وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی: تیسرا بجٹ تنخواہ دار طبقے، مزدوروں اور تمام شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا
حکومت کا تیسرا بجٹ تنخواہ دار طبقہ، مزدوروں اور تمام شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے ،وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے آئندہ مالی سال27-2026 کے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے جو تنخواہ دار طبقے، مزدوروں، صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور عام آدمی سمیت تمام شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
ہفتہ کوپوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس کا بوجھ چند مخصوص طبقات پر تھا اس لیے حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مختلف ٹیکس سلیبز میں کمی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر صرف 500 روپے ٹیکس عائد ہوگا جبکہ دو لاکھ روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے افراد کا ٹیکس بھی نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ کی تیاری کے دوران ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس، کاروباری برادری اور مختلف شعبوں کے نمائندوں سے مسلسل مشاورت کی، کاروباری طبقے کی تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر ضروری اشیا کے استعمال پر عائد "پنک ٹیکس” ختم کر دیا گیا ہے جبکہ بجٹ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعت و برآمدات کو مزید تقویت ملے گی۔وزیر مملکت نے ہاؤسنگ سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کم آمدن والے افراد کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت اب تک 11 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں اس مد میں 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے گھر کی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بجٹ میں عام آدمی کے مفاد کو ترجیح دی گئی ہے۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق برآمدات میں اضافہ معیشت کی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے کیونکہ برآمد کنندگان کے منافع میں اضافے سے نئی صنعتیں قائم ہوتی ہیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے۔







