وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں حکومت نے مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں مارچ 2026 کے بعد سے تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں نے قومی نظام میں تقریباً 100 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس شامل کی اور بجلی کی پیداوار میں قلت کو نمایاں طور پر کم کیا گیا۔
ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں حکومت نے مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں حکومت نے مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں مارچ 2026 کے بعد سے تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں نے قومی نظام میں تقریباً 100 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس شامل کی اور بجلی کی پیداوار میں قلت کو نمایاں طور پر کم کیا گیا۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک کے 10 کھاد کارخانوں کو بلا تعطل گیس فراہم کی گئی جبکہ ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس کے لیے بھی گیس مختص کی گئی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے 20 سال بعد آف شور لائسنسنگ کے تحت 24 بلاکس قومی اور بین الاقوامی ای اینڈ پی کمپنیوں کو الاٹ کیے، جبکہ ترکیہ کی قومی تیل کمپنی ٹی پی اے او نے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں پاکستان کے آف شور سیکٹر میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ مالی سال 2025-26 میں اس شعبے میں ایک ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 17 نئی تیل و گیس دریافتوں سے 108 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور تقریباً 16 ہزار بیرل یومیہ تیل کی پیداواری استعداد میں اضافہ ہوا، جبکہ پیداوار میں بہتری کے ذریعے مزید 229 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 13 ہزار بیرل یومیہ تیل قومی نظام میں شامل کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ فنانسنگ اور عملدرآمد کے کئی اہم سنگ میل عبور کر چکا ہے اور حکومت اس کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔







