وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر 27-2026 کا متن

آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے وفاقی بجٹ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی ایوان زیریں میں بجٹ تقریر کا متن حسب ذیل ہے

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے وفاقی بجٹ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی ایوان زیریں میں بجٹ تقریر کا متن حسب ذیل ہے:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم
حصہ اول
جناب سپیکر !
1۔ یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس معزز ایوان کے سامنے ہماری حکومت کا تیسرا بجٹ برائے مالی سال 27-2026 پیش کر رہا ہوں۔ میں اتحادی جماعتوں کی قیادت خصوصاً میاں محمد نواز شریف صاحب بلاول بھٹو زرداری صاحب خالد مقبول صدیقی صاحب چوہدری شجاعت حسین صاحب، عبدالعلیم خان صاحب اور جناب خالد حسین مگسی صاحب کی رہنمائی کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
جناب سپیکر!
2۔ یہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔
جناب سپیکر !
3۔ یہ تبدیلی اتفاقا نہیں آئی۔ اس کا آغاز گذشتہ برس مئی میں ہوا جب بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا۔ ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں امن کی بات کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ تھی۔ آپریشن ”بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فضاؤں کا تحفظ کرنے والے Fighter Jets کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ہماری سالمیت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
جناب سپیکر!
4۔ اسی دفاعی قوت نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ہماری Strategic Partnership کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ میں خصوصی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان Strategic Mutual Defence Agreement کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود تھا۔ تاہم اس باضابطہ دفاعی معاہدے کی وجہ سے خادمین حرمین شریفین کے ساتھ ہمارے تعلقات اور برادرانہ رشتوں کو ایک نئی اور مستحکم بنیاد ملی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری ہے جسے نبھانے کے لیے ہم پورے عزم اور یقین کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے تعلقات میں یہ اہم تبدیلی ہماری قیادت کی مرہون منت ہے۔ جس کے لیے وزیر اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور ہماری پوری سفارتی اور عسکری قیادت یقینا مبارکباد کی مستحق ہے۔
جناب سپیکر!
5۔ پچھلے مہینوں میں خدائے بزرگ و برتر نے پاکستان کو ایک بے مثال کامیابی دلائی ہے۔ موجودہ دور کی ایک خطرناک ترین جنگ کے دوران امریکہ اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے درمیان ایک ایماندار ثالث کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان نے اس کردار کو بخوبی انجام دینے کے لئے انتہائی مخلص کوششیں کی ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔ الحمد اللہ ہم Islamabad Peace Talks کے ذریعے امریکہ اور ایران کو سینتالیس (47) سال کے بعد ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ جلد ایک معاہدے کے ذریعے خطے میں دیرپا امن کے قیام کو ممکن بنایا جاسکے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی پہلے کی طرح بحال کی جاسکے۔ امریکی اور ایرانی صدور نے متعدد بار وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بطور ثالث اہم کردار کی تعریف کی ہے۔ یہ وہ فقید المثال کامیابی ہے جس سے قوموں کی برادری میں ہمارا احترام اور وقار بڑھا ہے اور ہماری کاوشوں کو ہر سطح اور فورم پر سراہا گیا ہے۔
جناب سپیکر!
6۔ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے جو فعال، متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا ہے، اس میں ہمیں اپنے عظیم اور آزمودہ ہمسایہ ملک چین کی مکمل حمایت اور ہم آہنگی حاصل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ اور مربوط امن کوششوں پر مکمل اتفاق رائے اور گہری ہم آہنگی موجود ہے۔
جناب سپیکر !
7۔ پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ تعلق ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے جو محض حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دو اقوام کے دلوں اور تقدیر سے جڑا ہوا رشتہ ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین نے اس شراکت داری کونئی اور ٹھوس جہتیں عطا کی ہیں۔
Oil Prices
☆جناب سپیکر!
8۔ اب میں ایران امریکہ جنگ کے اثرات پر بات کرنا چاہوں گا۔ اس جنگ کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ ہر گھر کے بجٹ پر نیا اور غیر متوقع دباؤ آیا۔ یہاں یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی مقامی قیمتیں عالمی منڈی کی پوری شدت کا اظہار نہیں تھیں۔ اگر حکومت اس جھٹکے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی تو یہ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں۔ اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک سو اٹھائیس (128) ارب روپے کی عمومی سبسڈی کے ذریعے عوام کو براہ راست ریلیف دیا۔ پھر جلد ہی صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایک targetted subsidies کا نظام متعارف کرایا۔ جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا گیا اور ابھی بھی دیا جا رہا ہے۔
جناب سپیکر!
9۔ پاکستان ایک مستحکم معیشت اور معاشی Buffers کے ساتھ امریکہ ایران جنگ کے بحران میں داخل ہوا۔ اس بحران میں جہاں خطے اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں ایندھن کی قلت، پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، مہنگائی اور exchange rate میں گراوٹ دیکھی گئی اور ہم سے بہتر وسائل کے حامل بعض ملکوں کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس بھی جانا پڑا، وہاں پاکستان میں حکومت کے بروقت اور مدبرانہ فیصلوں اور مضبوط معاشی Buffers کی وجہ سے ایندھن کی کوئی قلت اور rationing نہ ہوئی، نہ پٹرول پمپس پر قطاریں لگیں، نہ کوئی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور نہ ہی exchange rate متاثر ہوا بلکہ اس بحران کے دوران Fitch ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم قرار دیا۔
جناب سپیکر!
10۔ ہمیں اس حوالے سے عوام کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کر رہی ہے۔
معاشی جائزہ
جناب سپیکر!
11۔ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے۔ لہذا میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ تقریر کے آغاز میں پچھلے دو سالوں کے سفر کا مختصراً احاطہ کرتا چلوں۔ ہم نے یہ سفر ایک مشکل مقام سے شروع کیا۔ وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے انتھک محنت سے حالات پر قابو پایا ہے اور کئی اہم اور دور رس نتائج کی حامل معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جو درج ذیل ہیں:
٭اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے موجودہ مالی سال میں سیلاب نقصانات اور امریکہ ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد (3.7) تک پہنچ چکی ہے۔ ہماری بڑی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ اس مالی سال میں Large Scale Manufacturing کی شرح نمو چھ اعشاریہ ایک فیصد (%6.1) تک رہی ہے۔ جبکہ خدمات کے شعبے میں چار اعشاریہ ایک فیصد (%4.1) کی شرح نمو سامنے آئی ہے۔ LSM اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو پچھلے چار سالوں کی بلند ترین سطحوں پر ہے۔ الحمد اللہ ہماری معیشت کا حجم چار سو باون (452) ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ہماری معیشت کا ایک نیا سنگ میل ہے۔ جی ڈی پی کے حجم میں اضافے کی وجہ سے ہماری فی کس آمدن پچھلے سال کے ایک ہزار سات سو اکیاون (1,751) ڈالر سے بڑھ کر ایک ہزار نو سو ایک (1,901) ڈالر ہوگئی ہے۔
٭پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی اور یہ شرح بائیس فیصد (%22) سے کم ہو کر ساڑھے گیارہ فیصد (%11.5) پر آگئی ہے۔
٭ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے یہ تین (3) سال قبل چار (4) ارب ڈالر سے کم تھے جو اب بڑھ کر سترہ (17) ارب ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں، جو کہ تقریباً تین (3) مہینوں کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
٭ ترسیلات زر بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ پچھلے مالی سال کے اڑتیس (38) ارب ڈالر کے مقابلے میں اس مالی سال کے پہلے گیارہ (11) ماہ میں ترسیلات زر کا حجم اڑتیس (38) ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انشاء اللہ سال بھر کی ترسیلات زر اکتالیس (41) ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو کہ ہماری تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔
٭ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 23-2022 میں آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد (%8.5) سے بڑھ کر دس اعشاریہ تین فیصد (10.3) تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی صرف تین (3) سالوں میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں تقریباً دو فیصد (%2) کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
٭ ان اقدامات کے نتائج ہمارے مالیاتی استحکام میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ہمارا مالیاتی خسارہ جون 2023ء میں جی ڈی پی کا سات اعشاریہ آٹھ فیصد (%7.8) تھا، جو موجودہ مالی سال کے اختتام تک چار فیصد (4) تک آجائے گا۔
٭ دو سال قبل ہمیں پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ سات فیصد (0.7%) کے برابر خسارہ در پیش تھا۔ موجودہ مالی سال میں ہم پرائمری بیلنس کو ایک اعشاریہ چھ فیصد (%1.6) کے سرپلس تک لے آئے ہیں۔ اس طرح پرائمری بیلنس میں GDP کے حساب سے دو اعشاریہ تین فیصد (%2.3) کی بہتری آئی ہے۔
٭ پچھلے مالی سال میں افراط زر کی شرح گزشتہ سال کی تئیس اعشاریہ چار فیصد (%23.4) سے کم ہو کر چار اعشاریہ پانچ فیصد (%4.5) تک آگئی تھی ۔ موجودہ سال کے دوران بھی ایران امریکہ جنگ کے باوجود بھی مہنگائی کی اوسط شرح تقريباً سات فیصد (7) رہنے کی توقع ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے تخمینہ سات اعشاریہ پانچ فیصد (%7.5) سے کم ہے۔ حالیہ مہینوں میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطی کی کشمکش ہے۔ انشاء اللہ جنگ کے بادل چھٹے تو مہنگائی کی شرح بھی کم ہو جائے گی۔
٭ ہمارے معاشی اور مالیاتی استحکام کی وجہ سے ہماری معیشت پر عالمی ترقیاتی اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے اور دنیا کی بڑی ریٹنگ ایجنسیوں Moody’s، Fitch اور S&P نے پاکستان کی ratings کو upgrade کیا ہے جس سے ہماری کریڈٹ ریٹنگ مستحکم ہوئی ہے۔
جناب سپیکر!
