سیلز ٹیکس میں وہی اصول کارفرما ہیں جو انکم ٹیکس اصلاحات میں اپنائے گئے ہیں،وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سیلز ٹیکس اصلاحی اقدامات کے پس منظر کے حوالہ سے کہا ہے کہ اس میں وہی اصول کارفرما ہیں جو انکم ٹیکس اصلاحات میں اپنائے گئے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالہ سے پہلا اقدام جعل سازی کے خلاف ہے

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سیلز ٹیکس اصلاحی اقدامات کے پس منظر کے حوالہ سے کہا ہے کہ اس میں وہی اصول کارفرما ہیں جو انکم ٹیکس اصلاحات میں اپنائے گئے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالہ سے پہلا اقدام جعل سازی کے خلاف ہے۔ پٹرولیم بیسڈ سالومنٹ میں سفید سپرٹ، پٹرولیم ناپتھا اور منرل تارپین آئل شامل ہیں جس پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اشیاء پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں لیکن انہیں تیل میں ملاوٹ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے تیل کی فروخت کرنے والے دیانت دار تاجروں کو ایسے بددیانت تاجروں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ملاوٹ شدہ تیل فروخت کرتے ہیں۔