفراسٹرکچر میں توسیع ہو گئی ہے کیونکہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی ) کے ساتھ رجسٹرڈ آم پراسیسنگ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ (ایچ ڈبلیو ٹی ) سہولتوں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 32 ہو گئی ہے۔ ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی …

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):پاکستان کی چین کے معیار کے مطابق آم برآمدی انفراسٹرکچر میں توسیع ہو گئی ہے کیونکہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی ) کے ساتھ رجسٹرڈ آم پراسیسنگ اور ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ (ایچ ڈبلیو ٹی ) سہولتوں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 32 ہو گئی ہے۔

ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی ) کے منیجر زرعی مصنوعات خاور ندیم نے بتایا کہ چین نے پاکستان کی مزید سات سہولتوں کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد وہ آموں کی پراسیسنگ، پیکنگ اور چین کو برآمدات کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی منظور شدہ یونٹس اب چین کے لئے آم پیک اور برآمد کرنے کی اہل ہو گئی ہیں۔ان کے مطابق اس توسیع سے پاکستان کے برآمدی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور چینی درآمدی تقاضوں پر عملدرآمد بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔برآمدات کے فروغ کی حکمت عملی کے تحت پی ایچ ڈی ای سی نے چین میں بزنس ٹو بزنس (بی 2 بی ) سرگرمیوں کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو ممکنہ چینی خریداروں سے جوڑا جا سکے۔

خاور ندیم نے بتایا کہ پہلا بی ٹو بی سیشن 9 جون کو منعقد ہوا جس میں 12 سے 14 ممکنہ چینی خریداروں اور پاکستانی برآمد کنندگان نے شرکت کی تاکہ تجارتی شراکت داریوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستانی آموں کے ممکنہ خریداروں کو مدعو کیا اور برآمد کنندگان کے ساتھ براہ راست رابطے کا انتظام کیا تاکہ تجارتی بنیادوں پر برآمدات کا عمل زیادہ مؤثر انداز میں شروع ہو سکے۔

لاجسٹک مسائل کے حل کے لئے پی ایچ ڈی ای سی نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی ) کے ساتھ ایک متبادل ٹرانسپورٹ راہداری پر بھی کام کر رہی ہے جس کے تحت آموں کی کھیپ سست، تاشقرغان اور کاشغر کے راستے چین کے اندرونی منڈیوں تک پہنچائی جائے گی۔

خاور ندیم کے مطابق افغانستان کی سرحد بند ہونے اور روایتی تجارتی راستوں پر علاقائی کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے نقل و حمل کے اخراجات نے برآمدی منڈیوں میں تنوع کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سیزن میں متوقع برآمدی نقصانات کے ازالے کے لئے ہم متبادل منڈیوں کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔پاکستان پہلے ہی جاپان کو برآمدات کے لئے آم کی چار سے پانچ مزید اقسام کی منظوری حاصل کر چکا ہے جبکہ ویتنام اور کمبوڈیا کی منڈیوں تک رسائی کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران پی ایچ ڈی ای سی برآمد کنندگان کے لئے درآمدی ضوابط، گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) کے طریقہ کار اور مشرق وسطیٰ اور ایران کی منڈیوں کے برآمدی تقاضوں سے متعلق آگاہی مہم بھی چلا رہی ہے تاکہ موجودہ سیزن میں ترسیلات کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

سندھ سے آموں کی برآمدات شروع ہو چکی ہیں جبکہ جنوبی پنجاب سے ترسیلات جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ بعد ازاں رواں ماہ کے آخر میں وسطی پنجاب سے بڑے پیمانے پر برآمدات ہوں گی۔خاور ندیم نے بتایا کہ نامساعد موسمی حالات نے پیداوار کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے جس کے باعث پی ایچ ڈی ای سی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں پیداوار کے تخمینے میں 20 سے 30 فیصد کمی کر دی ہے۔

اسی وجہ سے رواں سیزن میں آموں کی برآمدات تقریباً 80 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ سال یہ حجم تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار ٹن تھا۔کم پیداوار کے باوجود پاکستانی آموں کی عالمی طلب مضبوط ہے۔ سندھڑی، چونسہ، انور رٹول اور وائٹ چونسہ جیسی اعلیٰ اقسام خلیجی ممالک، چین، یورپ اور شمالی امریکہ میں بھرپور طلب رکھتی ہیں۔

پاکستان عموماً ہر سال تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار ٹن آم دنیا کے لگ بھگ 50 ممالک کو برآمد کرتا ہے جس سے 7 کروڑ 50 لاکھ سے 8 کروڑ ڈالر تک زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔خاور ندیم نے کہا کہ رواں سال صنعت کی کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برآمد کنندگان بڑھتے ہوئے نقل و حمل کے اخراجات کے باوجود بیرونی منڈیوں میں اپنی مسابقتی حیثیت کس حد تک برقرار رکھتے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آموں کی طلب بدستور موجود ہے تاہم زیادہ فریٹ لاگت، لاجسٹک رکاوٹیں اور کم پیداوار کے باعث برآمد کنندگان کو ایک مشکل سیزن کا سامنا ہے۔ اس سیزن میں اصل چیلنج روایتی برآمدی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنا ہوگا۔