12۔ اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ پاکستان 2022ء کے بعد پہلی مرتبہ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپس آیا، چار (4) سال میں پاکستان نے پہلی مرتبہ سات سو پچاس (750) ملین ڈالر Euro Bond کا کامیابی سے اجراء کیا۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہمارے بانڈز کی طلب مستحکم رہی۔ اس کا تسلسل ہمیں پچھلے ماہ نظر آیا جب پاکستان نے پاک چین سفارتی تعلقات کی پچھتر (75) ویں سالگرہ کے موقع پر ملکی تاریخ کا پہلا Panda Bond جاری کیا، جس کی مانگ ہماری پیشکش سے پانچ (5) گنا زیادہ تھی ۔ یہ دو اعشاریہ پانچ فیصد (%2.5) مارک اپ پر جاری کیا گیا اس طرح پاکستان دنیا کے دوسرے بڑے معاشی نظام کا حصہ بن گیا۔
Growth in Corporate Sector
جناب سپیکر!
13۔ معاشی بہتری کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس بہتری کے پیچھے پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کی بہتر کارکردگی ہے۔ کارپوریٹ شعبے نے جنوری۔ مارچ 2026ء میں پچھلے سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں بائیس فیصد (%22) زیادہ منافع حاصل کیا جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے نو (9) ماہ میں یہ منافع نو فیصد (%9) رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں پچھلے ایک سال میں ایک لاکھ تہتر ہزار (173,000) نئے سرمایہ کاروں کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان نئے سرمایہ کاروں میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس سال میں اب تک گیارہ IPOs کا اجراء ہو چکا ہے۔ جو کہ پچھلی دو (2) دہائیوں میں ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسی طرحSECP میں انتالیس (39) ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیاں جیسے Google, Raqami, AD Ports, Ali Baba Group, ARAMCO, BYD, VEON, Mashreq اور Turkish Petroleum پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ حکومت کے قائم کردہ Technology Zones میں دو سو پچاس (250) سے زائد نئی کمپنیوں نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور پچیس (25) ہزار سے زائد Tech Professionals کو روزگار ملا ہے۔ جو نئے اور موجودہ سرمایہ کاروں کا پاکستان میں کاروباری ماحول پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
Privatization
جناب سپیکر!
14۔ گزشتہ سال اسی ایوان میں، اپنی بجٹ تقریر کے دوران میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم دہائیوں سے التواء کا شکار نجکاری کے ایجنڈا کو عملی شکل دیں گے۔ میں آج اس ایوان کو بتاتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ یہ وعدہ صرف وعدہ نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بن چکا ہے۔ ہم نے فرسٹ وومن بینک کی نجکاری سے آغاز کیا اور پھر 23 دسمبر 2025 ء کو پوری قوم نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ایک شفاف اور براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیلامی کے ذریعے پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (PIA) کو مجموعی طور پر ایک سو پچاسی (185) ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ کامیاب و تاریخی نجکاری وزیر اعظم کے اس وژن کے عین مطابق ہے کہ نجی شعبہ ہی ملک کی پائیدار معاشی ترقی کا ضامن اور علم بردار ہے ۔ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد ہم ایک پانچ سالہ منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت کئی حکومتی اداروں کو نجی شعبہ کے حوالے کیا جائے گا اس میں GENCOS ، DISCOS، بینک، انشورنس کمپنیاں اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ اس سلسلے میں تین DISCOS کے پہلے batch کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔
ریفارمز
ایف بی آر کی تبدیلی -معاشی استحکام کی بنیاد
جناب سپیکر !
15۔ ایک فعال، متحرک اور شفاف ٹیکس انتظامیہ کسی بھی ریاست کی معاشی خود مختاری کی ضمانت ہے۔ ٹیکس کی وصولی کے بغیر کاروبار مملکت سر انجام نہیں پاسکتا اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایف بی آر میں جامع اور وسیع تر اصلاحات جاری و ساری ہیں۔
جناب سپیکر!
16۔ ایف بی آر میں اصلاحات کے اب تک کے نتائج بڑے حوصلہ افزاء رہے ہیں۔ مالی سال 23-2022 میں ایف بی آر کی سالانہ ٹیکس وصولی سات ہزار دوسو (7,200) ارب روپے تھی جو کہ اگلے تین سالوں میں دو گنا ہوگئی اور موجودہ مالی سال کے اختتام پر تیرہ ہزار (13,000) ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافہ ایک ایسی کار کردگی ہے جس کی نظیر پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک سٹرکچرل تبدیلی ہے۔ میں اس ایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس تبدیلی کی قیادت خود وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب کر رہے ہیں، جو ہفتہ وار اجلاسوں کی خود صدارت کرتے ہیں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔
جناب سپیکر!
17۔ اس تبدیلی کے ٹھوس ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ سب سے پہلے production monitoring کا نظام ہے جس میں مرکزی ڈیش بورڈز، وڈیو analytics اور tampering alerts سے مدد لی جا رہی ہے۔ یہ نظام ستائیس (27) سیمنٹ فیکٹریوں اور پچھتر (75) شوگر ملوں پر نافذ ہو چکا ہے۔ صرف ان دو شعبوں سے سالانہ بنیاد پر تقریبا اکسٹھ (61) ارب روپے اضافی ٹیکس متوقع ہے۔ اس کے علاوہ Artificial Intelligence اور Machine Learning پر مبنی Compliance Risk Management کا نظام آٹھ سو چالیس (840) سے زائد high-risk cases کی نشاندہی کر چکا ہے، جن کا متوقع Tax Impact تقریباً چونتیس (34) ارب روپے ہے۔ اسی طرح faceless customs assessment کے ذریعے ہم نے Importer اور کسٹم افسر کے درمیان براہ راست رابطے کو کم کیا ہے جس سے نہ صرف per consignment محصولات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہراسانی (harassment) اور رشوت کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔
جناب سپیکر !
18۔ آنے والے مہینوں میں production monitoring کے نظام کو نئے شعبوں تک توسیع دی جائے گی جن میں ٹیکسٹائل، مشروبات، آئرن اینڈ اسٹیل، گھی اور خوردنی تیل، ٹائرز، پیپر اور بورڈ اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ یہ توسیع ملک کی منظم صنعت کے ایک بڑے حصہ کا احاطہ کرے گی۔
جناب سپیکر!
19۔ ان تمام اصلاحات اور اقدامات کا حتمی مقصد ایک ایسے ٹیکس نظام کا حصول ہے جو منصفانہ ہو، جس میں ایماندار ٹیکس دہندہ پر کم بوجھ پڑے جو ڈیٹا کی مدد سے ٹیکس چوری کے واقعات کا سدباب کرے اور inspector کی صوابدید اور arbitrary action کی بجائے documentation اور compliance کے ذریعے محصولات میں اضافہ ممکن بنائے ۔ ہماری یہ کاوش محض زیادہ ٹیکس کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اس بنیادی سماجی رشتے کی تجدید ہے، جس میں شہری کا ریاست پر اعتماد بحال ہو اور ریاست شہری کی محنت کا احترام کرے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر پاکستان کی مستقبل کی پوری معیشت کھڑی ہوگی۔
عوام کی مالی وسائل تک رسائی
جناب سپیکر!
20۔ پاکستان کی معاشی ترقی اس وقت تک اُدھوری ہے جب تک معیشت کی برکات ہر اس گھرانے، ہر اُس کسان، ہر اُس چھوٹے کاروبار اور ہر اُس نوجوان اور خاتون تک نہیں پہنچ جاتیں جنہیں روایتی بینکاری نظام نے ہمیشہ نظر انداز کے ، ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ ہم نے وزیر اعظم کی رہنمائی میں نجی شعبے کے تعاون سے ان طبقات کو قرضے فراہم کرنے کا قدم اٹھایا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت پانچ (5) اہم اسکیمیں متعارف کرائی جاچکی ہیں، جن کی تفصیلات میں اس معزز ایوان کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
I- سب سے پہلا منصوبہ زرخیزی کے نام سے شروع کیا گیا ہے جس کے ذریعے سات لاکھ پچاس ہزار (750,000) چھوٹے کسانوں کو بلا ضمانت مکمل طور پر ڈیجیٹل عمل کے ذریعے تین سو (300) ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کیے جارہے ہیں۔
II- اس سلسلے کی دوسری اسکیم وزیر اعظم کا اپنا گھر پروگرام ہے۔ اس کم لاگت وزیر اعظم ہائوسنگ فنانس اسکیم کے ذریعے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو صرف پانچ فیصد مارک اپ پر mortgage کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
III- ہماری حکومت کا تیسرا اہم قدم Pakistan Accelerated Vehicle Electrification (PAVE) اسکیم کا اجراء ہے جس کے تحت ای-بائیکس اور ای-رکشوں کی خریداری کے لیے subsidized فنانسنگ فراہم کی جارہی ہے۔
IV- اس سلسلے کی چوتھی اسکیم "PM’s Fan Replacement Programme” ہے جس کے تحت ملک بھر میں پرانے، زیادہ بجلی خرچ کرنے والے پنکھوں کی جگہ کم بجلی استعمال کرنے والے پنکھے لگائے جا رہے ہیں۔
V- ہماری حکومت کا پانچواں اقدام Social Impact Financing ہے جس کے تحت دو پروگرامز شروع کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پہلا Pakistan Skills Impact Bond کا اجراء ہے جس کے ذریعے NAVTTC کے توسط سے نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس سلسلے کا دوسرا قدم Agri Storage Financing Facility کا اجراء ہے۔ یہ سات اعشاریہ ایک (7.1) ارب روپے کا منصوبہ ہے جس کے تحت ملک بھر میں storage facilities قائم کی جائیں گی جہاں کسانوں کو اپنا اناج اور غلہ محفوظ کرنے کا موقع ملے گا اور انہیں اس محفوظ شدہ اناج پر بنکوں سے قرض لینے کی سہولت ہو گی۔
21۔ یہ پانچوں (5) اسکیمیں وزیر اعظم کی خصوصی توجہ پر شروع کی گئی ہیں اور ان کا مقصد ملک میں مالی شمولیت کی کوششوں کو تیز کرنے کے علاوہ ہنر مند اور محروم طبقات کے لیے ترقی کے راستے کھولنا ہے۔
جناب سپیکر!
