:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے مالی سال27۔ 2026کے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی تیاری کے ساتھ پاکستان کی ترقیاتی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ ان کی زیر نگرانی تیار کیے گئے وفاقی ترقیاتی بجٹوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے، جو ملک کی تاریخ میں ایک نمایاں ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔پروفیسر …
قومی ترقی کا منفرد ریکارڈ: پروفیسر احسن اقبال نے 11 وفاقی ترقیاتی بجٹوں کی تیاری کی قیادت کر کے نئی تاریخ رقم کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے مالی سال27۔ 2026کے وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی تیاری کے ساتھ پاکستان کی ترقیاتی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ ان کی زیر نگرانی تیار کیے گئے وفاقی ترقیاتی بجٹوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے، جو ملک کی تاریخ میں ایک نمایاں ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔پروفیسر احسن اقبال ان چند قومی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے طویل المدتی قومی منصوبہ بندی، ترقیاتی وژن، ادارہ جاتی اصلاحات اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا۔ ان کی قیادت میں98۔ 1997، 99 ۔1998 ،14 ۔ 2013 ،15 ۔ 2014 ،16 ۔ 2015 ، 17۔2016 ،18 ۔ 2017 ،24۔ 2023 ،25۔ 2024 ،26 ۔2025 اور27۔ 2026 کے وفاقی ترقیاتی بجٹ مرتب کیے گئے۔پروفیسر احسن اقبال نے مختلف ادوار میں پاکستان کے لیے متعدد ترقیاتی وژنز متعارف کرائے جن میں ویژن 2010، ویژن 2025 اور حالیہ ’’اُڑان پاکستان‘‘ شامل ہیں۔ ویژن 2025 کے تحت حکمرانی، انسانی ترقی، توانائی، پانی، خوراک، انفراسٹرکچر، جدید ٹیکنالوجی اور مسابقتی معیشت کو قومی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیا گیا، جبکہ اُڑان پاکستان کے ذریعے برآمدات پر مبنی، علم دوست اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ معیشت کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا۔ فائیو ایز فریم ورک کے تحت معیشت، برآمدات، تعلیم، ماحولیات اور توانائی کو ترقی کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس وژن کے مطابق 2029 تک 100 ارب ڈالر برآمدات، 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت اور 2047 تک پاکستان کو دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔پروفیسر احسن اقبال کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں سی پیک کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے کی شکل دی گئی جس کے ذریعے توانائی، شاہراہوں، موٹرویز، صنعتی تعاون، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور علاقائی ترقی کے متعدد منصوبے مکمل ہوئے۔
سی پیک کے ذریعے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا گیا جبکہ چین کی جانب سے انہیں ’’مسٹر سی پیک‘‘ کے نام سے بھی شہرت حاصل ہوئی۔توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں ان کے دور میں 8 ہزار میگاواٹ سے زائد نئی بجلی قومی نظام میں شامل ہوئی جبکہ 11 ہزار میگاواٹ سے زیادہ توانائی منصوبے مکمل کیے گئے۔ ہزاروں کلومیٹر طویل موٹرویز، شاہراہیں اور ایکسپریس ویز تعمیر ہوئیں، آپٹیکل فائبر کوریڈور مکمل کیا گیا اور گوادر کو قومی گرڈ سے منسلک کیا گیا۔ سی پیک فیز ٹو کے تحت صنعت کاری، ٹیکنالوجی منتقلی اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام پر بھی پیش رفت کی گئی۔ترقیاتی منصوبہ بندی اور شفافیت کے حوالے سے پروفیسر احسن اقبال نے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ 2013 سے 2018 کے دوران ترقیاتی منصوبوں میں اصلاحات کے ذریعے تقریباً 700 ارب روپے کی قومی بچت کی گئی۔ پہلی بار پی ایس ڈی پی پورٹل متعارف کرایا گیا اور ترقیاتی اخراجات ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گئے۔ مالی سال 25۔2024 میں 1.046 کھرب روپے کے ترقیاتی اخراجات کا ریکارڈ قائم ہوا جبکہ غیر فعال منصوبوں کے خاتمے اور قومی ترجیحات کے مطابق وسائل کی تقسیم پر توجہ دی گئی۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ان کے اقدامات کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ترقیاتی بجٹ 10 سے 11 ارب روپے سے بڑھا کر پہلے 45 ارب اور بعد ازاں 74 ارب روپے تک پہنچایا گیا۔ 10 ہزار پی ایچ ڈی وظائف فراہم کیے گئے، جامعات کی تعداد 99 سے بڑھ کر 154 تک پہنچ گئی جبکہ طلبہ کی تعداد 11 لاکھ سے بڑھ کر 16 لاکھ 50 ہزار ہو گئی۔ اسی طرح اساتذہ کی تعداد 27 ہزار 633 سے بڑھ کر 38 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ پاکستان۔ امریکہ نالج کوریڈور سمیت متعدد بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی شراکت داریوں کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا۔جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے قومی مراکز برائے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، کوانٹم کمپیوٹنگ اور نینو ٹیکنالوجی قائم کیے گئے۔
کوانٹم کمیونیکیشن منصوبوں اور ’’کوانٹم ویلی پاکستان‘‘ جیسے تصورات کے ذریعے ملک کو چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی۔پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں کی ترقی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ بلوچستان میں 147 سے زائد ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا گیا جن میں این۔25، ایم۔8، این۔50، گوادر۔رتوڈیرو روڈ، کوئٹہ۔ژوب شاہراہ اور بلوچستان ایکسپریس وے شامل ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے جبکہ 30 شہروں میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا گیا۔پانی اور آبی تحفظ کے شعبے میں دیامر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، مہمند ڈیم، تربیلا پنجم توسیعی منصوبہ، کچھی کینال، نائی گاج ڈیم، کے۔فور واٹر سپلائی منصوبہ اور چشمہ رائٹ بینک کینال سمیت 34 بڑے آبی منصوبوں پر پیش رفت کی گئی۔ریلوے، صنعت اور برآمدات کے شعبے میں ایم ایل۔ون، ایم ایل۔تھری، تھر کول ریلوے منصوبے اور خصوصی اقتصادی زونز کو فروغ دیا گیا جبکہ ٹیکسٹائل، اسپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات کی برآمدات بڑھانے اور جامعات و صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے۔ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے سول سروس اصلاحات، نیشنل ایگزیکٹو سروس، اسٹار ماڈل کے تحت جدید حکمرانی، کارکردگی پر مبنی نظام اور ڈیجیٹل مردم شماری جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے۔ عالمی سطح پر بھی پروفیسر احسن اقبال نے گلوبل ساؤتھ کمپیکٹ کی تجویز، ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی شراکت داریوں کے فروغ میں فعال کردار ادا کیا، جبکہ انہیں آئیسیسکو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ویژن 2010 سے ویژن 2025 اور پھر اُڑان پاکستان تک کا سفر، 11 وفاقی ترقیاتی بجٹوں کی تیاری، سی پیک، اعلیٰ تعلیم، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی پروفیسر احسن اقبال کو پاکستان کی ترقیاتی تاریخ کے اہم معماروں میں شامل کرتی ہے۔







