ڈیجی اسکلز نے مالی سال 26-2025میں 51 لاکھ سے زائد تربیتیں فراہم کیں

ڈیجی اسکلز نے مالی سال 26-2025میں 51 لاکھ سے زائد تربیتیں فراہم کیں

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل مہارتوں کے پروگرام ڈیجی اسکلز (ڈیجی سکلز )نے مالی سال 26-2025 کے جولائی تا مارچ کے دوران 51 لاکھ 40 ہزار سے زائد تربیتیں فراہم کیں، جس سے ملک کی ڈیجیٹل افرادی قوت کو تقویت ملی اور فری لانسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات اور آن لائن کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیجی اسکلز نے جولائی تا مارچ 2025-26 کے دوران 5.14 ملین سے زائد تربیتیں مکمل کیں، جس کے باعث یہ ملک کے سب سے بڑے ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے پروگراموں میں شامل ہو گیا ہے۔

اس پروگرام نے ٹیکنالوجی سے متعلق تعلیم تک رسائی کو وسعت دی ہے اور مختلف تعلیمی و سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کو ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈیجی اسکلز پاکستان کے فری لانسنگ شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو برآمدی آمدنی اور روزگار کے مواقع کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ڈیجی اسکلز کے تحت تربیت حاصل کرنے والے فری لانسرز نے جولائی تا مارچ 26-2025کے دوران تقریباً 1.65 ارب ڈالر کمائے، جو پروگرام کے معاشی اثرات اور زرمبادلہ کے حصول میں اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ تربیت حاصل کرنے والوں میں 70 فیصد مرد اور 30 فیصد خواتین شامل تھیں، جبکہ بیرونِ ملک مقیم 61 ہزار 754 سے زائد پاکستانی بھی اس پروگرام سے مستفید ہوئے۔رپورٹ کے مطابق پروگرام کا مقصد مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ڈیجیٹل مہارتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے۔

شرکاء کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے جو فری لانسنگ، کاروباری سرگرمیوں اور آن لائن روزگار کے مواقع کو فروغ دیتے ہیں۔ڈیجی اسکلز کے تحت فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO)، ای کامرس مینجمنٹ، کانٹینٹ کری ایشن، ورچوئل اسسٹنس اور دیگر ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں میں کورسز پیش کیے جا رہے ہیں۔پروگرام کی مسلسل توسیع ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

جولائی تا مارچ 26-2025کے دوران آئی سی ٹی برآمدی ترسیلات 19.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2.83 ارب ڈالر تھیں، جبکہ ٹیکنالوجی فری لانسرز کی برآمدات 51 فیصد اضافے کے ساتھ 856.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔رپورٹ کے مطابق ہنر مند ڈیجیٹل افرادی قوت کی دستیابی اس ترقی کے تسلسل اور عالمی ٹیکنالوجی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فری لانسنگ ہزاروں نوجوان پاکستانیوں کے لیے آمدنی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے، جس کے ذریعے وہ ملک چھوڑے بغیر بین الاقوامی گاہکوں تک رسائی حاصل کر کے زرمبادلہ کما رہے ہیں۔پروگرام نے مالی شمولیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں بھی مدد دی ہے، کیونکہ اس نے شرکاء کو آزادانہ آن لائن کاروبار اور خدمات پر مبنی منصوبے شروع کرنے کی ترغیب دی ہے۔

مزید خبریں