22۔ Digital Pakistan اور مالی شمولیت کے ایجنڈا پر نمایاں پیش رفت ہوئی جس کے نتیجے banking users میں اضافہ ہوا، digital tranasaction میں تیزی آئی اور cashless economy کے فروغ کی بنیاد مضبوط ہوئی۔ پچھلے سال کے پانچ (5) لاکھ کے مقابلے میں سولہ لاکھ ستر ہزار (1,670,000) تاجر digital payment کے نظام سے جڑ چکے ہیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد پچانوے (95) ملین سے بڑھ کر ایک سوتینتیس (133) ملین تک پہنچ چکی ہے۔ سالانہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی تعداد چھ اعشاریہ نو (6.9) ارب سے بڑھ کر دس اعشایہ ایک (10.1) ارب ہو چکی ہے۔ ملک میں وصول ہونے والی ترسیلات کا بیانوے فیصد (92) بینک اکائونٹس میں موصول ہوا جبکہ G2P کا پچھتر فیصد (75) اب اس ڈیجیٹل نظام کے تحت کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم یوتھ پروگرام
جناب سپیکر!
ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے کہا تھا۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
23۔ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ہماری قومی آبادی کا سڑسٹھ فیصد (%67) حصہ میں (30) سال سے کم عمر آبادی پر مشتمل ہے۔ ہمارے نوجوان ہنر، عزم اور کچھ کر دکھانے کے جذبہ سے معمور ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب کا عزم ہے کہ ہر نوجوان پاکستانی کو وہ ہنر، وہ تربیت اور وہ مواقع ملنے چاہئیں جو اسے قومی معیشت کا فعال شراکت دار بنا سکے۔ اسی وژن کا عملی اظہار وزیر اعظم یوتھ پروگرام ہے۔
جناب سپیکر!
24۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا سرمایہ ہنر ہے۔ NAVTTC کے ذریعے Prime Minister’s Youth Skills Development Programme نے اب تک تقریباً پانچ لاکھ پندرہ ہزار (515,000) نوجوانوں کو جدید اور روایتی فنی تربیت فراہم کی ہے۔ independent evaluation کے مطابق ان تربیت یافتہ نوجوانوں میں سے تریپن فیصد (%53) ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں۔ اس پروگرام میں آئی ٹی پر مبنی تربیت کے ذریعے خواتین کی معاشی خود مختاری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تا کہ گھر بیٹھے فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی برابر کی شریک ہوں۔
٭ اگر ہنر ایک گاڑی ہے، تو سرمایہ اس گاڑی کا ایندھن ہے۔ Prime Minister’s Youth Business and Agriculture Loan Scheme آج پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی فنانسنگ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ جنوری 2023ء سے اب تک اس اسکیم کے تحت دو سو اٹھاون (258) ارب روپے کی رقم تقسیم کی گئی جس سے پانچ لاکھ چونتیس ہزار (534,000) سے زائد نوجوان مستفید ہوئے۔
٭ کھیلوں کے میدان میں Prime Minister’s Sports Talent Hunt Programme کے ذریعے انیس (19) مختلف کھیلوں میں ملک گیر ٹیلنٹ ہنٹ جاری ہے جس میں پی ایس ایل کے ماڈل پر ایک خصوصی ہاکی لیگ کا قیام بھی شامل ہے۔ اگلا جہانگیر خان، اگلا ارشد ندیم، یا اگلا اولمپک چیمپین شاید آج کسی ایسے شہر یا گائوں میں موجود ہے جہاں ابھی تک ہماری نظر نہیں پہنچی۔ یہ پروگرام اسے ڈھونڈ نکالے گا۔
جناب سپیکر!
25۔ Prime Minister’s Youth Programme صرف فلاحی اخراجات نہیں یہ ہماری حکومت کی سب سے منافع بخش سرمایہ کاری ہے کیونکہ ہماری حکومت نوجوانوں کو ملک کے مستقبل کا معمار سمجھتی ہے۔
Trade and Tariff
☆جناب سپیکر!
26۔ ایک forward looking اور جامع تجارتی پالیسی ہمارے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم جز ہے۔ ہمارا بنیادی عزم واضح ہے، پاکستان کو درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت کی بجائے برآمدات کے بل بوتے پر آگے بڑھنے والی معیشت بنانا ہے۔ ہماری معاشی بقا کا راستہ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں ہے۔
جناب سپیکر!
27۔ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے کاروبار کی لاگت کم کی۔ Export Income پر عائد صفر اعشاریہ دو پانچ فیصد (%0.25) ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مارک اپ کی شرح اُنیس فیصد (19) سے کم کر کے چار اعشاریہ پانچ فیصد (%4.5) کر دی گئی ۔ Export Facilitation Scheme کے تحت سہولت کی مدت نو (9) ماہ سے بڑھا کر اٹھارہ (18) ماہ کر دی گئی، تاکہ برآمد کنندگان کو Cash flow کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ صنعتی بجلی کے نرخ کم کیے گئے۔
جناب سپیکر !
28۔ National Tariff Policy 2025-30 پر عملدرآمد کے پہلے ہی سال میں حکومت نے ٹیرف کو معقول بنانے کا کام شروع کیا اور سات ہزار پانچ سو (7,500) ٹیرف لائنیز پر ٹیرف میں کمی کی۔ خصوصاً خام مال اور Intermediate Goods پر، تا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہو۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں مشینری کی درآمد میں اکیس فیصد (%21) اضافہ ہوا ۔ مجموعی طور پر ان اقدامات کے ذریعے ایک سو میں (120) ارب روپے سے زائد کا فائدہ کاروباری طبقے کو منتقل کیا گیا۔
Energy Reforms
جناب سپیکر!
29۔ توانائی کسی بھی معیشت کی شہ رگ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں خطے میں بحران کے باوجود، پاکستان نے توانائی کے شعبے میں کئی محاذوں پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے توانائی کے شعبے میں ایسی structural reforms شروع کی ہیں جو نا صرف موجودہ بحران سے نمٹے کے لیے، بلکہ آنے والے ممکنہ بحران کے لیے بھی پاکستان کو تیار کریں گیں۔ ہمارا مقصد توانائی کی خود کفالت، صارف کے لیے کم قیمتیں اور ایک ایسا نظام ہے جو ضمانتوں پر کم سے کم انحصار کرے اسی سوچ کے تحت میں اس معزز ایوان کے سامنے بجلی، تیل اور گیس کے میدان میں ہمارے اہم اقدامات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
جناب سپیکر!
30۔ بجلی کا شعبہ اپنی تاریخ کے سب سے گہرے اصلاحاتی دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں اس شعبے نے مالی نظم و ضبط اور کارکردگی میں بہتری کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں مالی سال 26-2025 میں بجٹ میں مختص subsidy کے مقابلے میں ایک سو تینتالیس (143) ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل کی گئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کمی مستحق صارفین پر بوجھ ڈال کر نہیں بلکہ اصلاحات کے ذریعے حاصل کی گئی۔ مزید برآں IPPs سے مذاکرات کے نتیجے میں تقریباً تین اعشاریہ سات (3.7) ٹریلین روپے کی بچت حاصل کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
جناب سپیکر!
31۔ اس شعبے کی اصلاحات میں سب سے اہم قدم Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) کا عملی آغاز ہے۔ اسی سال جنوری کے مہینے میں اس مارکیٹ کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا گیا اور ستمبر 2026ء میں اس کے تحت پہلی competitive نیلامی منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں تقریباً آٹھ سو میگاواٹ بجلی کا کاروبار ایک مسابقتی مارکیٹ پر مبنی فریم ورک کے تحت ہو گا۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔ اب تک پاکستان میں بجلی ایک ہی سرکاری خریدار کے ذریعے خریدی جاتی تھی، جو سرکاری عثمانتوں کے سہارے معاہدے کرتا تھا۔ آج، ہم اس پرانے، مہنگے اور سرکاری ضمانتوں پر منحصر نظام سے نکل کر ایک مسابقتی مارکیٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی بجلی کی معیشت کی بنیادی تشکیل نو ہے۔
جناب سپیکر!
32۔ موجودہ مالی سال میں ایک ملک گیر مشق کے ذریعے ہم تمام subsidized صارفین کی شناخت، رجسٹریشن اور تصدیق کریں گے تاکہ جنوری 2027ء سے پاکستان میں Direct Subsidy Mechanism کا آغاز کیا جا سکے۔ یعنی subsidy وہاں پہنچے گی جہاں اس کی اصل ضرورت ہے، یہ وہی منصفانہ ماڈل ہے جو ہم نے BISP کے ذریعے اپنایا۔
جناب سپیکر!
33۔ اس اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اور اہم ستون circular debt پر قابو پانا ہے۔ مجھے اس ایوان کو بتاتے ہوئے اطمینان ہے کہ موجودہ مالی سال میں بجلی کے شعبے میں circular debt کی net-zero accumulation حاصل کی گئی ہے یعنی اس سال اس بوجھ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ circular debt کے stock میں ایک ہزار دو سو پچیس (1,225) ارب روپے کی loan settlement پر پیشرفت ہوئی۔ ساتھ ہی NTDC کی structural reforms بھی جاری ہیں جن کے تحت ترسیل، سسٹم آپریشن اور مارکیٹ آپریشن کے functions کو الگ الگ کیا جا رہا ہے۔
جناب سپیکر!
34۔ LNG کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کا ذکر کروں گا۔ پاکستان نے ایک جامع ریسرچ کے بعد قطر اور اٹلی کے ساتھ اپنے طویل مدتی Sale and Purchase Agreements پر دوبارہ بات چیت کی اور سال 2026 کے لیے پینتیس (35) ایل این جی کارگوز کی کمی پر اتفاق کیا۔ اس ایک فیصلے کی بدولت ہمیں تقریباً ایک اعشاریہ دو (1.2) ارب امریکی ڈالر زر مبادلہ کی بچت ہوگی۔ یہ اس کاوش کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ گیارہ (11) مہینوں میں صارفین کے گیس کے بل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
جناب سپیکر!
35۔ ایران امریکہ جنگ کے پیش نظر ہم نے مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کی۔ مارچ 2026 کے بعد سے ہماری تیل کی تلاش کی کمپنیوں نے قومی نظام میں تقریباً 100 mmcfd اضافی گیس شامل کی، جس نے بجلی کی پیداوار میں shortage کو نمایاں طور پر کم کیا۔ ہم نے کھاد کی پیداوار کو ایک لمحے کے لیے بھی رکنے نہیں دیا۔ ملک کے 10 کھاد کارخانوں کو گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی گئی۔ اسی طرح ایل این جی پر کام کرنے والے پلانٹس کے لیے بھی گیس مختص کی گئی۔
جناب سپیکر!
36۔ حکومت نے تیل اور گیس کی دریافت کے میدان میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ پاکستان نے میں (20) سال بعد offshore licensing کے چوبیس (24) blocks قومی اور بین الاقوامی E&P کمپنیوں کو الاٹ کیے۔ یہ پاکستان کی offshore oil & gas exploration کی تاریخ کا سنگ میل ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برادر ملک ترکیہ کی قومی تیل کمپنی TPAO نے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہمارے offshore سیکٹر میں قدم رکھا ہے۔ مالی سال 26-2025 کے دوران E&P شعبے میں سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ اس عرصے میں سترہ (17) نئی تیل اور گیس کی دریافتیں ہوئیں، جن سے مقامی پیداواری استعداد میں ایک سو آٹھ (108) mmcfd گیس اور تقریباً سولہ (16) ہزار بیرل یومیہ تیل کا اضافہ ہوا۔ جبکہ پروڈکشن میں اضافہ کے ذریعے مزید 229 mmcfd گیس اور تیرہ (13) ہزار بیرل تیل قومی نظام میں شامل ہوا۔
جناب سپیکر!
37۔ معدنیات کے شعبے میں، ہمارا flagship منصوبہ ریکوڈک اس سال financing اور implementation کے کئی اہم سنگ میل عبور کر چکا ہے۔ ہم اس منصوبے کی بر وقت تکمیل کے لیے پر عزم ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن
جناب سپیکر!
38۔ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ شعبہ ملکی ترقی اور ایکسپورٹس بڑھانے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں، اس شعبے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
٭ آئی ٹی کے شعبہ کی برآمدات میں (%20) فیصد سے زائد کی سالانہ شرح نمو سے بڑھ رہی ہیں۔ اس سال یہ برآمدات چار اعشاریہ پانچ (4.5) ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس طرح یہ شعبہ برآمدات میں اضافے کے اعتبار سے سب سے تیزی سے بڑھنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔
٭ اس سال مارچ میں5-G Spectrum کی کامیابی سے نیلامی کی گئی۔ جسے دنیا کی سب سے بڑی Spectrum نیلامیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے پانچ شہروں میں 5-G Service شروع ہو چکی ہے۔
٭ حکومت نے Right of Way چارجز کو ختم کیا، جس کے نتیجے میں 2024 ء کے ہیں (20) لاکھ گھروں کے مقابلے میں پچاس (50) لاکھ گھروں میں فائبر لائنز دستیاب ہیں اور ٹیلی کام ٹاورز کی Fiberisation چودہ فیصد (14) سے بڑھ کر اٹھارہ فیصد (%18) ہو چکی ہے۔
٭ حکومت نے پاکستان کی پہلیNational Artificial Intelligence Policy کی منظوری دی۔
٭ گزشتہ ایک سال میں دس لاکھ کے قریب پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں تربیت دی گئی ہے۔
٭ Digital Nation Pakistan Act Transformation کے تحت، ہم نے ملک میں digital transformationکی قانونی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس کے تحت نیشنل ڈیجیٹل آئی ڈی National Data Exchange Layer اور اوپن ڈیٹا ایکوسٹم جیسے منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔ مرکزی حکومت، عدالتی نظام اور پارلیمنٹ بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر پر گامزن ہیں۔ جناب سپیکر، یہ صرف ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان رشتے کو شفاف اور فعال تر بنانے کی سعی ہے۔
٭Debt Management✩
جناب سپیکر!
39۔ 2023ء میں ہمارا ملکی قرض جی ڈی پی کے پچھتر (75) فیصد کے برابر تھا جو پچھلے مالی سال میں کم ہو کر ستر اعشاریہ سات (70.7) فیصد اور اس سال مزید کم ہو کر تقریباً اڑسٹھ اعشاریہ پانچ (68.5) فیصد کی سطح تک آچکا ہے۔ یہ پیش رفت ایک منظم Medium Term Debt Management Strategy پر عملدر آمد کا نتیجہ ہے، گزشتہ دو سالوں میں حکومت نے چار ہزار نو سو (4900) ارب روپے کا قرض قبل از وقت واپس کیا یا سستے قرض سے تبدیل کرتے ہوئے اپنا بوجھ کم کیا ہے۔ ہم نے سرمایہ کاروں اور مصنوعات کی diversification کو خاص ترجیح دی۔ خاص طور پر انشورنس سیکٹر کے لیے طویل مدتی زیرو کو پن بانڈ کا اجراء کیا اور شریعہ اصولوں کے مطابق فنانسنگ کا حصہ بڑھایا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر مختلف بانڈز کے اجراء کے ذریعے سرمایہ کاری average time to maturity، 2024 کی بنیادوں کو وسعت دی ہے۔ ہمارے مقامی قرض کا میں دو اعشاریہ آٹھ (2.8) سال تھا جو اب مئی 2026 ء میں بڑھ کر تین اعشاریہ آٹھ (3.8) سال ہو گیا ہے جس سے اس قرض کے refinancing risk میں نمایاں کمی ہوئی۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے ڈیجیٹل wallets کے ذریعے عوام کو حکومتی بانڈز میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے کے لیے موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ملکی قرض آنے والے برسوں میں نہ صرف کم ہو، بلکہ زیادہ متنوع، ستا، اور مزید محکم بنیادوں پر استوار ہو۔
Special Investment Facilitation Council (SIFC)
جناب سپیکر!
40۔ اب میں SIFC کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان میں سرمایہ کاری میں فروغ کا ایک اہم enabler بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں SIFC نے بارہ (12) مختلف شعبوں میں متعدد مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری منصوبوں کو سہولت فراہم کی۔ ان اقدامات کے ٹھوس نتائج واضح ہیں۔ میں دو تین مثالوں کے ذریعے SIFC کے اہم کردار پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔ ان میں سب سے پہلے پاکستان اسٹیل ملز کی چھ ہزار آٹھ سو ساٹھ (6.860) ایکڑ اراضی کو ایک خصوصی اقتصادی زون کے طور پر فعال کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ملک میں معاشی سرگرمی میں اضافہ کرے گا۔ تھر کول ریلوے منصوبہ بھی SIFC کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان ریلویز اور حکومت سندھ کی مشترکہ مالی معاونت سے شروع کیے گئے اس منصوبے سے مقامی توانائی کے ذخائر کو قومی نقل و حمل کے نیٹ ورک سے جوڑ نے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلے کا ایک اور بڑا قدم warehousing کے شعبے کو باقاعدہ طور پر صنعت کا درجہ دیتا ہے۔ اس اقدام سے سپلائی چین کی لاگت کم ہو گی اور کئی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
جناب سپیکر!
41۔ یہ بجٹ ایک واضح اور با مقصد حکمت عملی کے تحت ترتیب دیا گیا ہے بجٹ کی سب سے اہم ترجیح ملک میں پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور برآمدات کو فروغ دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم برآمدی صنعتوں کو ٹیکس مراعات دے رہے ہیں اور ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے ذریعے exporters کے لیے وسائل فراہم کر رہے ہیں تاکہ ہمارے ایکسپورٹرز بین الاقوامی منڈیوں میں مزید مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ برآمدات میں اضافہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرے گا، روزگار پیدا کرے اور خوشحالی کا ذریعہ بنے گا۔ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ہم نے زارعت کے فروغ اور کسانوں کو آسان قرضہ جات کی فراہمی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی مزید ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
جناب سپیکر!
42۔ یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ ملک میں روزگار کی فراہمی ہماری اہم ترجیح ہے۔ اس حوالے سے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایسے کاروباری ماحول کی فراہمی ہے جس میں نجی شعبہ پھلے پھولے، ملک میں کاروبار کو فروغ ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں ۔ ہمیں قوی امید ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر خصوصا صنعتی شعبے کے فروغ سے ملک میں روزگار کی فراہمی بہتر ہوگی۔
جناب سپیکر!
43۔ اس بجٹ کی ایک اور اہم ترجیح اگلے سال ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے کی بجائے enforcement اور tax compliance کے ذریعے آمدن بڑھانا ہے۔ اس حوالے سے نہ صرف ہم جدید compliance اور enforcement کے نظام کے استعمال میں توسیع لا رہے ہیں بلکہ FBR کی تنظیم نو بھی جاری ہے جس کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی۔
جناب سپیکر!
44۔ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ 27-2026 کی ایک اہم ترجیح نو جوانوں کو ہنر مند بنانا اور ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ اپنے لیے روزگار پیدا کر سکیں اور ملکی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ ملک کے کم آمدنی والے طبقے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی وساطت سے وسائل کی فراہمی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح دانش اسکول نیٹ ورک کو بھی توسیع دی جارہی ہے تا کہ کوئی ذہین بچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے ۔ بجٹ میں خیبر پختونخوا کے نئے خم شدہ اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے لیے بھی خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے تا کہ وہاں بھی عوامی سہولیات کی فراہمی کو بہتر کیا جاسکے۔
جناب سپیکر!
45۔ اب میں مالی سال 27- 2026 کے بجٹ کے اہم خدوخال پیش کرتا ہوں:
٭ مالی سال 27 2026 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح چار (4) فیصد رہنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ دو (8.2) فیصد متوقع ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تین اعشاریہ چھ فیصد (3.6) جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا دو فیصد (2) ہوگا۔
٭ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ پندرہ ہزار دو سو چونسٹھ (15,264) ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے سترہ اعشاریہ چھ (17.6) فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس (8,848) ارب روپے ہوگا۔
٭ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے کچھ قومی تقاضوں کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کے لیے ایک انتظام پر اتفاق کیا ہے جس کے مثبت اثرات ملکی سطح پر ہوں گے۔ یہ انتظام تعاون پر مبنی وفاقیت (Cooperative Federalism) کے جذبے کے تحت اور صوبائی حکومتوں کے آئینی حقوق کو متاثر کیے بغیر طے پایا ہے۔ اس انتظام کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل (Federal Divisible Pool) میں صوبائی حکومتوں کا حصہ بدستور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کے مطابق رہے گا۔ مالی سال 27-2026 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی پندرہ ہزار دو سو چونسٹھ (15,264) ارب روپے ہے۔ تا ہم strategic قومی تقاضوں کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کے لیے کم از کم تیرہ ہزار تین سو پچاس (13,350) ارب روپے کی رقم محفوظ رکھی گئی ہے۔ تیرہ ہزار تین سو پچاس (13,350) ارب روپے سے پندرہ ہزار دو سو چونسٹھ (15,264) ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو پاکستان کے آئین 1973 ءکے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی strategic تقاضوں کی تعمیل کے لیے دستیاب ہوگی۔ یہ انتظام مالی سال 27-2026 کے لیے نافذ العمل ہوگا اور مالی سال 2027-28 اور 29-2028 کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔
٭ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف پانچ ہزارتین سو چھتیں (5.336) ارب روپے ہو گا۔
٭ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی گیارہ ہزار سات سو اکیاون (11,751) ارب روپے ہوگی۔
٭ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ اٹھارہ ہزار سات سو اکہتر (18,771) ارب روپے ہے، جس میں سے آٹھ ہزار چون (8,054) ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔
٭ وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار (1,000) ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
٭ وفاقی حکومت کے جاریہ اخراجات (current expenditure) کا تخمینہ سترہ ہزار چار سو پچانوے (17,495) ارب روپے ہے۔
٭ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔ اس قومی فرض کے لیے تین ہزار (3,000) ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
٭ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار اکہتر (1,071) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار ایک سو انہتر (1,169) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجلی اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر ایک ہزار اکیانوے (1,091) ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔
٭ گرانٹس کی مد میں دو ہزار چھ سو اسی (2,680) ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جو BISP ، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے نئے خم شده اضلاع وغیرہ کے لیے ہیں۔
٭ وزیر اعظم اپنا گھر ا سکیم کے لیے اکہتر (71) ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
٭ Export Refinance Scheme کی توسیع کے لیے اٹھاسی (88) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔
٭ حکومت BISP کے flagship initiatives کی coverage بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ بیس لاکھ (12 milion) خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔ تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریبا بیانوے لاکھ (9,200,000) بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اگلے مالی سال میں BISP کے لیے آٹھ سو اڑتیس (838) ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کے پچھلے سال کے مقابلے میں سترہ (17) فیصد زیادہ ہے۔
٭ جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک سو چھیالیس (146) ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے اٹھاسی (88) ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے پچانوے (95) ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
پیک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP)
جناب سپیکر!
46۔ اب میں اس ایوان کے سامنے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کی تفصیل پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پروگرام حکومتی سرمایہ کاری کا وہ instrument ہے جس کے ذریعے ہم ملکی و غیر ملکی وسائل کو سماجی و معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لاتے ہیں۔ 10 جون 2026ء کو منعقدہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا حجم تین ہزار چھ سو پچھتر (3.675) ارب روپے ہے۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے ایک ہزار (1,000) ارب روپے، جملہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے دو ہزار دو سو چوبیس (2,224) ارب روپے اور ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے چار سو اکیاون (451) ارب روپے شامل ہیں۔ یہ تقسیم اٹھارہویں (18) آئینی ترمیم کے بعد کے فرائض کی نئی تقسیم کی عکاس ہے جس کے تحت سماجی شعبے کی ذمہ داری بڑی حد تک صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے جبکہ وفاق خاص طور پر قومی اہمیت کے اسٹر مینک منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔
جناب سپیکر!
47۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا ساٹھ فیصد (60) سے زائد حصہ کلیدی شعبوں بشمول ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن، آبی وسائل اور توانائی پر مرکوز ہے جبکہ باقی حصہ آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور تعلیم سمیت دیگر اہم شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ تمام منصوبے اڑان پاکستان اور 5Es پر مبنی National Economic Transformation Plan کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اب میں ان شعبوں کی تفصیلات پیش کرتا ہوں:
نقل و حمل اور مواصلات
جناب سپیکر!
48۔ شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ تین سو پینسٹھ (365) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں کراچی کو چمن سے جوڑنے والی بلوچستان کی اہم ترین شاہراہ 25-N پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے ایک سو (100) ارب روپے کی رقم سرفہرست ہے۔ اسی طرح شمال -جنوب موٹر وے نیٹ ورک کی تکمیل کے لیے 6-M (سکھر -حیدر آباد موٹر وے) پر تیس (30) ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ ADB کی نئی فنانسنگ سے ML-I کے کراچی روہڑی سیکشن پر کام آئندہ مالی سال سے شروع ہو گا، جس کے لیے پچیس (25) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ Thar Coal Connectivity Project کے لیے دو (02) ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو ہمارے مقامی توانائی کے ذخائر کو قومی نقل و حمل کے نظام سے جوڑے گا۔ اس کے علاوہ گوادر بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے اور چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے ترانوے (93) ارب سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ پورے ملک میں تیز تر نقل و حمل کے ذرائع دستیاب ہو سکیں۔
توانائی اور بجلی
جناب سپیکر!
49۔ سستی، قابل اعتماد اور پائیدار توانائی کی فراہمی اس حکومت کا عزم اور معیشت کی بنیادی ضرورت ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں بجلی کے شعبے کے لیے ایک سو سولہ اعشاریہ دو(116.2) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں کلیدی ہائیڈرو پاور منصوبے جیسے داسو ہائیڈ رو پاور منصوبہ تربیلا ڈیم کی پانچویں توسیع اور مہمند ہائیڈرو پاور منصوبہ شامل ہیں۔ بجلی کی ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے STATCOM اور بیٹری سٹوریج جیسے جدید نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے بالترتیب دس اعشاریہ دو (10.2) ارب اور تین (3) ارب روپے شامل ہیں۔ صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے Special Economic Zones میں بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ صاف اور قابل تجدید توانائی کے نو (09) منصوبوں کے لیے واپڈا کو پچاس اعشاریہ دو (50.2) ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آٹھ (8) ہائیڈ رو پاور منصوبوں کے لیے تیرہ اعشاریہ ایک (13.1) ارب روپے کی خصوصی رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں واپڈا اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنے انفرادی وسائل سے ایک سو اٹھاون ارب (158) روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کریں گے۔
آبی وسائل
جناب سپیکر!
50۔ پاکستان کو پانی کے کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جیسے storage کی کم ہوتی صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے سیلاب۔ گزشتہ سال دریائوں میں آنے والے سیلاب نے ہماری معیشت کو آٹھ سو بائیس (822) ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ نقصان ہمیں اس شعبے میں منظم سرمایہ کاری کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں تینتالیس (43) آبی منصوبوں کے لیے ایک سو تین اعشاریہ ایک (103.1) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سب سے اہم منصوبوں میں دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے چودہ (14) ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے بائیس (22) ارب روپے، داسو ہائیڈرو پاور کے لیے پندرہ (15) ارب روپے اور کراچی کے bulk واٹر سپلائی منصوبے (4-K) کے لیے دس (10) ارب روپے شامل ہیں۔
Physical Planning & Housing
جناب سپیکر!
51۔ پاکستان کی شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2035ء تک ہماری تقریبا نصف ملکی آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہوگی ۔ urban centers ہماری معیشت کا تقریباً پچپن فیصد (%55) حصہ ہیں اور اسی (80) لاکھ سے زائد ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں sustainable urban devlopment اور ہائوسنگ کے شعبے کے لیے چون اعشاریہ چھ (54.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس مختص رقم کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ پچاس ہزار (150,000) سستے اور climate resistant رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے، دس (10) بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے اور شہری پانی اور صفائی کی فراہمی میں واضح بہتری لائی جائے گی۔ یہ منصوبے ان اقدامات کے علاوہ ہیں جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ ان دونوں کے امتزاج سے ہائوسنگ اور تعمیرات کے شعبہ میں واضح اور دور رس نتائج کی حامل مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
صنعت اور پیداوار
جناب سپیکر!
52۔ صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی رفتار بڑھانے کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں صنعت اور تجارت کے لیے تقریبا چھ اعشاریہ چھ (6.6) ارب روپے مختص کیے گئےہیں۔ اس کا سب سے بڑا حصہ کراچی انڈسٹریل پارک کے بلاک-اے کی تعمیر و ترقی پر صرف ہو رہا ہے۔ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائننگ اور آٹومیشن کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ سیالکوٹ میں ڈینٹل اور سرجیکل آلات کے سپورٹ سینٹر کے ذریعے ہم اپنی برآمدی صنعتوں کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح SMEDA کے تحت ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک ہزار (1000) Industrial Stitching Units کے دوسرے مرحلے کی توسیع ہو رہی ہے جس سے اضافی برآمدات اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
صحت
جناب سپیکر!
53۔ عوامی صحت کی دیکھ بھال ہماری اہم قومی ترجیح ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں صحت کے منصوبوں کے لیے پچیس اعشاریہ ایک (25.1) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں tertiary healthcare کی سہولیات کی توسیع، ہنگامی اور critical care کی مضبوطی، کینسر کے علاج کی سہولیات میں وسعت، بیماریوں کی نگرانی کے مربوط نظام اور تشخیصی و ریگولیٹری ڈھانچے کی جدید کاری شامل ہیں۔
اعلیٰ تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی
جناب سپیکر!
54۔ اعلی تعلیم اور تحقیق ہماری معاشی اور سماجی نمو کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کے لیے چھیالیس (46) ارب روپےمختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے چونتیس اعشاریہ نو (349) ارب روپے کے مقابلے میں ایک قابل ذکر اضافہ ہے۔ اس میں مستحق طلباء و طالبات کے لیے وظائف کی فراہمی، یونیورسٹیوں کی تحقیقی صلاحیت میں اضافہ، Pakistan Education and Research Network کی اپ گریڈیشن کے ذریعے digital learning کا فروغ اور AI پر مبنی تعلیمی نظام کا فروغ شامل ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ تین اعشاریہ چھ (3.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، SMEs، قابل تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت وغیرہ کی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔
بنیادی تعلیم، کالج تعلیم اور ہنر
جناب سپیکر!
55۔ وزیر اعظم کا vision ہے کہ تعلیم کے مواقع معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچنے چاہئیں اور اس vision کی سب سے روشن مثال دانش اسکوائر ہیں۔ یہ اسکوائر ملک بھر کے باصلاحیت مگر وسائل سے محروم بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں دانش اسکولز کے لیے تقریباً بائیس (22) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اسکول اور کالج کی تعلیم کے لیے چھبیس اعشاریہ تین (26.3) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں اساتذہ کی تربیت، اسکولوں میں داخلوں کی تعداد بڑھانے، early childhood education کی توسیع اور digital learning کا فروغ شامل ہے۔ اس طرح نوجوانوں کی ہنر مندی اور روزگار کے لیے NAVTTC کے ذریعے وزیر اعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سات اعشاریہ نو (7.9) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ہر پاکستانی نوجوان کے ہاتھ میں وہ ہنر ہو جو اسے اکیسویں صدی کی معیشت میں قدم رکھنے کے قابل بنا سکے۔
گورنس اور ادارہ جاتی اصلاحات
جناب سپیکر!
56۔ حکومت کی کارکردگی میں بہتری اور عام شہری کو اس کی دہلیز تک خدمات پہنچانا ایک اہم ترجیح ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں گورننس کے شعبے کے لیے تیرہ (13) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو سول سروسز، انصاف، پولیس اور ریگولیٹری اصلاحات اور وفاقی و صوبائی سطح پر ڈیجیٹل گورنس کی توسیع کے لیے بروئے کار لائے جائیں گے۔
آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، اور ضم شده اضلاع
جناب سپیکر!
57۔ کم ترقی یافتہ علاقے اور خطے ہماری خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026-27 میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختوانخوا کے خم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر ایک سو چوالیس اعشاریہ نو (144.9) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، آزاد جموں وکشمیر کے لیے پینتالیس (45) ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے چوالیس (44) ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے چھپن (56) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے خصوصی پیکج کے طور پر آزاد جموں و کشمیر کے لیے پانچ (5) ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لیے چار (4) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حصہ دوم
جناب سپیکر!
58 ۔میں نے اس معزز ایوان کے سامنے حکومت کے اخراجات کی ترجیحات بیان کی ہیں ۔ اب میں ٹیکس اقدامات کا ذکر کروں گا۔ میں ٹیکس تجاویز تین حصوں میں پیش کروں گا ۔ پہلے حصے میں ریلیف اقدامات، پھر Tax Rationalization اقدامات اور بعد میں ایف بی آر کے اہم ترین اقدام New Operating Model کا ذکر ہو گا۔
انکم ٹیکس ریلیف کے اقدامات
جناب سپیکر !
تنخواہ دار طبقہ کے لئے ریلیف
59۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے آمدنی کی چار slabs کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جو تنخواہ دار بائیس (22) سے بتیس (32) لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں ، ان کے ٹیکس کی شرح تیئس (23) فیصد سے کم کر کے میں (20) فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ بتیس (32) سے اکتالیس (41) لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اکتالیس (41) سے چھپن (56) لاکھ روپے آمدن والوں کے لئے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کی تجویز ہے ۔ اسی طرح چھپن (56) لاکھ سے ستر (70) لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
جناب سپیکر!
60 ۔تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ ہم نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور حکومت کو بھی اس امر کا احساس تھا۔ اس لیے ہم نے پچھلے بجٹ میں اس سرچارج کی شرح کو دس فیصد سے نو فیصد کیا اور اب اس سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ان اقدامات سے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔
سپر ٹیکس کی شرح میں کمی
جناب سپیکر!
61۔مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے کاروبار سے پندرہ کروڑ روپے سے پچاس کروڑ روپے تک کی آمدنی کی چھ Slabs پر عائد سپر ٹیکس جو ایک فیصد سے لیکر ساڑھے سات فیصد کی سطح تک تھا، کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح پچاس کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح دس فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بینکوں ، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر کمپنیوں پر موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔
تعمیراتی شعبے کی بحالی
جناب سپیکر !
62۔ پاکستان کی معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا اور صنعتی ترقی کا پہیہ تیز کرنے میں کنسٹرکشن سے بڑھ کر کوئی شعبہ نہیں ہے جب کنسٹرکشن کا شعبہ ترقی کرتا ہے تو سیمنٹ ، لوہا ، شیشہ ، نمبر، پینٹس، ٹائلز ، ہارڈوئیر اور چالیس سے زائد صنعتیں نشوونما پاتی ہیں ۔ جائیداد کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرز کے لئے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس اقدام سے کنسٹرکشن کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ نشوونما پائے گا۔
برآمدی شعبہ کے لئے ریلیف
جناب سپیکر !
63۔ ڈیجیٹل معیشت پاکستان کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا برآمدی شعبہ ہے۔ پاکستان کا IT اور IT سے متعلقہ خدمات کا شعبہ اور ہمارے فری لانسرز، سافٹ وئیر ہائوسز اور ڈیجیٹل exporters ہمارا اثاثہ ہیں۔ IT برآمدات کی آمدنی پر صفر اعشاریہ دو پانچ (0.25) فیصد FTR کی رعایت 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والی تھی ۔ وزیر اعظم کی اس شعبے کی ترقی میں دلچسپی اور حکومت کی محنت سے پیدا کردہ مالی گنجائش کی بدولت اس رعایتی نظام کو مزید تین سال کے لئے یعنی 30 جون 2029ء تک جاری رکھنے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے ہماری آئی ٹی برآمدات بڑھیں گی اور نوجوانوں کو اس شعبے کی جانب راغب ہونے کی تحریک ملے گی۔
جناب سپیکر!
64۔ ایکسپورٹ سیکٹر ہماری معیشت کی گروتھ کی ضمانت بننے والے زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے ۔ اس وقت ایکسپورٹس پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور minimum ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر دو فیصد ٹیکس عائد ہے جسے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے جو کہ minimum ٹیکس کی مد میں ہوگا۔
کریڈٹ /ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنرز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی
جناب سپیکر!
65۔ اس وقت ملک میں بینکوں کے جاری کردہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ہر transaction پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لئے غیر روایتی ذرائع کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو صفر اعشاریہ پانچ فیصد (0.5) فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ اسے معمول کی financial transaction کی سطح پر لایا جاسکے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکومتی کوششوں کو تقویت مل سکے۔
غیر ملکی اثاثوں پر Capital Value Tax کا خاتمہ
جناب سپیکر!
66۔ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر Capital Value Tax ختم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا جو اس ٹیکس کے بنیادی مقصد کے منافی تھا۔ ظاہر کیا جانے والا اثاثہ ایک دستاویزی اثاثہ ہوتا ہے جس پر ٹیکس عائد ہوتا ہے ۔ اس ٹیکس کو ختم کرنے سے پاکستانیوں کو اپنے غیر ملکی مالیاتی حیثیت ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ جس سے کمپلائنس، documentation اور اضافی ریونیو کا حصول ممکن ہو گا۔
خواتین کی صحت کے لئے ضروری اشیاء پر ٹیکس کا خاتمہ
جناب سپیکر!
67- خواتین کی صحت کے لئے ضروری اشیاء مثلاً Sanitary Pads اور متعلقہ اشیاء روزمرہ زندگی کی ضروریات ہیں جو خواتین کی صحت، وقار اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھر پور شرکت کے لئے لازم ہیں ۔ اس لیے Sanitary Pads اور متعلقہ اشیاء پر ٹیکس کے خاتمہ کی تجویز ہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات
جناب سپیکر!
68۔ اس سے متعلق دوسرا اقدام contraceptives پر ٹیکس کے خاتمہ کے حوالے سےہے۔ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ آبادی میں اضافہ کی رفتار تشویشناک ہے اور خاندانی منصوبہ بندی حکومت کی اولین ترجیح ہے اس لیے ہم contraceptives پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔
انکم ٹیکس کے ریونیو اقدامات
جناب سپیکر!
69۔ اب میں اس بجٹ میں اٹھائے جانے والے ریونیو اقدامات کا ذکر کروں گا۔
ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت – چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس
جناب سپیکر!
70۔ ہم کئی دہائیوں سے پاکستان کے retailers کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔ چھوٹے دوکاندار اپنے اردگرد کے لوگوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں اور کراچی سے لے کر چترال تک ہر گلی کوچے اور بازار کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہیں۔ چھوٹے دکانداروں کی اکثریت ابھی تک ٹیکس نظام سے باہر ہے۔
جناب سپیکر!
71۔ اس سال ہم نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا ، پاکستان بھر میں چھوٹے دکانداروں اور ان کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کی ، ان کے ساتھ مل بیٹھے، ان کی باتیں سنیں اور اس بھر پور مشاورت کے بعد دوکاندار طبقے کے مطالبہ پر ہم نے ایک ایسا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں انتظامی سہولتوں کی بجائے دکانداروں کے حقیقی خدشات کو مقدم رکھا گیا ہے۔
جناب سپیکر !
72 ۔انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 99B کے تحت چھوٹے دکانداروں کے لئے Fixed Tax System متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتے ہیں جن کی سالانہ فروخت بیس کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ وہ اس نظام کے تحت اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ اس ٹیکس میں وہ اپنا ود ہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کرا سکیں گے مگر گوشوارہ جمع کراتے وقت انہیں کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہو گا۔ روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا۔ خریداری پر ودہولڈنگ کی کوئی
ذمہ داری نہیں ہوگی اور انہیں POS مشین رکھنے سے استثنا ہو گا۔ جو دکاندار فکسڈ ٹیکس سسٹم کا انتخاب کرے گا اس کو سبز رنگ کی ایک تختی دی جائے گی جس پر ایک تصدیقی QR Code چسپاں ہوگا جو ان دکانوں پر آویزاں ہو گی۔ اس سختی کی موجودگی میں ایف بی آر اہل کاروں کو پوچھ گچھ کے لیے دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس سکیم کے تحت ایک سادہ اور ایک صفحے کا ٹیکس گوشوارہ ہو گا جو اردو کے علاوہ تمام بڑی مقامی زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
جناب سپیکر !
73 – اسی طرح گزشتہ سات سال سے جامد جرمانوں کی رقم کو inflation کے مطابق Adjust کیا جا رہا ہے اور digital integration کی خلاف ورزی پر بھی جرمانوں کی تجویز ہے۔
جناب سپیکر !
74۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ان اقدامات کا مقصد ریونیو بڑھانا نہیں بلکہ ان کا اصل ہدف احتساب ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اب ٹیکس چوری آسان نہ رہے ۔
سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار میں توسیع
جناب سپیکر !
75۔ سیلز ٹیکس ایکٹ میں ، تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار کو وسعت دی جارہی ہے اور اس میں Fast-moving consumer goods کی category کو شامل کیا جا رہا ہے۔ ملتی جلتی یا ایک جیسی اشیاء کو ان کی درجہ بندی کی بنیاد پر مختلف شرح سے ٹیکس لگایا جاتا رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے under invoicing اور اشیاء کی غلط درجہ بندی کا رجحان بڑھا ۔ ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے اس درجہ بندی میں اشیاء کے ٹیکس ریٹس کو معقول کرنے کی تجویز ہے۔
غیر رجسٹرڈ افراد سے خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت
جناب سپیکر !
76۔ موجودہ قانون کے تحت اگر کوئی کمپنی کسی غیر رجسٹرڈ سپلائر سے سامان خریدتی ہے تو رقم کی ادائیگی کے وقت سپلائر سے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، تجویز ہے کہ اب Individuals اور AOPs بھی اگر کسی غیر رجسٹرڈ سپلائر سے سامان خریدیں گے تو رقم کی ادائیگی کے وقت ود ہولڈنگ ٹیکس ادا کیا جائے گا تاکہ تمام غیر رجسٹرڈ سپلائرز خود کو سیلز ٹیکس کے قانون میں رجسٹرڈکرانے کو ترجیح دیں ۔
جناب سپیکر!
77۔ اب میں ایف بی آر کے نئے Tax Operating Model کی تفصیلات اس معزز ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
The National Faceless Centre and Assessment System
جناب سپیکر!
78 ۔ ہم اس ماڈل کے تحت ایک National Faceless Centre بنانے جارہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ اس مرکز میں موجود فیس لیس ونگ کے پاس صوابدیدی اختیارات جیسا کہ آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول ہوں گے۔ جبکہ field operation wing ، ویریفیکیشن، رجسٹریشن اور ریکوری کا ذمہ دار ہو گا اور کوئی discretionary powers نہیں رکھے گا۔ ان دونوں دفاتر کے درمیان بنیادی فرق سٹرکچر اور قانونی نوعیت کا ہو گا، یہ فرق انتظامی امور یا عارضی اقدامات سے ختم نہیں کیا جا سکے گا۔
جناب سپیکر!
79 ۔مرکزی ونگ میں تمام آڈٹ اور assessment کی کارروائی کے دوران ٹیکس پیئر اور ٹیکس آفیسر کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ سنگل بلائنڈ موڈ (Single Blind Mode) میں آفیسر کی شناخت ٹیکس پیئر سے خفیہ رکھی جائے گی ۔ ڈبل بلائنڈ موڈ (Double Blind Mode) میں بعدازاں ٹیکس پیئر کی شناخت بھی آفسیر سے خفیہ رکھی جائے گی۔ تمام پیغام رسانی ایف بی آر کے IRIS Portal کے ذریعے ہو گی۔ ٹیکس پیئر اور ٹیکس آفیسر کے مابین کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو گا اور اس کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ آفیسر خود کوئی کیس منتخب نہیں کر سکے گا۔ خود کار طریقہ کار کے تحت سسٹم، رسک سکور کی بنیاد پر کوئی کیس آفیسر کو تقویض کرے گا۔ آڈٹ صرف ڈیٹا کی بنیاد پر ہوگا۔ اسی طرح کا فیس لیس نظام پچھلے ڈیڑھ سال سے ایف بی آر کے کسٹم ونگ میں آزمایا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف امپورٹرز کو سہولت میسر ہوئی ہے بلکہ کسٹم حکام سے منسوب کرپشن میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں بھی اس اقدام سے کرپشن میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔
جناب سپیکر!
80 ۔ سب سے اہم تبدیلی صرف پہچان خفیہ رکھنا نہیں بلکہ طریقہ کار میں بھی اختیارات کو الگ کرنا ہے۔ سسٹم کیس خود منتخب کرے گا۔ ایک علیحدہ آڈٹ یونٹ اس کا معائنہ کرے گا۔ کوالٹی کنٹرول یونٹ جو آڈیٹر سے بالکل الگ ہو گا، ہر آرڈر کے ایشو ہونے سے پہلے اس کا معائنہ کرے گا۔ ٹیکس ڈیمانڈ بالکل مختلف اسیسمنٹ فنکشن کی ذمہ داری ہوگی۔ ریکوری کے معاملات ایک اور حصہ دیکھے گا۔ اس پوری chain میں کوئی ایک افسر کسی کیس پر شروع سے آخر تک گرفت نہیں رکھ سکے گا۔ یہ صرف انتظامی تبدیلی نہیں ہے بلکہ کرپشن کو ختم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی اور یہی تبدیلی پاکستان کے ٹیکس کے معاملات کو مزید شفاف اور سہل بنائے گی ۔
Algorithmic Settlement Mechanism and Central Data Hub
جناب سپیکر!
81۔ ہم ایک خودکار میکانزم متعارف کروا رہے ہیں جس میں ٹیکس پیئر کے انداراج کردہ ڈیٹا اور ایف بی آر کے پاس مختلف ذرائع سے موجود ڈیٹا میں سقم کی نشاندہی کی جائے گی ۔ اس اقدام سے روایتی آڈٹ کے طریقہ کار میں ہونے والے اخراجات، تاخیر اور پریشانی کو ختم کر دیا جائے گا۔ جیسے ہی سسٹم کو کوئی سقم نظر آئے گا، ٹیکس پیئر کی گزشتہ ہسٹری کی بنیاد پر، سقم کی نوعیت کے لحاظ ، اور کاروائی کے مرحلہ کے اعتبار سے، سسٹم settlement آفر طے کرے گا اور ٹیکس پیئر کو IRIS پورٹل کے ذریعے مطلع کیا جائے گا جو ٹیکس پیئر اس آفر کو قبول کرے گا، اپنا گوشوارہ درست کر لے گا اور سیٹلمنٹ کی رقم جمع کرا دے گا، اس کی کاروائی مکمل تصور ہوگی۔ اس کے علاوہ کوئی اضافی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ کوئی انسانی مداخلت نہیں ہو گی اور یہ طریقہ کار ٹیکس پیر سے اور اور ریونیو دونوں کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔
Third-Party Data and Taxpayer Outreach
جناب سپیکر !
82۔ اس کے ساتھ ساتھ تھرڈ پارٹیز، ایف بی آر کے سنٹرل ڈیٹا کے ساتھ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا شئیر کرتی رہیں گی یہ ڈیٹا افسران کی نگرانی میں مکمل طور پر ڈیجیٹل سسٹمز میں پر اس ہوگا۔ جائیداد کی رجسٹری کا ڈیٹا ، گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ڈیٹا، بینک ڈیٹا اور یوٹیلیٹی ریکارڈ کو یکجا کر کے ٹیکس پیئرز رسک پروفائل تیار کرنے کا آغاز ہو چکا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایف بی آر کو یہ اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں کہ کون اپنا گوشوارہ درست جمع نہیں کرا رہا ہے۔ اسے کسی خفیہ معلومات یا شکایت یاموقع پر معائنہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اسے صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا Declare کیا گیا ہے اور ڈیٹا میں کیا ظاہر ہو رہا ہے۔
پروڈکشن مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ کا دائرہ کار بڑھانا
جناب سپیکر!
83۔ اس وقت بہت سے صنعتی شعبوں میں Real-time Production monitoring program فعال ہے اور اس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ہر اس شعبہ کو پروڈکشن مانیٹرنگ کے تحت لایا گیا ہے جس کی Revenue Potential کو صحیح طور پر جانچا جا سکتا ہو اور جس کی غلط بیانی کی نشاندہی کرنا اور اسے ٹھیک کرنا ممکن ہو۔ Digital Invoicing Network بھی پوری سپلائی چین میں ایسی شفافیت کا باعث بن رہا ہے جو اس سے پہلے ٹیکس سسٹم میں نہیں دیکھی گئی تھی۔ آئندہ سال میں ان دونوں پروگراموں کا دائرہ کار مزید شعبوں تک وسیع کیا جائے گا۔ یہ اقدامات بنیادی اہمیت کے حامل اور کارآمد ہیں جن پر ریونیو میں پائیدار اضافے کا انحصار ہے ۔
٭ سیلز ٹیکس ۔۔ اصلاحی اقدامات
جناب سپیکر!
84۔ سیلز ٹیکس کے اصلاحی اقدامات کے پس منظر میں وہی اصول کارفرما ہیں جو انکم ٹیکس اصلاحات میں اپنائے گئے ہیں
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی۔۔ اقدامات
جناب سپیکر !
85 ۔اب میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اقدامات کا ذکر کرنا چاہوں گا ۔
جناب سپیکر!
86 ۔پہلا اقدام جعل سازی کے خلاف ہے۔ ہم Petroleum Based Solvents جن میں سفید سپرٹ، Petroleum Naphtha اور منرل تارپین آئل شامل ہیں پر اسی (80) روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رہے ہیں۔ یہ اشیاء پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں لیکن انہیں تیل میں ملاوٹ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے تیل کی مصنوعی فروخت کرنے والے دیانت دار تاجروں کو ایسے بددیانت تاجروں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ملاوٹ شدہ تیل فروخت کرتے ہیں۔
87۔ ہمارا دوسرا اقدام معاشی بوجھ کی تقسیم سے متعلق ہے۔ ہم درآمد کی جانے والی کاروں اور cc2000 سے بڑی اور cc3000 تک کی SUVs پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رہے ہیں۔ cc3000 سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی عائد ہو گی۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو (2) کروڑ سے مہنگی لگژری EV پر بھی ہو گا۔
جناب سپیکر!
88۔ اس ضمن میں ایک اور ریلیف measure کے تحت بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ مراعات یافتہ طبقہ کے لئے کوئی رعایت نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان اپنا معیشت کو درکار سرمایہ کاری اورشراکت داری کے لئے ایک پرکشش ملک بن سکے جو ہماری اقتصادی پالیسی کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔
جناب سپیکر!
89۔ آٹو سیکٹر ہماری معیشت کے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس اہم شعبے کی ترقی کے لیے گزشتہ ایک دہائی میں ترقیاتی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جن سے اس صنعت کو فروغ ملا اور ملک میں OEMS /Assemblers کی تعداد بڑھ کر ایک سو اٹھارہ (118) ہوگئی۔ ان میں ٹریکٹر اور موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچرز شامل ہیں۔ نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس ا جدید ٹیکنالوجیز میں نمایاں سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے اس شعبے میں مسابقت بڑھی ہے اور شعبے میں modernization ہوئی ہے۔ اس وقت ایک نئی آٹوسیکٹر پالیسی وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے جس کی تفصیلات وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ البتہ میں اس چیز کا اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔ اس سلسلے میں درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
90۔ صحت کی سہولیات کی منصفانہ فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہماری وابستگی غیر متزلزل ہے۔ کینسر جیسے موذی امراض کی وجہ سے پاکستانی خاندانوں پر پڑنے والے شدید مالی اور جذباتی بوجھ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت ایک نپی تلی اور موثر علاج کی سہولت متعارف کرارہے ہیں۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت کینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے ایک سو سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر کے تمام شہریوں کے لئے جدید اور خصوصی علاج زیادہ سہل اور قابل رسائی ممکن بنانا ہے۔
جناب سپیکر!
91۔ ہماری حکومت نے ملک کی صنعتوں کو گلوبل ویلیو چینز Global Value Chains میں شامل کرنے اور کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لئے پچھلے سال ایک جامع نیشنل ٹیرف پالیسی کے پہلے مرحلہ کا آغاز کیا تھا۔ ٹیرف پالیسی بورڈ نے ٹیرف کے ڈھانچے کو سادہ بنانے اور تدریجی ٹیرف سٹم کی طرف منتقلی کے حکومتی عزم کے تسلسل میں تمام سٹیک ہولڈرز (Stakeholders) کے ساتھ وسیع تر مشاورت کے بعد خام مال اور متعلقہ اشیاء کی ایک بڑی تعداد پر کسٹمز ڈیوٹی ، اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی ہے۔ ڈیوٹیز میں اس کمی کی وجہ سے برآمدی شعبے ، کیمیکل سیکٹر اور خاص طور پر چھوٹے کاروبار (SMEs) کو ان پٹ (Input) کی لاگت میں براہ راست یا بالواسطہ کمی کی صورت میں ریلیف ملے گا۔
جناب سپیکر!
92 ۔یہ حکمت عملی پاکستان کی اس وسیع تر پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد برآمدات کو فروغ دینا ہے تاکہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکیں اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے ذریعے پاکستان پائیدار ترقی کی راہ پر مستقل بنیادوں پر گامزن ہو سکے ۔
حصہ سوم
ریلیف اقدامات
جناب سپیکر!
93۔ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات (07) فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی سات (07) فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح کم سے کم ماہانہ تنخواه (minimum wage) میں دس (10) فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔
اختتامی کلمات
جناب سپیکر !
94 ۔میں اپنی تقریر کے اختتام پر اس معزز ایوان کے سامنے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس بجٹ میں اعلان کردہ تجاویز خصوصاً ٹیکس ریلیف اقدامات، انرجی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر اقدامات معیشت کے کلیدی شعبوں جیسے زراعت، معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، A1 اور tech-driven صنعتوں کو فروغ دیں گے جس سے معاشی ترقی کا پہیہ چلے گا اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ ہم نے اس ترقی کے حصول کے لیے بنیادی لوازمات مہیا کر دیئے ہیں۔ ہماری معیشت پھر سے اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے، ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر اور ایکسچینج ریٹ مستحکم ہیں، ہماری منڈیاں رواں ہیں اور دنیا ہمارے ساتھ سرمایہ کاری اور شراکت کے رشتے استوار کر رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی سفر نہیں تھا۔ یہ ایک مشکل اور کٹھن سفر تھا جسے ہم نے قومی جذبے اور ہماری قیادت کی قوت ارادی اور دور اندیشی سے طے کیا۔ جناب سپیکر، میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ استحکام ہماری منزل نہیں تھی، ہمارے سفر کا آغاز تھا۔ ہمارا یہ سفر نئے یقین اور ولولے کے ساتھ جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کے بجٹ اقدامات سے اس سفر کو مزید تقویت ملے گی۔
جناب سپیکر!
95 ۔ترقی کا مطلب صرف اعداد و شمار کا بڑھنا نہیں، ترقی کا اصل مطلب وہ ہے جو ہر گھرانے کے دستر خوان تک ہر کسان کے کھیت تک، ہر کاروبار کے کائونٹر تک اور ہر نوجوان کے روزگار تک پہنچے۔ اسی لیےاس حکومت کا عزم صرف ترقی نہیں، بلکہ ایک وسیع البنیاد، پائیدار اور منصفانہ ترقی کا حصول ہے جس کے ثمرات ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے تک یکساں طور پر پہنچیں۔ یہ بجٹ اسی جامع ترقی کے حصول کی جانب ایک سنجیدہ قدم ہے۔
جناب سپیکر!
96 ۔میں آخر میں اس ایوان کے فلور سے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب کی قیادت کو سراہنا چاہتا ہوں، جن کی سر پرستی، ذاتی لگن اور رہنمائی میں ہم نے معاشی استحکام کا سفر طے کیا، میں ہماری عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی قیادت نے دفاع وطن کو ناقابل تسخیر بنایا۔ میں اپنے coalition partners کا بھی ممنون ہوں جن کی حمایت ہمیں ہر مشکل موقع پر حاصل رہی۔ میں اپوزیشن کے معزز اراکین کا بھی شکر گزار ہوں جن کی مخلصانہ تنقید نے ہمیں مزید محنت کا جذبہ عطا کیا۔ یہاں میں تمام صوبائی حکومتوں کے جذبہ تعاون اور ایثار کو بھی سراہوں گا کہ جن کی بدولت ہم اپنے ملک کے سٹرٹیجک اہداف کی تکمیل کی جانب بڑھیں گے۔ ہماری اس تمام تر کاوش اور محنت کا مقصد یہی ہے کہ ہم پاکستان کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنائیں اور انہیں وہ تمام سہولتیں اور آسانیاں فراہم کر سکیں جن کے وہ مستحق ہیں۔
جناب سپیکر!
97۔ میں اپنی تقریر کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر پر کرنا چاہتا ہوں جو اس قوم کی روح کاابدی اظہار ہے۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
پاکستان زنده باد‘‘